مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما و نو منتخب سینیٹر رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف انہیں جو بھی ذمہ داریں دیں گے وہ اسے دیانتداری سے ادا کریں گے۔

9مئی کیس میں سزا پانے والے سابق سینیٹر اعجاز چوہدری کی خالی نشست پر پنجاب اسمبلی میں آج انتخاب ہوا، پاکستان تحریک انصاف نے اس عمل کا مکمل بائیکاٹ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما رانا ثنااللہ سینیٹر منتخب

 پی ٹی آئی کا کوئی بھی رکن اسمبلی ووٹ ڈالنے نہیں آیا۔ ایک روز قبل ڈپٹی اپوزیشن لیڈر معین قریشی نے اعلان کیا تھا کہ 9 ستمبر کو ہونے والے سینیٹ الیکشن میں حصہ نہیں لیں گے۔

سابق سینیٹر اعجاز چوہدری کی اہلیہ نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروائے تھے تاہم آج کے الیکشن میں مسلم لیگ (ن) اور اتحادی جماعتوں کے تمام اراکین نے رانا ثنا اللہ کے حق میں ووٹ کاسٹ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف کا بائیکاٹ کرنا اپنے ممبران پر عدم اعتماد ہے، رانا ثنا اللہ

صوبائی الیکشن کمیشن کے مطابق رانا ثنا اللہ 250 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے، جبکہ انہیں ڈالے گئے کل 251 ووٹوں میں سے ایک مسترد ہوگیا۔

بعد ازاں پنجاب اسمبلی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ تحریک انصاف نے جمہوری عمل کا بائیکاٹ کرکے راہ فرار اختیار کی، پی ٹی آئی نے پہلے کاغذات کی پڑتال کا عمل مکمل کیا، پھر ہائیکورٹ گئے اور ناکامی کے بعد بائیکاٹ کا فیصلہ کیا، جو دراصل اپنے ہی اراکین پر عدم اعتماد ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کے 10 سے زائد ممبران مجھے ووٹ ڈالنا چاہتے تھے، اس لیے بائیکاٹ کیا گیا، رانا ثنا اللہ

انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے 10 سے 12 اراکین اسمبلی نے ان سے رابطہ کیا اور ووٹ دینے کی خواہش ظاہر کی۔

مزید گفتگو میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ کابینہ وزیراعظم کی ٹیم ہے اور ہر وزیر اپنی ذمہ داری نبھا رہا ہے، ایسا نہیں ہوتا کہ وزراء کی جگہیں تبدیل کی جائیں۔ شہباز شریف جو بھی ذمہ داری دیں گے وہ اسے دیانت داری سے ادا کریں گے۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news اعجاز چوہدری رانا ثنا سزائیں سینیٹ ضمنی الیکشن مسلم لیگ ن وزیراعظم شہباز شریف.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اعجاز چوہدری سینیٹ ضمنی الیکشن مسلم لیگ ن وزیراعظم شہباز شریف رانا ثنا اللہ پی ٹی آئی مسلم لیگ

پڑھیں:

واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار

واشنگٹن میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل کے درمیان ایک وسیع تر سیاسی و سیکیورٹی معاہدے کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں، تاہم زمینی صورتحال اب بھی نازک ہے اور جنوبی لبنان میں جھڑپوں اور فضائی حملوں کا سلسلہ مکمل طور پر نہیں رک سکا۔ ان مذاکرات کا مقصد لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ بندی کو مضبوط بنانا، سرحدی سلامتی کے معاملات حل کرنا اور ایک ایسے فریم ورک پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہے جو مستقبل میں ایک جامع سیاسی سمجھوتے کی بنیاد بن سکے۔

یہ بھی پڑھیں:لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

اس سلسلے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ حزب اللہ اسرائیل کی جانب سے متبادل اقدامات کی صورت میں مکمل جنگ بندی کے لیے آمادہ ہے، کیونکہ لبنانی قیادت جزوی یا محدود سیز فائر کے بجائے ایک جامع اور مستقل معاہدے کی حامی ہے۔ یاد رہے کہ اپریل 2026 میں واشنگٹن میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان کئی دہائیوں بعد براہِ راست مذاکرات کا آغاز ہوا تھا، جن میں سرحدی تنازعات، جنوبی لبنان کی سلامتی، جنگ بندی کے نفاذ اور طویل المدتی سیاسی انتظامات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

Day one of direct Israel–Lebanon talks in Washington, DC has concluded, US State Department spokesperson Tommy Pigott says, adding “progress continues” on political and security tracks, with another round scheduled for tomorrow.

???? LIVE coverage ⤵️ https://t.co/tsxQueIYdS

— Al Jazeera English (@AJEnglish) June 3, 2026

تاہم سفارتی پیشرفت کے باوجود زمینی حقائق اب بھی پیچیدہ ہیں۔ اسرائیل نے حالیہ دنوں میں جنوبی لبنان میں فضائی حملے جاری رکھے جبکہ حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، یہی وجہ ہے کہ مذاکراتی عمل کو ابھی حتمی کامیابی قرار نہیں دیا جا رہا۔ اگرچہ امریکی قیادت کی جانب سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا تھا کہ اسرائیل اور حزب اللہ نے فائرنگ روکنے پر اتفاق کر لیا ہے، تاہم بعد میں دونوں جانب سے متضاد بیانات اور بعض مقامات پر جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جس سے واضح ہوا کہ مستقل امن کے لیے مزید مذاکرات درکار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:اسرائیل کا لبنانی شہر ’صور‘ خالی کرنیکا حکم، شدید حملوں سے کشیدگی بڑھ گئی

اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو ممکنہ معاہدے میں جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلا، لبنانی فوج کی تعیناتی، سرحدی سلامتی کے نئے انتظامات اور اقوام متحدہ کی قرارداد 1701 پر عمل درآمد جیسے نکات شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم حزب اللہ کے اسلحے اور اس کے مستقبل کے کردار کا معاملہ اب بھی سب سے بڑا اختلافی نکتہ تصور کیا جا رہا ہے۔ مجموعی طور پر واشنگٹن مذاکرات مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم ضرور ہیں، لیکن لبنان، اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان دیرپا امن کے لیے ابھی کئی سیاسی اور سیکیورٹی رکاوٹیں عبور کرنا باقی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل امریکا لبنان واشنگٹن

متعلقہ مضامین

  • وزیر تعلیم پنجاب کا سمر کیمپ کے حوالے سے حکومتی ہدایت پر عملدرآمد نہ کرنے کا نوٹس
  • طالبان رجیم کیخلاف بغاوت؛ ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کیلیے نیاحکم جاری
  • امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے؟ امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کے وزیر خارجہ سے سخت سوالات
  • واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
  • ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات
  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر