انٹربینک اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں مزید تنزلی
اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT
کراچی:
انٹربینک اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں کمی کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق سیلاب کی تباہ کاریوں سے افراط زر کی شرح بڑھنے، شرح سود میں غیر متوقع طور پر اگلے دو سہ ماہیوں میں کمی نہ ہونے کے خدشات اور متعدد اہم ممالک کے ساتھ پاکستان کی شراکت داری جیسے عوامل کے باعث زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں بدھ کو بھی ڈالر کی نسبت روپیہ تگڑا رہا۔
پاکستان اور چین کے درمیان ساڑھے 8 ارب ڈالر کے سرمایہ کاری معاہدوں، سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلات زر کی آمد میں اضافے کا تسلسل برقرار رہنے کی امیدوں اور اچھے معاشی اشاریوں کے باعث انٹربینک مارکیٹ میں کاروبار کے تمام دورانیے میں ڈالر تنزلی سے دوچار رہا۔
مارکیٹ میں ایک موقع پر ڈالر کی قدر 26پیسے کی کمی سے 281 روپے 35پیسے کی سطح پر بھی آگئی تھی لیکن اختتامی لمحات سے قبل اچانک طلب بڑھنے سے ڈالر کی قدر ایک پیسے کی کمی سے 281روپے 60پیسے کی سطح پر بند ہوئی۔
اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی ڈالر کی قدر مزید 10پیسے کی کمی سے 282روپے 80پیسے کی سطح پر بند ہوئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ڈالر کی قدر مارکیٹ میں
پڑھیں:
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پیٹرول مہنگا ہو تو موٹرسائیکل سوار متاثر نہیں ہوتے، مشیر خزانہ کے بیان پر شدید ردعمل
نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
نئی قیمتیں نافذجاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر صارفین کو نئی قیمتوں کے مطابق ادائیگی کرنا ہوگی۔
عوام پر مزید مالی دباؤ کا خدشہمعاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ آ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:ایران جنگ کے اثرات: پیٹرول مہنگا، یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ
ڈیزل کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر مال بردار ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
حکومت ہر 15 روز بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور ٹیکسوں کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتی تھی لیکن اب روزانہ کی بنیاد پر یہ عمل جاری ہے۔
اسی جائزہ عمل کے تحت تازہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتیں ملک بھر میں نافذ العمل ہو گئی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پیٹرول پیٹرولیم مصنوعات درآمدی لاگت ڈیزل روپے کی قدر عالمی منڈی مہنگا