حکومت نے گھریلو استعمال کیلئے نئے گیس کنکشنز پر عائد پابندی اٹھالی
اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT
حکومت نے گھریلو استعمال کیلئے نئے گیس کنکشنز پر عائد پابندی اٹھالی WhatsAppFacebookTwitter 0 10 September, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)حکومت نے گھریلو استعمال کیلئے نئے گیس کنکشنز پر عائد پابندی اٹھالی۔وفاقی وزرا علی پرویز ملک اور ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے مشترکہ پریس کانفرنس کی، میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ،علی پرویزملک نے کہا کہ وفاقی کابینہ کیاجلاس میں اہم فیصلیہوئے، کابینہ اجلاس میں میجرعدنان اسلم شہید کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی گئی۔
علی پرویز ملک نے کہا کہ ہم دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پرعزم ہیں، سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔انہوں نے کہا کہ عوام کی سہولت کے لیے آر ایل این جی کے نئے کنکشنز کا اجرا کیا جائے گا، آر ایل این جی درآمدی ایل پی جی سے 35 فیصد تک سستی ہوگی۔طارق فضل چودھری نے کہا کہ کابینہ اجلاس میں سیلاب کی صورتحال اور نقصانات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، وفاقی کابینہ نے فوری موسمیاتی ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے کابینہ نے زرعی ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا، چاروں صوبوں، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان حکومتوں سے مشاورت ہوگی۔طارق فضل چودھری نے کہا کہ وزیراعظم جلد چاروں وزرائیاعلی سے میٹنگ کریں گے، وزیراعظم شہبازشریف نے چین کا کامیاب دورہ کیا، چین نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا، پاکستان اور چین کی دوستی نئے دور میں داخل ہو رہی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ 2021 سے گھریلو صارفین کے گیس کنکشن پر پابندی عائد تھی، آج وزیراعظم نے فیصلہ کیا ہے کہ گیس کنکشن دیئے جائیں گے، گیس کنکشن نہ ہونے سے جو مشکلات تھیں اب وہ دور ہو جائیں گی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسابق ڈی جی نیب لاہورسلیم شہزاد اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے سابق ڈی جی نیب لاہورسلیم شہزاد اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت اجلاس، کیپیٹل ہسپتال کو اسٹیٹ لائف انشورنس کے پینل میں شامل کرنے کا فیصلہ قومی بیانیے کی تشکیل کیلئے قومی پیغام امن کمیٹی قائم، نوٹیفکیشن جاری سینیٹر عرفان صدیقی کے نام پر اراکین قومی اسمبلی کو مالی فراڈ کا نشانہ بنائے جانے کا انکشاف برطانیہ میں ڈیفنس اینڈ سیکیورٹی ایکوپمنٹ انٹرنیشنل ایکسپو 2025 میں شرکت کرنیوالے سعودی پویلین کا باضابطہ افتتاح وفاقی کابینہ کا اجلاس، سیلابی صورتحال کے پیش نظر کلائمیٹ ایمرجنسی اور زرعی ایمرجنسی کے نفاذ کی اصولی منظوریCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔