وفاقی کابینہ نے پاک فوج مخالف مہم چلانے والوں کے خلاف کارروائی کی ہدایت کردی
اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT
وفاقی کابینہ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر شہدا اور افواجِ پاکستان کے خلاف تضحیک آمیز مواد اور بیانات کی شدید مذمت کرتے ہوئے شرپسند عناصر کے سدباب کے لیے سخت کارروائی کی ہدایت کردی۔
کابینہ نے افواجِ پاکستان کے افسران و جوانوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جو سرحدوں کی حفاظت اور ملک میں امن قائم رکھنے کے لیے عظیم قربانیاں دے رہے ہیں، جبکہ شہدا اور ان کے اہل خانہ کو بھی بھرپور انداز میں یاد کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: فوج مخالف پیغام شیئر کرنے پر نادرا کی خاتون افسر گرفتار
کابینہ اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہاکہ ایسے عناصر کی ہر فورم پر حوصلہ شکنی اور ان کی تضحیک آمیز مہم کا جواب دینا قومی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے واضح کیاکہ پاکستانی قوم اپنے شہدا اور ان کے اہل خانہ کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔ کابینہ نے بنوں آپریشن میں شہید ہونے والے میجر عدنان اسلم کے درجات کی بلندی کے لیے دعا بھی کی۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں مون سون اور سیلابی صورتحال کے پیش نظر کلائیمیٹ ایمرجنسی اور زرعی ایمرجنسی کے نفاذ کی اصولی منظوری دی گئی۔
وزیرِ اعظم نے اعلان کیاکہ وہ جلد چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور متعلقہ حکام پر مشتمل اجلاس کی صدارت کریں گے، جہاں موسمیاتی تبدیلی کے مضر اثرات سے بچاؤ کے لیے مستقبل کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔
کابینہ کو ملک میں سیلابی صورتحال اور نقصانات پر بریفنگ دی گئی، جس کے بعد ایمرجنسی کے نفاذ کا فیصلہ ہوا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ لاکھوں ایکڑ زرعی اراضی اور فصلیں متاثر ہوئیں، جبکہ انفراسٹرکچر کی بحالی، کسانوں کی معاونت اور نقصانات کے ازالے کے لیے تجاویز پیش کی گئیں۔
وزیراعظم نے گزشتہ روز دوحہ میں اسرائیلی فورسز کی غیر قانونی اور گھناؤنی بمباری کی شدید مذمت کی، جس سے قیمتی جانوں کا ضیاع اور املاک کو نقصان پہنچا۔ انہوں نے امیرِ قطر، شاہی خاندان اور عوام کے ساتھ گہری ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کا ’ایکس اکاؤنٹ‘ فوج مخالفت میں استعمال ہو رہا ہے، فواد چوہدری
عوامی ریلیف کے لیے وزیراعظم کی ہدایت پر بڑا اقدام اٹھایا گیا اور وفاقی کابینہ نے وزارتِ پیٹرولیم کی سفارش پر گیس کنکشنز کے منتظر صارفین کو ’آر ایل این جی‘ کنکشن فراہم کرنے کی منظوری دے دی۔ بتایا گیا کہ ’آر ایل این جی‘ صارفین کے لیے ایل پی جی کے مقابلے میں 30 فیصد کم لاگت پر دستیاب ہوگی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews شہباز شریف فوج مخالف مہم کارروائی کی ہدایت وزیراعظم پاکستان وفاقی کابینہ وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: شہباز شریف فوج مخالف مہم کارروائی کی ہدایت وزیراعظم پاکستان وفاقی کابینہ وی نیوز وفاقی کابینہ کابینہ نے کی ہدایت کے لیے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔