جامعہ کراچی؛ ایوی ایشن ٹیکنالوجی اینڈ منیجمنٹ میں چار سالہ بی ایس پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT
کراچی:
جامعہ کراچی کی انتظامیہ نے "ایوی ایشن ٹیکنالوجی اینڈ منیجمنٹ" میں چار سالہ ڈگری پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے پروگرام انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے تحت شروع کیا جائے گا اور تعلیمی سال 2026 کے لیے پروگرام میں داخلوں کا اعلان کراچی یونیورسٹی کی داخلہ پالیسی کے ساتھ ہی کردیا جائے گا۔
واضح رہے کہ جامعہ کراچی میں سال 2026 کے داخلوں کی پالیسی کی منظوری کے لیے اکیڈمک کونسل کا اجلاس جمعرات کی دوپہر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد عراقی کی زیر صدارت ہورہا ہے، داخلہ کمیٹی کی تجویز کے تحت انٹر کے نتائج کے جلد اجراء کے سبب اس بار داخلے ایک ماہ قبل شروع ہونے ہیں،گزشتہ برس داخلوں کا اعلان اکتوبر کے آخری ہفتے میں اور داخلہ ٹیسٹ نومبر میں ہوئے تھے جبکہ اس بار داخلوں کا اعلان ستمبر کے آخر میں اور داخلہ ٹیسٹ اکتوبر میں ہونے کی تجویز ہے۔
علاوہ ازیں جامعہ کراچی کے انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس سائنس کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال نے "ایکسپریس" کو بتایا کہ ایوی ایشن ٹیکنالوجی اینڈ منیجمنٹ کا پروگرام گزشتہ برس ہی اکیڈمک کونسل سے منظور ہوچکا ہے لیکن تاخیر سے منظوری کے سبب گزشتہ برس اس میں داخلے نہیں ہوسکے تھے۔
داخلوں کے میرٹ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ داخلے مارننگ اور ایوننگ پروگرام میں 50/50 نشستوں پر دیے جانے کی تجویز ہے جو داخلہ ٹیسٹ کی بنیاد پر ہونگے اور انٹر پری انجینئرنگ سے کرنے والے طلبہ پروگرام میں داخلہ درخواست دینے کے اہل ہونگے۔
ڈاکٹر جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ ایوی ایشن پروگرام میں ایرو اسپیس ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ منیجمنٹ کے کورسز بھی شامل کیے گئے ہیں اور یہ کورسز ایوی ایشن اور ایئر لائنز کی مارکیٹ ڈیمانڈ کو سامنے رکھتے ہوئے شامل کیے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ انٹر بورڈ کراچی سائنس پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، سائنس جنرل اور کامرس (ریگولر) کے نتائج جاری کرچکا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جامعہ کراچی پروگرام میں ایوی ایشن
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔