قطر پر حملے پر احتجاج؛ کینیڈا کا بھی اسرائیل پر پابندیاں عائد کرنے کا عندیہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT
کینیڈا نے اعلان کیا ہے کہ قطر میں حماس رہنماؤں پر حملے کے بعد اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کا ازسرِ نو جائزہ لے رہے ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق کینیڈا کی وزیرِ خارجہ انیتا آنند نے کہا کہ دوحہ میں اسرائیلی حملہ کسی طور قابل قبول نہیں ہے۔ خاص طور پر جب قطر مشرقِ وسطیٰ میں امن قائم کرنے کی کوششوں میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
وزیر خارجہ انیتا آنند نے حکمران لبرل پارٹی کے اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ہم اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
جب ان سے سوال کیا گیا کہ کینیڈا بھی اسرائیل پابندیاں عائد کرسکتا ہے تو وزیر خارجہ نے کہا کہ "ہم اپنے اگلے اقدامات کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب یورپی کمیشن کی صدر ارزولا فان ڈئر لاین نے اسرائیل پر پابندیاں لگانے اور اس کے لیے تعاون کم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
خیال رہے کہ کینیڈا کا اسرائیل کے حوالے سے مؤقف وزیرِاعظم مارک کارنی کے اقتدار میں آنے کے بعد سخت ہوا ہے۔
کارنی نے جولائی میں اعلان کیا تھا کہ کینیڈا فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کرے گا، جس پر اسرائیل نے شدید ردعمل دیا۔
سابق وزیرِاعظم جسٹن ٹروڈو عام طور پر اسرائیل کی حمایت کرتے تھے لیکن بعض اوقات فوجی کارروائیوں پر تنقید بھی کرتے رہے۔
کارنی نے منگل کو اسرائیلی فضائی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے "ناقابلِ برداشت اور تشویشناک تشدد" قرار دیا جو پورے خطے میں تنازع کو مزید بھڑکا سکتا ہے۔
انہوں نے گزشتہ ماہ یہ بھی کہا تھا کہ غزہ سٹی پر اسرائیل کا قبضے کا منصوبہ "غلط" ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔