سوئس سائیکلسٹ بیٹریس فیشیلی چترال پہنچ گئیں، ان کو کیا چیز بار بار پاکستان کھینچ لاتی ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT
سوئٹزرلینڈ سے تعلق رکھنے والی خاتون سائیکلسٹ بیٹریس فیشیلی سیاحوں کے ایک گروپ کے ہمراہ سائیکل پر گلگت بلتستان کے حسین علاقوں کی سیر کرتی ہوئی چترال پہنچ گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان کے نوجوان سائیکلسٹ ٹورازم کے فروغ کے لیے کشمیر پہنچ گئے
بیٹریس فیشیلی کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا کے عوام کی مہمان نوازی ہی انہیں بار بار پاکستان کھینچ لاتی ہے۔
بیٹریس فیشیلی نے چترال میں گرم چشمہ، چترال شہر اور کیلاش جیسے اہم اور ثقافتی مقامات کا دورہ سائیکل پر کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے لوگ نہایت محبت کرنے والے اور خوش اخلاق ہیں اور یہی رویہ پاکستان کو دنیا میں ممتاز بناتا ہے۔
مزید پڑھیے: آسٹریا کی جوڈو پلئیر و سائیکلسٹ سبرینا فلزموزر کراچی سے K2 کے سفر پر گامزن
خاتون سائیکلسٹ کو خیبرپختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی کی جانب سے چترال پہنچنے پر خوش آمدید کہا گیا اور ان کی موجودگی کو بین الاقوامی سیاحت کے فروغ میں مثبت پیشرفت قرار دیا گیا۔
’کے پی والوں نے مجھے اپنا بنالیا‘بیٹریس نے کہا کہ میں گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان آ رہی ہوں اور ہر بار یہاں کے لوگوں سے جو خلوص اور پیار ملتا ہے وہ دنیا میں کہیں اور نہیں دیکھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا کے لوگوں نے مجھے اپنا سا بنا لیا ہے۔
مزید پڑھیں: امریکی خاتون دنیا کی تیز ترین سائیکلسٹ بن گئیں
ان کی یہ سیاحت نہ صرف ایڈونچر ٹورازم کو فروغ دیتی ہے بلکہ پاکستان اور خاص طور پر خیبرپختونخوا کے بارے میں دنیا میں ایک مثبت تاثر بھی اجاگر کرتی ہے۔ دیکھیے یہ ویڈیو رپورٹ۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سوئس سائیکلسٹ بیٹریس فیشیلی سوئس سائیکلسٹ چترال میں سوئس سائیکلسٹ کا دورہ پاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سوئس سائیکلسٹ کا دورہ پاکستان خیبرپختونخوا کے بیٹریس فیشیلی سوئس سائیکلسٹ
پڑھیں:
افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
افغانستان کے صوبہ نورستان میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 40 سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ متعدد افراد اب بھی لاپتا ہیں۔ اقوام متحدہ نے بتایا ہے کہ امدادی اور ریسکیو کارروائیاں بدستور جاری ہیں، تاہم متاثرہ علاقوں میں خوراک، صاف پانی، رہائش اور طبی سہولیات کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے نیوز بریفنگ میں بتایا کہ حالیہ سیلاب نے نورستان میں گھروں، سرکاری عمارتوں اور تجارتی مراکز کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو ٹیمیں لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہیں، جبکہ ہلاکتوں اور نقصانات کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
Las devastadoras inundaciones que
azotan la provincia oriental de Nuristan han dejado un saldo
preliminar de al menos 20 muertos, 80 heridos y más de 100
personas desaparecidas, incluido el alcalde de la capital
provincial de Parun. pic.twitter.com/f2pXZ5kCgA
— Guillermo Gomez (@G_GomezJ) July 22, 2026
اقوام متحدہ کے مطابق متاثرہ علاقوں میں موبائل ہیلتھ ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں، طبی مراکز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور خوراک، ادویات اور دیگر ہنگامی امدادی سامان کی فراہمی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ متاثرین کو فوری طور پر عارضی رہائش، خوراک، طبی سہولیات، بنیادی استعمال کی اشیا اور نفسیاتی معاونت کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب عالمی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) نے کہا ہے کہ اچانک آنے والے سیلاب سے گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کے باعث متعدد خاندان کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ادارے کے مطابق کئی متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو پینے کے صاف پانی اور خوراک تک رسائی حاصل نہیں، جبکہ امدادی ٹیمیں نقصانات کا جائزہ لے کر فوری امداد کی فراہمی کی تیاری کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں قیامت خیز سیلاب، 23 افراد جاں بحق، 100 لاپتا
طالبان حکام نے ابتدائی طور پر ہلاکتوں کی تعداد 23 بتائی تھی اور کہا تھا کہ 100 سے زائد افراد لاپتا جبکہ 80 زخمی ہیں، تاہم اقوام متحدہ اور دیگر ذرائع کے مطابق اب ہلاکتیں 40 سے بڑھ چکی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو اور نقصانات کے تخمینے کا عمل جاری ہے، اس لیے اعداد و شمار میں مزید تبدیلی آ سکتی ہے۔
آئی او ایم نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث قدرتی آفات کا زیادہ شکار ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اور ’ایل نینو‘ جیسے موسمی عوامل شدید بارشوں اور اچانک سیلاب کے خطرات میں اضافہ کر رہے ہیں، جبکہ افغانستان کی جغرافیائی اور معاشی کمزوری اسے ایسی آفات کے لیے مزید حساس بناتی ہے۔ عالمی ادارے نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ متاثرہ آبادی کو ہنگامی امداد کی فراہمی میں افغان حکام کی معاونت جاری رکھے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان سیلاب نورستان