اسلام آباد:

وزیراعظم شہباز شریف سے بنگلا دیشی مشیر مذہبی امور نے ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان براہ راست پروازوں کی بحالی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

میڈیا ونگ پی ایم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق  وزیراعظم محمد شہباز شریف سے بنگلا دیش کے مشیر برائے مذہبی امور ڈاکٹر اے ایف ایم خالد حسین کی ملاقات ہوئی۔  اس موقع پر پاکستان میں بنگلا دیش کے ہائی کمشنر محمد اقبال حسین خان بھی موجود تھے۔

 وزیراعظم نے ڈاکٹر حسین اور ان کے وفد کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ پاکستان اور بنگلا دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات مشترکہ تاریخ، ثقافتی روابط اور گہری وابستگیوں پر مبنی ہیں۔   عوامی روابط، علمی تبادلوں، تجارتی اور اقتصادی تعلقات سمیت دوطرفہ تعلقات کی مثبت سمت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے مزید فروغ کی ضرورت پر زور دیا۔

 نیویارک اور قاہرہ میں ہونے والی ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس کی دور اندیش قیادت اور غربت کے خاتمے میں ان کے کردار کے ساتھ ساتھ پاکستان اور بنگلا دیش کے تعلقات کو مضبوط بنانے کی خواہش کو سراہا۔

 ڈاکٹر حسین نے اپنے خیرمقدم پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان اور بنگلا دیش کے درمیان برادرانہ تعلقات تاریخی روابط اور مشترکہ عقیدے سے جڑے ہوئے ہیں۔

 ڈاکٹر حسین نے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس کا ایک خط بھی وزیر اعظم کے حوالے کیا جس میں پاکستان میں سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان پر تعزیت کا اظہار کیا گیا اور امداد کی پیشکش کی گئی۔

ملاقات میں پاکستان اور بنگلا دیش کے درمیان براہ راست پروازوں کی جلد بحالی کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

 وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک دوطرفہ تعلقات میں موجودہ رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے اعلیٰ سطح کے دوروں کا تبادلہ جاری رکھیں گے۔  اس سلسلے میں وزیراعظم نے چیف ایڈوائزر کو پاکستان کا سرکاری دورہ کرنے کی دعوت کا اعادہ کیا۔  بنگلا دیشی مشیر نے بھی وزیر اعظم کو چیف ایڈوائزر اور حکومت کی جانب سے بنگلا دیش کے دورے کی دعوت دی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستان اور بنگلا دیش کے چیف ایڈوائزر کے درمیان سے بنگلا

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان

پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔

مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔

وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔

مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم