وزیراعظم سے بنگلادیشی مشیر مذہبی امور کی ملاقات، براہ راست پروازوں کی بحالی پر تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT
اسلام آباد:
وزیراعظم شہباز شریف سے بنگلا دیشی مشیر مذہبی امور نے ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان براہ راست پروازوں کی بحالی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
میڈیا ونگ پی ایم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف سے بنگلا دیش کے مشیر برائے مذہبی امور ڈاکٹر اے ایف ایم خالد حسین کی ملاقات ہوئی۔ اس موقع پر پاکستان میں بنگلا دیش کے ہائی کمشنر محمد اقبال حسین خان بھی موجود تھے۔
وزیراعظم نے ڈاکٹر حسین اور ان کے وفد کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ پاکستان اور بنگلا دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات مشترکہ تاریخ، ثقافتی روابط اور گہری وابستگیوں پر مبنی ہیں۔ عوامی روابط، علمی تبادلوں، تجارتی اور اقتصادی تعلقات سمیت دوطرفہ تعلقات کی مثبت سمت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے مزید فروغ کی ضرورت پر زور دیا۔
نیویارک اور قاہرہ میں ہونے والی ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس کی دور اندیش قیادت اور غربت کے خاتمے میں ان کے کردار کے ساتھ ساتھ پاکستان اور بنگلا دیش کے تعلقات کو مضبوط بنانے کی خواہش کو سراہا۔
ڈاکٹر حسین نے اپنے خیرمقدم پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان اور بنگلا دیش کے درمیان برادرانہ تعلقات تاریخی روابط اور مشترکہ عقیدے سے جڑے ہوئے ہیں۔
ڈاکٹر حسین نے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس کا ایک خط بھی وزیر اعظم کے حوالے کیا جس میں پاکستان میں سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان پر تعزیت کا اظہار کیا گیا اور امداد کی پیشکش کی گئی۔
ملاقات میں پاکستان اور بنگلا دیش کے درمیان براہ راست پروازوں کی جلد بحالی کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک دوطرفہ تعلقات میں موجودہ رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے اعلیٰ سطح کے دوروں کا تبادلہ جاری رکھیں گے۔ اس سلسلے میں وزیراعظم نے چیف ایڈوائزر کو پاکستان کا سرکاری دورہ کرنے کی دعوت کا اعادہ کیا۔ بنگلا دیشی مشیر نے بھی وزیر اعظم کو چیف ایڈوائزر اور حکومت کی جانب سے بنگلا دیش کے دورے کی دعوت دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستان اور بنگلا دیش کے چیف ایڈوائزر کے درمیان سے بنگلا
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔