ایس آئی ایف سی اور ایس ای سی پی کی کوششوں کے نتیجے میں ملک میں سرمایہ کاری اور کاروباری وسعت کا نیا دور شروع ہوگیا۔

اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلٹی کونسل (ایس آئی ایف سی) کی موثر حکمت عملی سے پاکستان میں کاروباری مواقع اور سرمایہ کاری میں نمایاں وسعت پیدا ہوئی ہے۔ اگست 2025 میں سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن  آف پاکستان (ایس ای سی پی)   کے تحت 3 ہزار 278 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن مکمل ہوئی ہے، جس کے بعد پاکستان میں رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد  2  لاکھ 65 ہزار 587 ہوگئی ہے۔

اگست میں 7.

74 ارب روپے کا سرمایہ ریکارڈ کیا گیا۔ علاوہ ازیں ایس ای سی پی کی جانب سے 37 نئے لائسنس کا اجرا بھی کامیابیوں کی فہرست میں شامل ہے۔ نئی رجسٹریشن میں 59 فیصد پرائیویٹ لمیٹڈ، 39 فیصد واحد رکن کمپنیاں اور بقیہ میں  پبلک اَن لسٹڈ ادارے شامل ہیں۔

ان اداروں میں آئی ٹی اور ای کامرس کا شعبہ 670 نئی کمپنیوں کے ساتھ سرفہرست ہے جب کہ ٹریڈنگ، سروسز اور کنسٹرکشن سیکٹرز بھی نمایاں ہیں۔ دیگر فعال شعبوں میں سیاحت، ٹرانسپورٹ، فوڈ، ایجوکیشن، ٹیکسٹائل اور فارماسیوٹیکل شامل ہیں۔

ایس آئی ایف سی اور ایس ای سی پی کی کوششوں کے نتیجے میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں مثبت رجحان   بڑھتا جا رہا ہے۔ 78 نئی کمپنیوں کو عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد حاصل ہے۔ ایس آئی ایف سی کی معاونت سے پاکستان کاروباری وسعت، سرمایہ کاری اور عالمی شراکت داری کے نئے دور میں داخل ہو چکا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ایس ای سی پی کی ایس آئی ایف سی سرمایہ کاری اور ای

پڑھیں:

موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے)نے موبائل کمپنیوں کو غیرمعیاری سروس اور کوریج پر خامیاں دور کرنے کے لیے 30دن کی مہلت دے دی اور بتایا کہ مذکورہ کمپنیوں کو گزشتہ چار برس میں 3 ارب 41 کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔

پی ٹی اے کے مطابق ملک بھر میں موبائل سروس کے معیار اور کوریج میں بہتری کے لیے ریگولیٹری کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں۔

 پی ٹی اے نے سروس میں خامیوں پر موبائل آپریٹرز کو 30 روز میں ضروری اقدامات کرنے اور خرابیوں کی وجوہات کا تعین کرکے اصلاحی پلان جمع کرانے کی ہدایت کردی ہے۔

موبائل کمپنیوں کو خبردار کرتے ہوئے پی ٹی اے نے کہا ہے کہ خامیاں دور نہ کرنے والے آپریٹرز کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔

پی ٹی اے کے مطابق گزشتہ چار برس کے دوران موبائل کمپنیوں کو 3 ارب 41کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں اور کوالٹی آف سروس اور کوریج کی خلاف ورزیوں پر 20وارننگ لیٹرز اور 86 شوکاز نوٹسز بھی جاری کیے جاچکے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان۔ترکیہ بزنس کانفرنس کاروبار کے نئے مواقع پیدا کرے گی : ہارون اختر خان
  • سٹاک مارکیٹ میں مندی، کاروبار کا منفی رجحان رہا
  • پاکستان اور آذربائیجان نے دیرینہ دوستی مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کردیا
  • پاکستان کے زرمبادلہ میں اضافے کے لیے سرمایہ کاری ناگزیر، قونصلیٹ ہر ممکن تعاون کرے گا: قونصل جنرل سید مصطفیٰ ربانی
  • وزیرِ پیٹرولیم کی بین الاقوامی توانائی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات
  • عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم