سپریم کورٹ نے تہرے قتل کے مجرم کی سزائے موت، عمر قید میں کیوں تبدیل کی؟
اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT
سپریم کورٹ نے مردان کے رہائشی ملزم امین کی تہرے قتل کے مقدمے میں سنائی گئی سزائے موت کو عمر قید میں بدل دیا۔ جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔
ملزم کے وکیل ارشد حسین یوسفزئی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ تینوں ملزمان پر مشترکہ الزام عائد کیا گیا تھا جبکہ ڈاکٹر کی میڈیکل رپورٹ پولیس رپورٹ کے مطابق نہیں تھی۔
مزید پڑھیں: جج کے بیٹے کے قتل کیس میں تفتیش پر سوالات، سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا
وکیل کا کہنا تھا کہ ریکارڈ میں ایسا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں جس سے ثابت ہو کہ قتل عناد کی وجہ سے کیا گیا۔
ملزم امین کے خلاف 19 مئی 1999 کو مردان میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ٹرائل کورٹ نے ملزم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد میں ہائی کورٹ نے بھی برقرار رکھا تھا۔
تاہم سپریم کورٹ نے شواہد اور دلائل کا جائزہ لینے کے بعد سزا کو عمر قید میں تبدیل کر دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
تہرے قتل کا مجرم سپریم کورٹ سزائے موت، عمر قید.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: تہرے قتل کا مجرم سپریم کورٹ سزائے موت سپریم کورٹ نے سزائے موت
پڑھیں:
چین کا اے آئی بلیک بورڈ: استاد کی آواز اور لکھائی سمجھ کر سبق کو تھری ڈی ماڈل میں تبدیل کرنے والی ٹیکنالوجی
چین کی معروف مصنوعی ذہانت کمپنی آئی فلائی ٹیک نے ایسا جدید ‘اے آئی بلیک بورڈ’ متعارف کرا دیا ہے جو استاد کی آواز، ہاتھ کی لکھائی اور تدریسی مواد کو سمجھ کر اسے فوری طور پر ڈیجیٹل نوٹس اور تھری ڈی ماڈلز میں تبدیل کر دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چینی اے آئی ایپ سیڈانس نے ہالی ووڈ میں ہلچل مچا دی
کمپنی نے نئے ژونگ فی ٹونگ شوان اے آئی بلیک بورڈ کی نمائش شنگھائی میں منعقد ہونے والی عالمی مصنوعی ذہانت کانفرنس 2026ء میں کی۔ مظاہرے کے دوران دیکھا گیا کہ استاد عام انداز میں بورڈ پر مساوات یا خاکہ بناتا ہے، جسے یہ ذہین بورڈ فوری طور پر انٹرایکٹو گراف اور تھری ڈی ماڈل میں تبدیل کر دیتا ہے۔
طلباء ان تھری ڈی ماڈلز کو مختلف زاویوں سے دیکھ سکتے ہیں، انہیں گھما سکتے ہیں اور ضرورت کے مطابق بڑا یا چھوٹا کر سکتے ہیں، جس سے مشکل موضوعات کو سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ بورڈ خاص طور پر ریاضی، جیومیٹری، کیمیا اور طبیعیات جیسے مضامین کی تدریس کو آسان بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس میں آواز کو سمجھنے، زبان کا تجزیہ کرنے اور ہاتھ سے لکھی تحریر کو شناخت کرنے والی جدید ٹیکنالوجی شامل ہے۔
اے آئی بورڈ کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ کلاس میں لکھے گئے تمام نوٹس کو خودکار طور پر ڈیجیٹل شکل میں محفوظ کر لیتا ہے، جس سے طلباء کو لیکچر دوبارہ لکھنے کی ضرورت نہیں رہتی جبکہ اساتذہ مواد کو محفوظ، ترمیم اور شیئر بھی کرسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: شادی کرلو ورنہ میری طرح پچھتاؤگے، چینی نوجوانوں کو ’اے آئی خواتین‘ کی دل دہلادینے والی نصیحتیں
رپورٹس کے مطابق چین کے 33 صوبوں کے 60 ہزار سے زائد اسکولوں میں 16 کروڑ سے زیادہ طلباء اور اساتذہ پہلے ہی اسمارٹ تعلیمی نظام سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
آئی فلائی ٹیک کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کا مقصد استاد کی جگہ لینا نہیں بلکہ تدریسی عمل کو بہتر بنانا ہے، تاکہ اساتذہ انتظامی کاموں کے بجائے طلباء کی تخلیقی صلاحیتوں اور بہتر سیکھنے پر زیادہ توجہ دے سکیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news استاد اسمارٹ کلاس روم اے آئی ٹیکنالوجی اے آئی تھری ڈی ماڈل چین ڈیجیٹل لرننگ روبوٹکس مصنوعی ذہانت