دہلی ہائیکورٹ: بم کی دھمکی پر کارروائی معطل، ججز کی ہنگامی منتقلی
اشاعت کی تاریخ: 12th, September 2025 GMT
جمعہ کی صبح ایک ای میل کے ذریعے بم دھماکے کی دھمکی موصول ہونے کے بعد دہلی ہائیکورٹ کو خالی کرالیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق دھمکی آمیز ای میل موصول ہونے کے بعد عدالت میں موجود جج حضرات کو ہنگامی طور پر 11 بج کر 40 منٹ پر کارروائی روک کر ججز لاؤنج منتقل کردیا گیا۔
حکام کے مطابق دہلی ہائی کورٹ کے رجسٹرار جنرل اور دیگر آفیشل ای میل آئی ڈیز پر صبح 10 بج کر 41 منٹ پر ایک ای میل موصول ہوا جس میں ’ججز چیمبرز‘ میں بم دھماکے کی دھمکی دی گئی تھی تاہم کسی خاص نام کا ذکر نہیں کیا گیا تھا۔
دوپہر 12 بج کر 20 منٹ تک دہلی ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر این ہری ہرن، عدالتی عملہ اور سکیورٹی اہلکاروں نے عدالت کے احاطے کو خالی کروانا شروع کر دیا تاکہ سرچ آپریشن کیا جا سکے۔
ایک پولیس افسر کے مطابق، ہائیکورٹ سے اطلاع ملتے ہی بم ڈٹیکشن ٹیم، بم ڈسپوزل اسکواڈ، ڈاگ اسکواڈ اور فائربریگیڈ کے اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور سرچنگ کا عمل جاری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بم دہلی ہائیکورٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: دہلی ہائیکورٹ
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔