راولپنڈی؛ غیرت کے نام پر 17 سالہ لڑکی کا قتل؛ والدین، بہن بھائی اور دیگر حقیقی ملزمان قرار
اشاعت کی تاریخ: 12th, September 2025 GMT
غیرت کے نام پر 17 سالہ لڑکی کے قتل میں والدین، بہن بھائی اور دیگر قریبی رشتے دار حقیقی ملزمان قرار دے دیے گئے۔
تھانہ پیر ودھائی کے علاقے میں 17سالہ سدرہ بی بی کے غیرت کے نام پر قتل کے معاملے میں تفتیشی ٹیم نے مقدمے کا چالان پیش کر دیا۔ چالان ٹرائل کے لیے ماڈل کورٹ ٹرانسفر کردیا گیا، جس میں مقتولہ کا والد،والدہ،بہنیں،بھائی،پہلا شوہر،سسر،چچا حقیقی ملزمان قرار دیے گئے ہیں۔
علاوہ ازیں قتل کا فتویٰ دینے والا مسلم لیگ ن کا رہنما عصمت اللّہ خان بھی مرکزی ملزم قرار دیا گیا ہے۔ چالان میں گورکن،لاش گھر سے شدید بارش میں لوڈر رکشہ پر قبرستان لانے والا ڈرائیور بھی ملزمان قرار دیے گئے ہیں۔
چالان میں نامزد گرفتار9ملزمان اڈیالہ جیل میں قید ہیں جب کہ 18 مفرور ملزمان اشتہاری قرار دیے گئے ہیں۔ ماڈل کورٹ سے آئندہ ہفتے جیل سے تمام ملزمان کی طلبی کے بعد چالان کی نقول تقسیم کی جائیں گی۔
تفتیشی ٹیم کے چالان کے مطابق میڈیکل بورڈ رپورٹ اور فرانزک رپورٹ میں موت گلا دبانے سے قرار دی گئی ہے جب کہ گلا دبانے والا تکیہ،لاش لے جانے والا لوڈر رکشہ مال مقدمہ بنا دیا گیا ہے۔
چالان میں کہا گیاہے کہ تمام ملزمان نے باہم مشاورت،میٹنگ،جرگے میں یک صلاح یک زبان ہوکر قتل کیا۔ تمام ملزمان قتل کے قصور وار ہیں۔ سب کو قتل الزام میں سزائے موت دی جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: دیے گئے
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔