مسلم حکمرانوں کے اخلاق و کردار کو دیکھتے ہوئے مجھے واقعہ جنگ یرموک یاد آگیا۔ سید امیر علی یرموک کے متعلق لکھتے ہیں۔ ’’ یرموک ایک غیر معروف دریا ہے جو جولان کی سطح سے نکل کر جھیل گیلیلی کے جنوب میں چند میل کے فاصلے پر دریائے اردن میں جا گرتا ہے۔
دونوں دریاؤں کے مقام اتصال سے تین میل اوپر ’’ دریائے یرموک‘‘ نصف دائرے کی صورت میں ایک چکرکاٹتا ہے جس سے اتنا وسیع میدان بن جاتا ہے کہ اس میں ایک پوری فوج سما سکتی ہے۔ اس دریا کے کنارے گہرے کھڈ تھے، اس وادی کو واقوصہ کہتے ہیں جسے اسلامی تاریخ میں زبردست شہرت حاصل ہے۔‘‘
جنگ یرموک رومیوں اور مسلمانوں کے درمیان ہونے والا عظیم الشان معرکہ ہے، رومیوں کا لشکر ڈھائی لاکھ جنگجوؤں پر مشتمل تھا جب کہ مسلمانوں کی مجموعی تعداد چھتیس ہزار اور بعض روایات کے مطابق چھیالیس ہزار تھی، ساتھ میں ایک خاص بات یہ بھی تھی کہ رومی افواج ایک کمان کے تحت پوری طرح منظم تھی۔
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس بات پر غور کیا کہ مسلمانوں کی فوج پانچ حصوں میں بٹی ہوئی ہے اور اپنے اپنے امیرکے ماتحت علیحدہ علیحدہ مقیم ہے اور علیحدہ ہی نماز پڑھتی ہے تو انھوں نے بھی یرموک پہنچنے کے بعد اپنے لشکرکو علیحدہ ہی ٹھہرایا اور نماز بھی علیحدہ ہی پڑھی۔
مسلمانوں کی حالت یہ تھی کہ وہ رومیوں کی فوجی طاقت دیکھ کر پریشان تھے۔ حضرت خالد بن ولیدؓ نے مسلمانوں کو الگ الگ تیاریاں کرتے دیکھا تو حضرت خالد بن ولیدؓ نے اس طریقے کو پسند نہیں فرمایا، آپؓ کا خیال تھا کہ اگر اسلامی فوجوں نے ان سے علیحدہ علیحدہ جنگ کی تو مسلمانوں کو سراسر خسارہ اٹھانا پڑے گا۔
وقت کا تقاضا یہ ہے کہ تمام فوج کو ایک ہی نظام کے تحت پابندکیا جائے اور ان کا ایک ہی امیر ہو جس کے ماتحت منظم اور ماتحت ہو کر دشمن کا مقابلہ کریں، اس مقصد کے لیے انھوں نے تمام امراء کو جمع کیا اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا ’’ آج کا دن اللہ کے اہم ترین دنوں میں سے ہے، آج کسی کے لیے فخر و مباحات اور خود رائی و خود ستائی مناسب نہیں ہے۔
جہاد خاص اللہ کے لیے کرو اور اپنے اعمال کو اللہ کی خوشنودی کا ذریعہ بناؤ، یاد رکھو آج کی کامیابی ہمیشہ کی کامیابی ہے، ایک ایسی قوم سے جو ہر طرح منظم اور مرتب ہے، تمہارا علیحدہ علیحدہ لڑنا کسی صورت میں بھی مناسب نہیں۔
حضرت ابوبکر صدیقؓ کو تمہارے حالات کا علم ہوتا تو وہ کبھی تمہیں اس طرح لڑنے کی اجازت ہرگز نہ دیتے، تم اس معاملے کو اس طرح انجام دو،گویا تمہارے خلیفہ اور اس کے خیر خواہوں کا حکم ہے۔‘‘
حضرت خالد بن ولیدؓ کی تقریر سننے کے بعد امرا نے کہا، آپؓ ہی فرمائیے کہ آپ کی کیا رائے ہے؟‘‘
آپ نے فرمایا ’’ میں دیکھتا ہوں کہ تم علیحدہ علیحدہ ہو، مجھے معلوم ہے تم میں سے ہر شخص کو الگ الگ شہر کے لیے نامزد کیا گیا ہے، لیکن اگر تم اس موقع پر کسی ایک شخص کو اپنا امیر تسلیم کر کے اس کی اطاعت اختیار کر لو، تو اس سے نہ تمہارے مرتب پر اثر پڑے گا اور نہ اللہ اور امیرالمومنین کے نزدیک تمہارا درجہ کم ہوگا۔
ذرا دیکھو اگر آج ہم نے انھیں انا کی خندقوں میں دھکیل دیا تو ہم ہمیشہ انھیں دھکیلتے ہی رہیں گے اور اگر انھوں نے ہمیں شکست دے دی تو ہم پھر کبھی کامیاب نہیں ہو سکیں گے، میری تجویز اس بارے میں یہ ہے کہ ہم میں سے ہر شخص کو باری باری امارت کا موقعہ ملنا چاہیے۔ اگر آج ایک امیر ہے تو کل دوسرا، پرسوں تیسرا، ترسوں چوتھا یہاں تک کہ ہر شخص کو امیر بننے کا موقعہ میسر آ جائے، آج کے دن کے لیے تم مجھے امیر بنا دو۔‘‘
حضرت خالد بن ولیدؓ کی رائے نہایت معقول تھی، تمام امرا اس پر متفق ہو گئے اور پہلے روز کے لیے انھوں نے حضرت خالد بن ولیدؓ کو امیر مقررکردیا، حضرت خالد بن ولیدؓ نے اسلامی لشکر کو اڑتیس دستوں میں تقسیم کیا، ایک دستہ کم و بیش ایک ہزار سپاہیوں پر مشتمل تھا۔
آپؓ نے فرمایا کہ’’ تمہارے دشمن کی تعداد بہت زیادہ ہے، اس کے مقابلے میں یہی تدبیر مناسب ہے کہ ہم اپنی فوج کے بہت سے دستے بنا دیں تاکہ دشمن کو ہماری تعداد اصل سے بہت زیادہ نظر آئے۔‘‘ اس کے علاوہ حضرت خالد بن ولیدؓ نے فوج کا ہراول دستہ بھی بنایا۔ تمام انتظامات سے فارغ ہونے کے بعد حضرت خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ قلب کوہ جس میں قعقاع بن عمروؓ اور عکرمہؓ بن ابو جہل شامل تھے آگے بڑھنے اور دشمن پر حملہ کرنے کا حکم دے دیا۔
جنگ بہت زوروں پر تھی، اسی دوران رومی فوج کے قلب کا سردار جرجہ اپنے لشکر سے نکلا اور مسلمانوں اور رومیوں کی صفوں کے درمیان آ کر حضرت خالد بن ولیدؓ کو آواز دی، حضرت خالد بن ولیدؓ اس کے اتنے قریب پہنچ گئے کہ ان کے گھوڑوں کی گردنیں آپس میں مل گئیں۔
جرجہ نے حضرت خالد بن ولیدؓ سے کچھ سوالات ان کی اجازت سے کیے۔ جرجہ نے دوران گفتگو یہ بھی پوچھا کہ تمہیں سیف اللہ (اللہ کی تلوار) کیوں کہا جاتا ہے؟ حضرت خالد بن ولیدؓ نے تمام جوابات وضاحت کے ساتھ دیے جن سے وہ مطمئن ہو گیا اور اس نے دوران جنگ ہی اسلام قبول کر لیا۔
اب ایک نئی شان اور آن بان کے ساتھ مجاہد اسلام بن کر جرجہ اور حضرت خالد بن ولیدؓ صبح سے لے کر مغرب تک لڑتے رہے، آخر کار جرجہ شہید ہو گئے، وہ سوائے ان دو رکعتوں کے جو اسلام لانے کے وقت ادا کی تھیں اور کوئی نماز ادا نہ کر سکے۔
مسلمانوں کے حملوں کی شدت کے باعث رومی فوج ناکامی کا شکار ہو گئی، اس موقع پر سوار تو میدان جنگ سے فرار ہونے لگے لیکن پیدل فوج کو بھاگنے کا موقعہ نہ ملا، وہ واقوصہ کی گھاٹی کی طرف دوڑے، اکثر رومیوں نے اپنے پیروں میں بیڑیاں ڈالی ہوئی تھیں، وہ توازن برقرار نہ رکھنے کے باعث اس میں گرنے لگے۔
طبری کے بیان کے مطابق ایک لاکھ بیس ہزار رومی واقوصہ کی گھاٹی کی نذر ہو گئے۔ جنگ یرموک میں مسلمان شہدا کی تعداد تین ہزار تھی جن میں سے صرف صحابہ کرامؓ ایک ہزار کی تعداد میں تھے۔ بدری صحابہؓ کی تعداد ایک سو تھی۔ جنگ یرموک میں مسلمانوں کی فتح جذبہ ایمانی، شجاعت و بہادری، اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کا ثمر تھا۔
غزہ کے حالات بہت خراب ہیں، مسلمان بھائی تماشائی بنے ہوئے ہیں جب کہ پوری دنیا میں 57 اسلامی ممالک، دولت کی ریل پیل، بہترین افواج، جدید اسلحہ لیکن کمی ہے تو حب اللہ اور حب رسولؐ کی۔
آج غزہ میں قحط کا عالم ہے، فلسطینیوں کے جسموں سے گوشت جدا ہو چکا ہے، ہر روز ستر، اسی کی تعداد میں فلسطینی شہید ہو رہے ہیں، بھوک نے ڈیرہ جمایا ہوا ہے، جو زندہ سلامت ہیں وہ ہاتھوں میں خالی برتن لے کر قطار میں کھڑے ہیں، پیٹ سے پتھر باندھ رہے ہیں، رو رہے ہیں، فریاد کر رہے ہیں، کوئی سننے والا نہیں، ایک سپر طاقت کا حکم مان رہے ہیں، ڈر رہے ہیں کہ کہیں وہ بھی ان کے عتاب کا شکار نہ ہو جائیں۔
اپنے رب سے خوف نہیں، جو دونوں جہان کا بادشاہ اور طاقت کا سرچشمہ ہے۔ پیارے نبیؐ کے صحابہ کرام کی حکمت عملی، دانش مندی سے سبق نہیں سیکھتے ہیں کہ کس طرح لاکھوں کو شکست فاش سے ہمکنارکیا۔ کل یہی فلسطینی جنت کے اعلیٰ مقام پر ہوں گے اور یہ بے حس و ظالم اپنے انجام کو پہنچ کر رہیں گے ،ڈریں اس وقت سے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: حضرت خالد بن ولید علیحدہ علیحدہ مسلمانوں کی جنگ یرموک کی تعداد انھوں نے رہے ہیں کے لیے شخص کو
پڑھیں:
واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
واشنگٹن میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل کے درمیان ایک وسیع تر سیاسی و سیکیورٹی معاہدے کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں، تاہم زمینی صورتحال اب بھی نازک ہے اور جنوبی لبنان میں جھڑپوں اور فضائی حملوں کا سلسلہ مکمل طور پر نہیں رک سکا۔ ان مذاکرات کا مقصد لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ بندی کو مضبوط بنانا، سرحدی سلامتی کے معاملات حل کرنا اور ایک ایسے فریم ورک پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہے جو مستقبل میں ایک جامع سیاسی سمجھوتے کی بنیاد بن سکے۔
یہ بھی پڑھیں:لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
اس سلسلے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ حزب اللہ اسرائیل کی جانب سے متبادل اقدامات کی صورت میں مکمل جنگ بندی کے لیے آمادہ ہے، کیونکہ لبنانی قیادت جزوی یا محدود سیز فائر کے بجائے ایک جامع اور مستقل معاہدے کی حامی ہے۔ یاد رہے کہ اپریل 2026 میں واشنگٹن میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان کئی دہائیوں بعد براہِ راست مذاکرات کا آغاز ہوا تھا، جن میں سرحدی تنازعات، جنوبی لبنان کی سلامتی، جنگ بندی کے نفاذ اور طویل المدتی سیاسی انتظامات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
Day one of direct Israel–Lebanon talks in Washington, DC has concluded, US State Department spokesperson Tommy Pigott says, adding “progress continues” on political and security tracks, with another round scheduled for tomorrow.
???? LIVE coverage ⤵️ https://t.co/tsxQueIYdS
— Al Jazeera English (@AJEnglish) June 3, 2026
تاہم سفارتی پیشرفت کے باوجود زمینی حقائق اب بھی پیچیدہ ہیں۔ اسرائیل نے حالیہ دنوں میں جنوبی لبنان میں فضائی حملے جاری رکھے جبکہ حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، یہی وجہ ہے کہ مذاکراتی عمل کو ابھی حتمی کامیابی قرار نہیں دیا جا رہا۔ اگرچہ امریکی قیادت کی جانب سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا تھا کہ اسرائیل اور حزب اللہ نے فائرنگ روکنے پر اتفاق کر لیا ہے، تاہم بعد میں دونوں جانب سے متضاد بیانات اور بعض مقامات پر جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جس سے واضح ہوا کہ مستقل امن کے لیے مزید مذاکرات درکار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:اسرائیل کا لبنانی شہر ’صور‘ خالی کرنیکا حکم، شدید حملوں سے کشیدگی بڑھ گئی
اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو ممکنہ معاہدے میں جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلا، لبنانی فوج کی تعیناتی، سرحدی سلامتی کے نئے انتظامات اور اقوام متحدہ کی قرارداد 1701 پر عمل درآمد جیسے نکات شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم حزب اللہ کے اسلحے اور اس کے مستقبل کے کردار کا معاملہ اب بھی سب سے بڑا اختلافی نکتہ تصور کیا جا رہا ہے۔ مجموعی طور پر واشنگٹن مذاکرات مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم ضرور ہیں، لیکن لبنان، اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان دیرپا امن کے لیے ابھی کئی سیاسی اور سیکیورٹی رکاوٹیں عبور کرنا باقی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا لبنان واشنگٹن