WE News:
2026-07-24@04:40:32 GMT

عمران خان بمقابلہ گواسکر، دوشی کی نظر میں

اشاعت کی تاریخ: 14th, September 2025 GMT

انڈیا کے لیفٹ آرم اسپنر دلیپ دوشی(1947-2025) سے پاکستان میں زیادہ تر لوگوں کا تعارف ایک ٹیسٹ میچ کے دوران جاوید میانداد کی ان سے چھیڑ چھاڑ کی وجہ سے ہے جس میں پاکستانی بلے باز ان سے بار بار پوچھتے ہیں’تیرا لوم نمبر کیا ہے؟، دوشی، وکٹ کیپر سید کرمانی اور سنیل گواسکر اس جملے کی تفہیم میں ناکام رہتے ہیں۔ پھر یہ عقدہ کھلتا ہے کہ دوشی کی بولنگ پر میانداد چھکے کے ذریعے گیند ان کے ہوٹل کے کمرے تک پہنچانا چاہتے ہیں جو ظاہر ہے ایک ناممکن بات تھی لیکن وہ بولر کو زچ کرکے اس کی توجہ منتشر کرنا چاہتے تھے۔ اس بات کے راوی گواسکر ہیں جنہوں نے مزے لے لے کر یہ قصہ بیان کرکے ناظرین کو محظوظ کیا تھا۔ گواسکر سے دوشی کی لگتی بھی تھی تو انہوں نے خیالِ خاطرِ احباب بھی نہیں رکھا۔

یہ ہنسی مخول کی بات تھی اب ہم دلیپ دوشی کی کتاب ’سپن پنچ‘ سے رجوع کرتے ہیں جس میں انہوں نے سنجیدہ پیرائے میں عمران خان کے کھیل اور قائدانہ صلاحیتوں کی بہت تعریف کی ہے۔ اس کے مقابلے میں سنیل گواسکر کے طرزِ کپتانی کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ اس سے گواسکر کی شخصیت کا کوئی اچھا تاثر قاری کے ذہن پر مرتب نہیں ہوتا۔ ایک نامور انڈین کرکٹر کی طرف سے پاکستانی کپتان کی توصیف اور اپنے کپتان پر تنقید سے لگتا ہے کہ وہ اس بات کے قائل تھے: ’کہتا ہوں وہی بات سمجھتا ہوں جسے حق۔‘

عمران خان کا سارا کرکٹ کیریئر دوشی کی نظر میں تھا جنہیں پہلے پہل انہوں نے آکسفورڈ میں نوآموز کرکٹر کے روپ میں اور پھر شہرت اور عظمت کے مدارج طے کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ ان کی آرا سے ظاہر ہوتا ہے وہ عمران خان سے خاصے متاتر تھے۔ 1991 میں ’سپن پنچ‘ عمران خان کو پیش کی تو اس پر اپنے ہاتھ سے لکھا کہ وہ مختلف سطح کی کرکٹ میں ان کے خلاف کھیلے اور اپنے ٹیسٹ کیریئر کے 33 میں سے 11 ٹیسٹ میچوں میں وہ ان کے مدمقابل آئے۔ دوشی نے لکھا کہ اس عرصے میں عمران خان ان کی سوچوں کا مستقل حصہ رہے۔

دلیپ دوشی کی کتاب کا ایک باب آل راؤنڈرز کے بارے میں ہے۔ اس میں کپیل دیو، عمران خان، بوتھم اور رچرڈ ہیڈلی کے بارے میں ان کے خیالات جاننے کا موقع ملتا ہے۔ وہ ان کے کھیل پر تبصرہ کرنے سے پہلے یہ واضح کردیتے ہیں کہ کپتان، موٹیویٹر اور منصوبہ ساز کی حیثیت سے عمران خان کا رتبہ باقی تنیوں سے یقینی طور پر اوپر ہے۔ انہوں نے عمران خان کے بہت سے گنوں میں سے یہ گن بھی گنوایا کہ ان کا ذہن ہمیشہ سیکھنے پر آمادہ رہتا۔

دوشی انڈین ٹیم کے 83-1982 کے دورے میں فیصل آباد ٹیسٹ کا تذکرہ کرتے ہیں جس میں چوتھے دن پاکستان نے جیت اپنے نام کر لی تھی۔ عمران خان اس کامیابی کے بعد آرام سے نہ بیٹھے اور ٹیم کو لے کر لاہور چلے گئے اور ٹیسٹ کا جو دن بچ گیا تھا اس میں انہیں نیٹ پریکٹس کروائی۔ دوشی کے خیال میں اس مشق کا مقصد جسمانی فٹنس اور ٹیم ڈسپلن کے معیار کو اونچا رکھنا تھا۔

کاؤنٹی کرکٹ میں سسیکس کی طرف سے نوٹنگھم شائر کے خلاف مشکل پچ پر عمران خان کی ایک جرات مندانہ اور یادگار سینچری کا تذکرہ کرتے ہیں تو ان کو فیصل آباد ٹیسٹ میں انڈیا کے خلاف سینچری کا خیال بھی آجاتا ہے اور پھر وہ 1978 میں کراچی ٹیسٹ میں ایک نازک مرحلے پر بشن سنگھ بیدی کے اوورز میں عمران کے 19 رنز بنانے کا تذکرہ کرتے ہیں۔

فیصل آباد ٹیسٹ میں عمران خان نے سینچری کے ساتھ ساتھ گیارہ بلے بازوں کو پویلین کی راہ بھی دکھائی تھی۔

اس کتاب سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایک تو دوشی صائب الرائے کرکٹر تھے، دوسرے کرکٹ پر ان کی گہری نظر تھی۔ کرکٹ میں عمران خان کے تشکیلی زمانے میں اٹھان ان کے سامنے کی بات تھی لیکن بین الاقوامی کرکٹ میں ان کے آخری زمانے کی کارکردگی بھی ان سے پوشیدہ نہ تھی۔ اس لیے وہ 1989 میں نہرو کپ کے فائنل میں شکستہ حال ٹیم کی جیت کے ماسٹر مائنڈ کے طور پر عمران کا حوالہ دیتے ہیں۔

نہرو کپ کے فانئل میں پاکستانی کپتان کی شاندار کارکردگی کی طرف دلیپ دوشی نے اشارہ کیا ہے۔ اسے تھوڑا کھول کر ہم بیان کر دیتے ہیں۔ عمران خان نے اس میچ میں تین وکٹیں حاصل کی تھیں۔ میلکم مارشل، کرٹلی امبروز اور کورٹنی والش ایسے عظیم فاسٹ باؤلروں کے خلاف 274 رنز کے مشکل ہدف کے تعاقب میں ایک موقعے پر میچ ہاتھ سے نکلتا نظر آرہا تھا لیکن عمران خان نے سپر نہیں ڈالی۔ اکرم رضا کے ساتھ مل کر 44 قیمتی رنز بٹورے اور پھر میچ کی سیکنڈ لاسٹ گیند پر ویوین رچرڈز کو وسیم اکرم نے چھکا مار کر پاکستان کو تاریخی فتح دلا دی۔ عمران خان نے ناقابلِ شکست 55 رنز بنائے۔ مین آف دی میچ ٹھہرے۔ 1987 کے ورلڈ کپ میں پاکستان کے ہاتھوں شکست کے بعد یہ دوسرا موقع تھا جب ایک بڑے ٹورنامنٹ میں ویسٹ انڈین کپتان رچرڈز مایوسی کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبے اور اس کا تماشا شائقینِ کرکٹ نے سر عام دیکھا۔

پاکستان کرکٹ ٹیم آج انڈیا کے خلاف ایشیا کپ کا میچ کھیل رہی ہے تو نہرو کپ میں روایتی حریف کے ساتھ میچ کی تھوڑی باز خوانی بھی ہو جائے تو کچھ مضائقہ نہیں جس سے سبق ملتا ہے کہ مخالف ٹیم کو زیر کرنے میں کپتان کا کردار کس قدر اہم ہوتا ہے اور کپتانی کا تاج سر پر سجانے کا شوق اپنی جگہ لیکن اس کے لیے دوسروں سے بڑھ کر کچھ کرنے کا جذبہ بھی تو آپ میں ہونا چاہیے۔ کلکتہ میں انڈیا کے خلاف مقابلے میں عمران خان نے 120 رنز کے اسٹرائیک ریٹ سے 39 گیندوں پر آؤٹ ہوئے بغیر 47 رنز بنائے اور مین آف دی میچ قرار پائے۔ دیگر باتوں کا مذکور کیا بس یہ جان لیجیے کہ اس ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز بھی عمران خان کے حصے میں آیا تھا۔ کیریئر کے جھٹپٹے میں ان کی ہنرمندی کا یہ عالم تھا اب تو ہمارے کپتان بھری جوانی میں بھی ٹیم کے لیے کچھ کر نہیں پاتے ہیں۔

یہ سب باتیں اپنی جگہ لیکن ہمیں دلیپ دوشی کے افکار عالیہ کی طرف پھر سے رجوع کرنا ہے جو عمران خان کو ایسا کپتان گردانتے تھے جو ذاتی مثال سے رہنمائی کرتے، سامنے ہو کر ٹیم کی قیادت کرتے، فٹنس پر خاص دھیان دیتے۔ دوسری طرف ان کے بقول گواسکر کا کہنا تھا ’جدید دور کی ٹریننگ یکسر غیر ضروری اور وقت اور توانائی کا ضیاع ہے۔‘ دوشی نے لکھا ہے کہ گواسکر کی اس اپروچ کا انڈین اخبارات میں بھی کبھی چرچا نہ ہوا کیونکہ لوگوں میں انہیں ناراض کرنے یا ان سے اختلاف کرنے کی جرات نہیں تھی۔

دورہ پاکستان کا جو احوال دوشی نے لکھا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مہمان ٹیم ایک یونٹ کے طور پر نہیں کھیل رہی تھی۔ سب کو اپنی اپنی پڑی تھی۔ سنیل گواسکر فیصلے ٹیم کے مفاد کی بجائے پسند ناپسند کی بنیاد پر کررہے تھے۔ دوشی نے کراچی میں ہونے والے دوسرے ٹیسٹ کا حوالہ دیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے خراب کپتانی سے ٹیم کی کارکردگی کس قدر متاثر ہوتی ہے۔ اس میچ میں مدن لعل نے اٹھارہ کے اسکور پر تین پاکستانی بلے باز آؤٹ کر دیے تھے لیکن انڈین کپتان نے بولروں کو صحیح طریقے سے استعمال نہیں کیا۔ پسند نا پسند کے چکر میں پڑنے سے میچ پر مہمان ٹیم کی مضبوط گرفت ڈھیلی پڑ گئی۔ میڈیم پیسر اور ناتجربے کار مینندر سنگھ سے مسلسل باؤلنگ کروائی گئی، پاکستانی بلے باز سیٹ ہو گئے، دوشی کو تاخیر سے ہنر آزمانے کا موقع دینے پر آصف اقبال نے ٹی وی کمنٹری کے دوران کہا یہ تو گواسکر کا کچھ ذاتی مسئلہ لگتا ہے۔

دلیپ دوشی نے لکھا ہے کہ کپتان اور ٹیم کے سربراہ کی حیثیت سے گواسکر کی شرمناک کارکردگی سے وہ سخت نالاں ہوئے۔ ان کے لیے تیزی سے یہ واضح ہو رہا تھا کہ کپتان ٹیم سے نکالنے کا جواز تراشنے کے لیے انہیں دنیا کے سامنے ناکام کھلاڑی کی صورت دکھانا چاہتے ہیں۔

دلیپ دوشی اندر ہی اندر گھلنے کی بجائے گواسکر سے دو بدو بات کرنے کے لیے ان کے کمرے میں بھی گئے لیکن وہ جواب دینے سے پہلو تہی کرتے یا سنجیدگی ظاہر نہ کرتے۔ ان ملاقاتوں سے دوشی کوئی اطمینان بخش جواب حاصل نہ کر سکے۔

دلیپ دوشی عظیم سپنروں کے گھنے سائے میں رہے اس لیے فرسٹ کلاس کرکٹ میں اچھی کارکردگی دکھانے کے باوجود ٹیسٹ کرکٹ کے دروازے ان پر بڑی دیر کے بعد کھلے۔ 32 سال کی عمر میں ٹیسٹ کیریئر کا آغاز کیا۔ کامیابی نے ان کےقدم چومے۔ عظیم آسٹریلوی اسپنر بل او ریلی نے ان کی باؤلنگ کو سراہا۔ 28 ٹیسٹ میچوں میں 100 وکٹیں حاصل کر لی تھیں۔ ان کو کپتان کا اعتماد حاصل ہوتا اور ان کے رویے میں ذاتی مخاصمت کا عنصر شامل نہ ہوتا تو ان کا کیریئر اور بھی پھل پھول سکتا تھا۔ اسپن بولنگ میں ان کےکمالات کا اعتراف کرنے والوں میں سرگیری سوبرز بھی شامل تھے جنہوں نے ان کی کتاب کا پیش لفظ بھی لکھا ہے۔

اسپنرز کے بارے میں کتاب کے باب میں وہ 1980 کے بعد عبدالقادر کی پاکستان کی کامیابیوں میں اہم کردار کا تذکرہ کرتے ہیں تو انہیں حاصل کپتان کی سپورٹ کا حوالہ بھی دیتے ہیں۔ اپنے سے پہلے کے انڈین اسپنرز کے حق میں بھی ان کے خیال میں یہ بات جاتی تھی کہ کپتان کو ان پر بھروسہ تھا اور بیدی کی اضافی خوش قسمتی یہ رہی کہ انہوں نے 20 ٹیسٹ اپنی ہی کپتانی میں کھیلے۔

دوشی جس پاکستانی کھلاڑی کے مداح تھے وہ تو ٹھہرے عمران خان لیکن ظہیر عباس سے ان کو دوستی تھی جس کی بنیادیں انگلینڈ میں کاؤنٹی کرکٹ کھیلنے کے دوران مستحکم ہوئیں۔ دورہ پاکستان میں انہوں نے جو چند یادگار شامیں گزاریں ان کو وہ ظہیر عباس کے مرہونِ منت قرار دیتے ہیں۔ سنیل گواسکر کی ستم رانیاں اپنی جگہ لیکن ان کے کیریئر کو ظیہر عباس کی بلے بازی نے بھی دھچکا پہنچایا اس لیے نامور کرکٹ مبصر اور رائٹر قمر احمد نے اپنے مضمون ‘ظہیر عباس اور بھارتی اسپنرز’ میں دوشی کو ان انڈین اسپنرز میں شمار کیا تھا جن کا کرکٹ کیریئر ظہیر عباس نے برباد کیا تھا۔

اردو میں دلیپ دوشی کی کتاب کا تذکرہ معروف براڈ کاسٹر اختر وقار عظیم نے ‘ ہم بھی وہیں موجود تھے’ میں کیا ہے۔ ان کی ایک دفعہ شارجہ میں آصف اقبال کے کمرے میں گواسکر سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے پوچھا: ’دلیپ دوشی کو آپ نے اتنا ناراض کیسے کردیا؟’ گواسکر نے اس ناراضی کی ذمہ داری میانداد پر ڈال دی اور کہاکہ جب میانداد ان سے لوم نمبر والا مذاق کر رہے تھے تو دوشی کو لگا کہ اس مذاق میں کرمانی اور وہ بھی شریک ہیں، کرمانی کی بچت اس لیے ہو گئی کہ انہوں نے ہنستے ہوئے اپنے گلوز منہ کے سامنے رکھ لیے اس لیے سارا نزلہ ان پر گرا۔

گواسکر کا یہ جواب غیر تسلی بخش ہے کیونکہ دوشی سے ان کے عناد کی جڑیں خاصی گہری تھیں جس کا اندازہ دوشی کی کتاب ‘سپن پنچ’ سے بخوبی ہوجاتا ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

محمود الحسن

گزشتہ دو دہائیوں سے مختلف قومی اور بین الاقوامی میڈیا اداروں سے وابستہ ہیں۔ کتابوں میں 'شرفِ ہم کلامی 2017'، 'لاہور شہر پُرکمال 2020'، 'گزری ہوئی دنیا سے 2022' اور 'شمس الرحمٰن فاروقی ,جس کی تھی بات بات میں اک بات' شائع ہو چکی ہیں۔

wenews پاک بھارت کرکٹ پاک بھارت میچ دلیپ دوشی سنیل گواسکر سید کرمانی عمران خان کپتانی وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاک بھارت کرکٹ پاک بھارت میچ دلیپ دوشی سنیل گواسکر کپتانی وی نیوز کا تذکرہ کرتے ہیں عمران خان کے دوشی کی کتاب دوشی نے لکھا سنیل گواسکر ظہیر عباس گواسکر کی دلیپ دوشی میں ان کے انڈیا کے دیتے ہیں انہوں نے کرکٹ میں کہ کپتان دوشی کو لکھا ہے میں بھی کے ساتھ ہوتا ہے کے خلاف بلے باز اس لیے کے بعد ٹیم کے کی طرف کے لیے ٹیم کی

پڑھیں:

پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی

پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘

وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔

ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔

مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔

ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلت

ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔

عالمی جنگ کے امکانات نہیں

عالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا

ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔

پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرے

پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش

متعلقہ مضامین

  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی