عمران خان بمقابلہ گواسکر، دوشی کی نظر میں
اشاعت کی تاریخ: 14th, September 2025 GMT
انڈیا کے لیفٹ آرم اسپنر دلیپ دوشی(1947-2025) سے پاکستان میں زیادہ تر لوگوں کا تعارف ایک ٹیسٹ میچ کے دوران جاوید میانداد کی ان سے چھیڑ چھاڑ کی وجہ سے ہے جس میں پاکستانی بلے باز ان سے بار بار پوچھتے ہیں’تیرا لوم نمبر کیا ہے؟، دوشی، وکٹ کیپر سید کرمانی اور سنیل گواسکر اس جملے کی تفہیم میں ناکام رہتے ہیں۔ پھر یہ عقدہ کھلتا ہے کہ دوشی کی بولنگ پر میانداد چھکے کے ذریعے گیند ان کے ہوٹل کے کمرے تک پہنچانا چاہتے ہیں جو ظاہر ہے ایک ناممکن بات تھی لیکن وہ بولر کو زچ کرکے اس کی توجہ منتشر کرنا چاہتے تھے۔ اس بات کے راوی گواسکر ہیں جنہوں نے مزے لے لے کر یہ قصہ بیان کرکے ناظرین کو محظوظ کیا تھا۔ گواسکر سے دوشی کی لگتی بھی تھی تو انہوں نے خیالِ خاطرِ احباب بھی نہیں رکھا۔
یہ ہنسی مخول کی بات تھی اب ہم دلیپ دوشی کی کتاب ’سپن پنچ‘ سے رجوع کرتے ہیں جس میں انہوں نے سنجیدہ پیرائے میں عمران خان کے کھیل اور قائدانہ صلاحیتوں کی بہت تعریف کی ہے۔ اس کے مقابلے میں سنیل گواسکر کے طرزِ کپتانی کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ اس سے گواسکر کی شخصیت کا کوئی اچھا تاثر قاری کے ذہن پر مرتب نہیں ہوتا۔ ایک نامور انڈین کرکٹر کی طرف سے پاکستانی کپتان کی توصیف اور اپنے کپتان پر تنقید سے لگتا ہے کہ وہ اس بات کے قائل تھے: ’کہتا ہوں وہی بات سمجھتا ہوں جسے حق۔‘
عمران خان کا سارا کرکٹ کیریئر دوشی کی نظر میں تھا جنہیں پہلے پہل انہوں نے آکسفورڈ میں نوآموز کرکٹر کے روپ میں اور پھر شہرت اور عظمت کے مدارج طے کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ ان کی آرا سے ظاہر ہوتا ہے وہ عمران خان سے خاصے متاتر تھے۔ 1991 میں ’سپن پنچ‘ عمران خان کو پیش کی تو اس پر اپنے ہاتھ سے لکھا کہ وہ مختلف سطح کی کرکٹ میں ان کے خلاف کھیلے اور اپنے ٹیسٹ کیریئر کے 33 میں سے 11 ٹیسٹ میچوں میں وہ ان کے مدمقابل آئے۔ دوشی نے لکھا کہ اس عرصے میں عمران خان ان کی سوچوں کا مستقل حصہ رہے۔
دلیپ دوشی کی کتاب کا ایک باب آل راؤنڈرز کے بارے میں ہے۔ اس میں کپیل دیو، عمران خان، بوتھم اور رچرڈ ہیڈلی کے بارے میں ان کے خیالات جاننے کا موقع ملتا ہے۔ وہ ان کے کھیل پر تبصرہ کرنے سے پہلے یہ واضح کردیتے ہیں کہ کپتان، موٹیویٹر اور منصوبہ ساز کی حیثیت سے عمران خان کا رتبہ باقی تنیوں سے یقینی طور پر اوپر ہے۔ انہوں نے عمران خان کے بہت سے گنوں میں سے یہ گن بھی گنوایا کہ ان کا ذہن ہمیشہ سیکھنے پر آمادہ رہتا۔
دوشی انڈین ٹیم کے 83-1982 کے دورے میں فیصل آباد ٹیسٹ کا تذکرہ کرتے ہیں جس میں چوتھے دن پاکستان نے جیت اپنے نام کر لی تھی۔ عمران خان اس کامیابی کے بعد آرام سے نہ بیٹھے اور ٹیم کو لے کر لاہور چلے گئے اور ٹیسٹ کا جو دن بچ گیا تھا اس میں انہیں نیٹ پریکٹس کروائی۔ دوشی کے خیال میں اس مشق کا مقصد جسمانی فٹنس اور ٹیم ڈسپلن کے معیار کو اونچا رکھنا تھا۔
کاؤنٹی کرکٹ میں سسیکس کی طرف سے نوٹنگھم شائر کے خلاف مشکل پچ پر عمران خان کی ایک جرات مندانہ اور یادگار سینچری کا تذکرہ کرتے ہیں تو ان کو فیصل آباد ٹیسٹ میں انڈیا کے خلاف سینچری کا خیال بھی آجاتا ہے اور پھر وہ 1978 میں کراچی ٹیسٹ میں ایک نازک مرحلے پر بشن سنگھ بیدی کے اوورز میں عمران کے 19 رنز بنانے کا تذکرہ کرتے ہیں۔
فیصل آباد ٹیسٹ میں عمران خان نے سینچری کے ساتھ ساتھ گیارہ بلے بازوں کو پویلین کی راہ بھی دکھائی تھی۔
اس کتاب سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایک تو دوشی صائب الرائے کرکٹر تھے، دوسرے کرکٹ پر ان کی گہری نظر تھی۔ کرکٹ میں عمران خان کے تشکیلی زمانے میں اٹھان ان کے سامنے کی بات تھی لیکن بین الاقوامی کرکٹ میں ان کے آخری زمانے کی کارکردگی بھی ان سے پوشیدہ نہ تھی۔ اس لیے وہ 1989 میں نہرو کپ کے فائنل میں شکستہ حال ٹیم کی جیت کے ماسٹر مائنڈ کے طور پر عمران کا حوالہ دیتے ہیں۔
نہرو کپ کے فانئل میں پاکستانی کپتان کی شاندار کارکردگی کی طرف دلیپ دوشی نے اشارہ کیا ہے۔ اسے تھوڑا کھول کر ہم بیان کر دیتے ہیں۔ عمران خان نے اس میچ میں تین وکٹیں حاصل کی تھیں۔ میلکم مارشل، کرٹلی امبروز اور کورٹنی والش ایسے عظیم فاسٹ باؤلروں کے خلاف 274 رنز کے مشکل ہدف کے تعاقب میں ایک موقعے پر میچ ہاتھ سے نکلتا نظر آرہا تھا لیکن عمران خان نے سپر نہیں ڈالی۔ اکرم رضا کے ساتھ مل کر 44 قیمتی رنز بٹورے اور پھر میچ کی سیکنڈ لاسٹ گیند پر ویوین رچرڈز کو وسیم اکرم نے چھکا مار کر پاکستان کو تاریخی فتح دلا دی۔ عمران خان نے ناقابلِ شکست 55 رنز بنائے۔ مین آف دی میچ ٹھہرے۔ 1987 کے ورلڈ کپ میں پاکستان کے ہاتھوں شکست کے بعد یہ دوسرا موقع تھا جب ایک بڑے ٹورنامنٹ میں ویسٹ انڈین کپتان رچرڈز مایوسی کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبے اور اس کا تماشا شائقینِ کرکٹ نے سر عام دیکھا۔
پاکستان کرکٹ ٹیم آج انڈیا کے خلاف ایشیا کپ کا میچ کھیل رہی ہے تو نہرو کپ میں روایتی حریف کے ساتھ میچ کی تھوڑی باز خوانی بھی ہو جائے تو کچھ مضائقہ نہیں جس سے سبق ملتا ہے کہ مخالف ٹیم کو زیر کرنے میں کپتان کا کردار کس قدر اہم ہوتا ہے اور کپتانی کا تاج سر پر سجانے کا شوق اپنی جگہ لیکن اس کے لیے دوسروں سے بڑھ کر کچھ کرنے کا جذبہ بھی تو آپ میں ہونا چاہیے۔ کلکتہ میں انڈیا کے خلاف مقابلے میں عمران خان نے 120 رنز کے اسٹرائیک ریٹ سے 39 گیندوں پر آؤٹ ہوئے بغیر 47 رنز بنائے اور مین آف دی میچ قرار پائے۔ دیگر باتوں کا مذکور کیا بس یہ جان لیجیے کہ اس ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز بھی عمران خان کے حصے میں آیا تھا۔ کیریئر کے جھٹپٹے میں ان کی ہنرمندی کا یہ عالم تھا اب تو ہمارے کپتان بھری جوانی میں بھی ٹیم کے لیے کچھ کر نہیں پاتے ہیں۔
یہ سب باتیں اپنی جگہ لیکن ہمیں دلیپ دوشی کے افکار عالیہ کی طرف پھر سے رجوع کرنا ہے جو عمران خان کو ایسا کپتان گردانتے تھے جو ذاتی مثال سے رہنمائی کرتے، سامنے ہو کر ٹیم کی قیادت کرتے، فٹنس پر خاص دھیان دیتے۔ دوسری طرف ان کے بقول گواسکر کا کہنا تھا ’جدید دور کی ٹریننگ یکسر غیر ضروری اور وقت اور توانائی کا ضیاع ہے۔‘ دوشی نے لکھا ہے کہ گواسکر کی اس اپروچ کا انڈین اخبارات میں بھی کبھی چرچا نہ ہوا کیونکہ لوگوں میں انہیں ناراض کرنے یا ان سے اختلاف کرنے کی جرات نہیں تھی۔
دورہ پاکستان کا جو احوال دوشی نے لکھا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مہمان ٹیم ایک یونٹ کے طور پر نہیں کھیل رہی تھی۔ سب کو اپنی اپنی پڑی تھی۔ سنیل گواسکر فیصلے ٹیم کے مفاد کی بجائے پسند ناپسند کی بنیاد پر کررہے تھے۔ دوشی نے کراچی میں ہونے والے دوسرے ٹیسٹ کا حوالہ دیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے خراب کپتانی سے ٹیم کی کارکردگی کس قدر متاثر ہوتی ہے۔ اس میچ میں مدن لعل نے اٹھارہ کے اسکور پر تین پاکستانی بلے باز آؤٹ کر دیے تھے لیکن انڈین کپتان نے بولروں کو صحیح طریقے سے استعمال نہیں کیا۔ پسند نا پسند کے چکر میں پڑنے سے میچ پر مہمان ٹیم کی مضبوط گرفت ڈھیلی پڑ گئی۔ میڈیم پیسر اور ناتجربے کار مینندر سنگھ سے مسلسل باؤلنگ کروائی گئی، پاکستانی بلے باز سیٹ ہو گئے، دوشی کو تاخیر سے ہنر آزمانے کا موقع دینے پر آصف اقبال نے ٹی وی کمنٹری کے دوران کہا یہ تو گواسکر کا کچھ ذاتی مسئلہ لگتا ہے۔
دلیپ دوشی نے لکھا ہے کہ کپتان اور ٹیم کے سربراہ کی حیثیت سے گواسکر کی شرمناک کارکردگی سے وہ سخت نالاں ہوئے۔ ان کے لیے تیزی سے یہ واضح ہو رہا تھا کہ کپتان ٹیم سے نکالنے کا جواز تراشنے کے لیے انہیں دنیا کے سامنے ناکام کھلاڑی کی صورت دکھانا چاہتے ہیں۔
دلیپ دوشی اندر ہی اندر گھلنے کی بجائے گواسکر سے دو بدو بات کرنے کے لیے ان کے کمرے میں بھی گئے لیکن وہ جواب دینے سے پہلو تہی کرتے یا سنجیدگی ظاہر نہ کرتے۔ ان ملاقاتوں سے دوشی کوئی اطمینان بخش جواب حاصل نہ کر سکے۔
دلیپ دوشی عظیم سپنروں کے گھنے سائے میں رہے اس لیے فرسٹ کلاس کرکٹ میں اچھی کارکردگی دکھانے کے باوجود ٹیسٹ کرکٹ کے دروازے ان پر بڑی دیر کے بعد کھلے۔ 32 سال کی عمر میں ٹیسٹ کیریئر کا آغاز کیا۔ کامیابی نے ان کےقدم چومے۔ عظیم آسٹریلوی اسپنر بل او ریلی نے ان کی باؤلنگ کو سراہا۔ 28 ٹیسٹ میچوں میں 100 وکٹیں حاصل کر لی تھیں۔ ان کو کپتان کا اعتماد حاصل ہوتا اور ان کے رویے میں ذاتی مخاصمت کا عنصر شامل نہ ہوتا تو ان کا کیریئر اور بھی پھل پھول سکتا تھا۔ اسپن بولنگ میں ان کےکمالات کا اعتراف کرنے والوں میں سرگیری سوبرز بھی شامل تھے جنہوں نے ان کی کتاب کا پیش لفظ بھی لکھا ہے۔
اسپنرز کے بارے میں کتاب کے باب میں وہ 1980 کے بعد عبدالقادر کی پاکستان کی کامیابیوں میں اہم کردار کا تذکرہ کرتے ہیں تو انہیں حاصل کپتان کی سپورٹ کا حوالہ بھی دیتے ہیں۔ اپنے سے پہلے کے انڈین اسپنرز کے حق میں بھی ان کے خیال میں یہ بات جاتی تھی کہ کپتان کو ان پر بھروسہ تھا اور بیدی کی اضافی خوش قسمتی یہ رہی کہ انہوں نے 20 ٹیسٹ اپنی ہی کپتانی میں کھیلے۔
دوشی جس پاکستانی کھلاڑی کے مداح تھے وہ تو ٹھہرے عمران خان لیکن ظہیر عباس سے ان کو دوستی تھی جس کی بنیادیں انگلینڈ میں کاؤنٹی کرکٹ کھیلنے کے دوران مستحکم ہوئیں۔ دورہ پاکستان میں انہوں نے جو چند یادگار شامیں گزاریں ان کو وہ ظہیر عباس کے مرہونِ منت قرار دیتے ہیں۔ سنیل گواسکر کی ستم رانیاں اپنی جگہ لیکن ان کے کیریئر کو ظیہر عباس کی بلے بازی نے بھی دھچکا پہنچایا اس لیے نامور کرکٹ مبصر اور رائٹر قمر احمد نے اپنے مضمون ‘ظہیر عباس اور بھارتی اسپنرز’ میں دوشی کو ان انڈین اسپنرز میں شمار کیا تھا جن کا کرکٹ کیریئر ظہیر عباس نے برباد کیا تھا۔
اردو میں دلیپ دوشی کی کتاب کا تذکرہ معروف براڈ کاسٹر اختر وقار عظیم نے ‘ ہم بھی وہیں موجود تھے’ میں کیا ہے۔ ان کی ایک دفعہ شارجہ میں آصف اقبال کے کمرے میں گواسکر سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے پوچھا: ’دلیپ دوشی کو آپ نے اتنا ناراض کیسے کردیا؟’ گواسکر نے اس ناراضی کی ذمہ داری میانداد پر ڈال دی اور کہاکہ جب میانداد ان سے لوم نمبر والا مذاق کر رہے تھے تو دوشی کو لگا کہ اس مذاق میں کرمانی اور وہ بھی شریک ہیں، کرمانی کی بچت اس لیے ہو گئی کہ انہوں نے ہنستے ہوئے اپنے گلوز منہ کے سامنے رکھ لیے اس لیے سارا نزلہ ان پر گرا۔
گواسکر کا یہ جواب غیر تسلی بخش ہے کیونکہ دوشی سے ان کے عناد کی جڑیں خاصی گہری تھیں جس کا اندازہ دوشی کی کتاب ‘سپن پنچ’ سے بخوبی ہوجاتا ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گزشتہ دو دہائیوں سے مختلف قومی اور بین الاقوامی میڈیا اداروں سے وابستہ ہیں۔ کتابوں میں 'شرفِ ہم کلامی 2017'، 'لاہور شہر پُرکمال 2020'، 'گزری ہوئی دنیا سے 2022' اور 'شمس الرحمٰن فاروقی ,جس کی تھی بات بات میں اک بات' شائع ہو چکی ہیں۔
wenews پاک بھارت کرکٹ پاک بھارت میچ دلیپ دوشی سنیل گواسکر سید کرمانی عمران خان کپتانی وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاک بھارت کرکٹ پاک بھارت میچ دلیپ دوشی سنیل گواسکر کپتانی وی نیوز کا تذکرہ کرتے ہیں عمران خان کے دوشی کی کتاب دوشی نے لکھا سنیل گواسکر ظہیر عباس گواسکر کی دلیپ دوشی میں ان کے انڈیا کے دیتے ہیں انہوں نے کرکٹ میں کہ کپتان دوشی کو لکھا ہے میں بھی کے ساتھ ہوتا ہے کے خلاف بلے باز اس لیے کے بعد ٹیم کے کی طرف کے لیے ٹیم کی
پڑھیں:
پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
کابینہ کمیٹی برائے متعدی امراض، ڈینگی و ڈیزاسٹر منیجمنٹ کا اجلاس لاہور میں ہوا، پنجاب کے وزرائے صحت سلمان رفیق اور خواجہ عمران نذیر نے اجلاس کی صدارت مشترکہ طور پر صدارت کی۔
اس موقع پر پنجاب کے وزرائے صحت نے کہا کہ ڈینگی کے افزائش والے اضلاع پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، صوبے بھر میں ڈینگی کی تازہ صورتحال پر قابو پانے کیلیے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
صوبائی وزیر خواجہ عمران نذیر نے متعلقہ افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت کی۔ انھوں نے کہا ہمیشہ دیکھا گیا ہے کہ جون جولائی میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کے مثبت نتائج سامنے آتے ہیں۔
خواجہ عمران نذیر نے کہا ڈینگی وائرس پر قابو پانے کے اقدامات کسی ایک محکمہ کی ذمہ داری نہیں، اقدامات کی ذمہ داری تمام اسٹیک ہولڈرز کی ہے۔
خواجہ عمران نے سی ای او ہیلتھ کو ضلعی انتظامیہ کیساتھ مسلسل رابطے میں رہنے کی ہدایت کی۔
انھوں نے کہا کہ ایچ آر منیجمنٹ، والنٹیر ماڈل کو اپناتے ہوئے ڈینگی کا خاتمہ ممکن ہے، یونیورسٹی اور کالجز کے طلبہ کو انسداد ڈینگی کی کارروائیوں میں شامل کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
خواجہ سلمان رفیق نے کہا ڈینگی کی بوگس سرویلنس ناقابل برداشت ہے، عوام اپنےگھروں، دکانوں اور دیگر مقامات پر صفائی کویقینی بنائیں