صاحبزادہ فرحان کا اعزاز، بمرا کو چھکا جڑنے والے پہلے پاکستانی بیٹر بن گئے
اشاعت کی تاریخ: 15th, September 2025 GMT
پاکستانی اوپنر صاحبزادہ فرحان نے دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے ایشیا کپ کے پاک بھارت میچ میں ایک منفرد اعزاز اپنے نام کرلیا، وہ بھارتی فاسٹ بولر جسپریت بمرا کو انٹرنیشنل کرکٹ میں چھکا لگانے والے پہلے پاکستانی بیٹر بن گئے۔ اس طرح انہوں نے بمرا کا چھکا نہ لگنے کا غرور خاک میں ملادیا۔
یہ یادگار لمحہ چھٹے اوور کی تیسری گیند پر آیا جب فرحان نے جرات مندانہ شاٹ کھیلتے ہوئے بال کو بیک ورڈ اسکوائر لیگ کے اوپر سے باؤنڈری کے پار پہنچا دیا، اس شاٹ نے نہ صرف تماشائیوں کو حیران کیا بلکہ بھارتی کپتان سوریا کمار یادو بھی دنگ رہ گئے۔
کرکٹ شائقین نے اس تاریخی چھکے کو بے حد سراہا، کیونکہ بمرا کو دنیا کے بہترین فاسٹ بولرز میں شمار کیا جاتا ہے اور اس سے قبل کسی پاکستانی بیٹر نے انہیں چھکا نہیں لگایا تھا۔
پاک بھارت میچز ہمیشہ ہی دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں، لیکن اس بار صورتحال مزید خاص رہی کیونکہ دونوں ٹیمیں مئی کی چار روزہ جنگ کے بعد پہلی بار آمنے سامنے آئیں۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔