پاکستان–سعودی عرب دفاعی معاہدہ: بھارت کی سفارتکاری کو بڑا جھٹکا!
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ریاض میں ہونے والے تاریخی دفاعی معاہدے نے خطے کی سیاست میں نئی ہلچل پیدا کر دی ہے۔ اس معاہدے کے تحت اگر کسی ایک ملک پر حملہ ہوا تو اسے دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق یہ دفاعی اتحاد نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے گیا ہے بلکہ خطے میں طاقت کا توازن بھی بدل سکتا ہے۔
سوشل میڈیا پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی خارجہ پالیسی پر سخت تنقید ہو رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مودی نے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے کئی دورے کیے، لیکن بالآخر سعودی ولی عہد نے پاکستان کے ساتھ تاریخی دفاعی معاہدہ کرکے بھارت کو بڑا دھچکا دیا۔
https://x.
یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت خطے میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا تھا، تاہم پاکستان اور سعودی عرب کی نئی شراکت داری نے نئی جیو پولیٹیکل بحث چھیڑ دی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔