جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملے، اقوام متحدہ کی شدید مذمت
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نیویارک: اقوام متحدہ کی امن فوج برائے لبنان (یونیفل) نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں کو سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ یہ حملے خطے کے نازک امن کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کےمطابق یونیفل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ یہ کارروائیاں شہریوں کے اس اعتماد کو بھی مجروح کرتی ہیں کہ تنازع کے پرامن حل کی کوئی صورت ممکن ہے۔
امن فوج نے تصدیق کی کہ فضائی حملوں کے دوران دیر کیفا کے قریب برج قلعویہ میں تعینات امن فوجیوں کو اپنی جان بچانے کے لیے پناہ لینا پڑی۔ ’’ان حملوں نے لبنانی فوجیوں، امن فوجیوں اور عام شہریوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال دیں ۔
یونیفل نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ ’’مزید حملوں سے گریز کرے اور مکمل طور پر لبنانی سرزمین سے انخلا کرے۔‘‘ امن فوج نے دونوں فریقین پر زور دیا کہ وہ قرارداد 1701 اور فائر بندی معاہدے کی پاسداری کریں۔
اقوام متحدہ کے مطابق یونیفل اور لبنانی فوج روزانہ سرحدی علاقے اور بلیو لائن پر امن و استحکام کی بحالی کے لیے کام کر رہی ہیں،یہ میکنزم خاص طور پر تنازعات کو حل کرنے اور یکطرفہ تشدد سے بچنے کے لیے موجود ہیں، ان سے مکمل طور پر فائدہ اٹھایا جانا چاہیے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی طیاروں نے جنوبی لبنان میں فضائی حملے کیے اور دعویٰ کیا کہ انہوں نے حزب اللہ کے فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے، نومبر 2024 میں ایک جنگ بندی طے پائی تھی جس کے تحت اسرائیل کو جنوری تک جنوبی لبنان سے مکمل انخلا کرنا تھا، اسرائیلی فوج اب بھی سرحدی علاقوں میں پانچ ٹھکانوں پر موجود ہے۔
واضح رہےکہ ستمبر 2024 میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان شروع ہونے والی بھرپور جنگ میں اب تک 4 ہزار سے زائد افراد ہلاک اور تقریباً 17 ہزار زخمی ہوچکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: امن فوج
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔