ہم نے ڈاکٹر خان کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ہمارے ایک دوست کہتے ہیں کہ ہم پاکستانی تو اپنے ہیروز اور محسنوں کو سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں، ان کے راستے میں آنکھیں بچھاتے ہیں انہیں عزت و توقیر اور مقبولیت کے بلند ترین مقام پر بٹھاتے ہیں لیکن جو لوگ حکمران وقت ہوتے ہیں وہ اس مقبولیت سے حسد کی آگ میں جلنے لگتے ہیں اور قوم کے محسنوں کے ساتھ وہ سلوک کرتے ہیں کہ انسانیت شرمانے لگتی ہے۔ محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ساتھ ابھی ایسا ہی ہوا۔ پاکستان نے ایٹمی دھماکے تو بھارت کے جواب میں 28 مئی 1998ء کو کیے لیکن ڈاکٹر خان نے گولڈٹسٹ کے ذریعے پاکستان کو بہت پہلے ایٹمی صلاحیت سے ہمکنار کردیا تھا۔ یہ جنرل ضیا الحق کا دور حکومت تھا، پاکستان اور بھارت کی سرحدوں پر کشیدگی پھیلی ہوئی تھی بھارت اپنی فوج کا بڑا حصہ سرحدوں پر لے آیا تھا۔ ایسے میں ڈاکٹر خان نے پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کے بارے میں جنرل ضیا الحق کو بریفنگ دی اور انہوں نے بھارتی وزیراعظم راجیو گاندھی کو وارننگ دی کہ کسی غلط فہمی میں نہ رہنا ہم تمہیں صفحہ ہستی سے مٹانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ وارننگ اتنی دو ٹوک اور واضح انداز میں دی گئی تھی کہ راجیو گاندھی کے پسینے چھوٹ گئے اور اس نے بھارتی فوجوں کو سرحدوں سے واپس بلالیا۔
بھارت نے مئی 1998ء کے آغاز میں 4 ایٹمی دھماکے کرکے پاکستان پر سبقت لے جانے کی کوشش کی تھی۔ پاکستان کے بارے میں اس کا رویہ بالکل بدل گیا تھا۔ وہ پاکستان کو مسلسل ڈرانے اور دبانے کی کوشش کررہا تھا۔ چنانچہ پاکستان پر بھی بھارت کے جواب میں ایٹمی دھماکے کرنے کا مطالبہ زور پکڑ گیا۔ اس وقت میاں نواز شریف ملک کے وزیراعظم تھے۔ ان کی کابینہ کے اکثر ارکان ایٹمی دھماکا کرنے کے مخالف تھے، امریکا کا بھی میاں نواز شریف پر دبائو تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ایٹمی دھماکے نہ کرنے کی صورت میں صدر کلنٹن نے انہیں اربوں ڈالر کی پیش کش کی تھی لیکن بزرگ صحافی مجید نظامی کی وارننگ کام کر گئی انہوں نے میاں نواز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’’میاں صاحب اگر آپ نے دھماکے نہ کیے تو قوم آپ کا دھماکا کردے گی‘‘۔ چنانچہ میاں صاحب نے نہ چاہتے ہوئے ایٹمی دھماکے کرنے کا حکم دے دیا۔ ان کی جگہ کوئی بھی وزیراعظم ہوتا تو اسے یہ کام کرنا پڑتا کیونکہ حالات کا تقاضا یہی تھا۔ انہوں نے صرف حکم دیا تھا۔ دھماکے تو اس ٹیکنیکل ٹیم نے کیے تھے جو اس مقصد کے لیے چاغی (بلوچستان) گئی تھی، البتہ میاں نواز شریف کا یہ کارنامہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا کہ انہوں نے ایٹمی صلاحیت کا کریڈٹ ڈاکٹر خان سے چھیننے کی کوشش کی تھی اور ان کے مقابلے میں ایک اور سائنسدان ڈاکٹر ثمر مبارک مند کو آگے لایا گیا تھا اور ایٹمی دھماکوں کا کریڈٹ ان کے گلے میں ڈالنے کی کوشش کی گئی تھی لیکن یہ کوشش بُری طرح ناکام رہی اور عوام نے ڈاکٹر خان کو ہی سر آنکھوں پہ بٹھایا اور انہیں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا خالق اور ہیرو قرار دیا۔
نائن الیون کے بعد جب جنرل پرویز مشرف نے امریکا کے آگے سرنڈر کردیا تو امریکا کی حریصانہ نگاہیں پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر بھی پڑنے لگیں۔ پاکستان کا ایٹمی پروگرام مکمل طور پر فوج کی تحویل میں تھا۔ ڈاکٹر خان اس پروگرام کے بانی اور معمار ضرور تھے لیکن انہیں من مانی کرنے کی آزاد نہ تھی سب کچھ فوج کے کنٹرول میں تھا لیکن امریکا نے نہایت بددیانتی کے ساتھ ڈاکٹر خان کے خلاف ایٹمی پھیلائو کی مہم شروع کردی، ان پر الزام لگایا گیا کہ وہ ایران، شمالی کوریا اور دیگر ملکوں کو غیر قانونی طور پر ایٹمی ٹیکنالوجی فراہم کرکے دنیا میں خطرناک ایٹمی پھیلائو کے مرتکب ہورہے ہیں جس سے عالمی امن کو شدید خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ امریکی اور یورپی میڈیا میں ڈاکٹر خان کے خلاف یہ مہم اتنی بڑھی کہ امریکا نے اس کی آڑ میں ڈاکٹر خان پر ہاتھ ڈالنے کا فیصلہ کرلیا۔ جنرل پرویز مشرف سے کہا گیا کہ وہ ڈاکٹر خان کو امریکا کے حوالے کردیں۔ جنرل پرویز مشرف پہلے ہی امریکا کے آگے گھٹنے ٹیک چکے تھے وہ امریکا کے اس دبائو کا سامنا نہ کرسکے اور آمادہ ہوگئے، چنانچہ امریکی طیارہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو لینے کے لیے آگیا اور نور خان ائر بیس پر کھڑا ہوگیا لیکن ڈاکٹر خان کو امریکا کے حوالے کرنے کے لیے کابینہ اور وزیراعظم کی منظوری ضروری تھی۔ وزیراعظم ظفر اللہ جمالی کی قومی غیرت آڑے آگئی انہوں نے جنرل پرویز مشرف کے اصرار کے باوجود کابینہ کا اجلاس بلانے اور ڈاکٹر خان کی امریکا منتقلی کے حکم نامے پر دستخط کرنے سے انکار کردیا اس طرح امریکی طیارہ کئی دن تک ائر بیس پر کھڑا رہنے کے بعد خالی واپس چلا گیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا ڈاکٹر خان کو اپنی تحویل میں لے کر پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف بیان دلوانا چاہتا تھا اور اس بیان کی روشنی میں وہ اقوام متحدہ کی زیر نگرانی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو رول بیک کرکے اسے ایٹمی صلاحیت سے محروم کردیتا لیکن ظفر اللہ جمالی کی مخالفت نے اس کا یہ منصوبہ ناکام بنادیا۔ اگرچہ جمالی کو اس کی قیمت وزارت عظمیٰ سے برطرفی کی صورت میں ادا کرنا پڑی لیکن وہ پاکستان پر احسان کرگئے۔
ڈاکٹر خان کے ساتھ ناروا سلوک کا سلسلہ ان کی زندگی کے آخری لمحات تک جاری رہا۔ جنرل پرویز مشرف نے ڈاکٹر خان سے ٹیلی فون پر باقاعدہ معافی منگوائی اور انہیں ایٹمی پھیلائو کے حوالے سے اعترافی بیان دینے پر مجبور کیا۔ انہیں ان کے قائم کردہ ادارے کے آر ایل کہوٹا کی سربراہی سے محروم کردیا گیا، ان کی نقل و حرکت پر پابندی لگادی گئی اور انہیں عملاً نظر بند کردیا گیا۔ انہوں نے باقی زندگی اسی حال میں گزاری۔ ان کا انتقال ہوا تو حکمرانوں میں سے کوئی بھی ان کے جنازے میں نہیں گیا۔ البتہ عوام نے بڑی تعداد میں ان کے سفر آخرت میں شرکت کی۔ وہ آج بھی عوام کے دلوں میں زندہ ہیں اور ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ جبکہ ان کے مقابلے میں جس شخص کا چرچا کیا جارہا ہے اور یوم تکبیر کے موقع پر سرکاری اشتہارات میں جس کی تصویر لگائی جارہی ہے وہ مر گیا تو کوئی اس کا نام لیوا بھی نہ ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستان کے ایٹمی پروگرام جنرل پرویز مشرف میاں نواز شریف ایٹمی صلاحیت ایٹمی دھماکے ڈاکٹر خان کے ڈاکٹر خان کو امریکا کے انہوں نے کے ساتھ کی کوشش اور ان
پڑھیں:
3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
اسلام ٹائمز: یہ محض ایک جنازہ نہ تھا بلکہ ایک عہد کی رخصتی کا منظر تھا۔ ایک ایسا لمحہ جس میں کروڑوں دل ایک ساتھ دھڑک رہے تھے، ایک ساتھ رو رہے تھے اور ایک ساتھ اپنے قائد کو الوداع کہہ رہے تھے۔ تاریخ نے شاید ہی کبھی ایسا دردناک اور پُرہجوم منظر دیکھا ہو، جہاں عقیدت، محبت، اشک اور جدائی سب ایک ہی منظر میں سمٹ آئے ہوں۔ یوں امام خمینی مٹی کی آغوش میں اتر گئے، مگر ان کی یاد، ان کا پیغام اور ان کا اثر لاکھوں دلوں میں ہمیشہ کے لیے نقش ہوگیا۔ تحریر: ڈاکٹر نذر حافی
3 جون 1989ء (13 خرداد 1368 ہجری شمسی) کی شام جب امام خمینیؒ کی رحلت کی خبر آہستہ آہستہ تہران کی فضا میں پھیلنے لگی تو گویا ایک قوم پر سکوتِ غم طاری ہوگیا۔ وہ شخصیت جس کی آواز نے انقلاب کو جنم دیا تھا، اب خاموش ہو چکی تھی۔ آنکھیں اشک بار تھیں، دل سوگوار تھے اور فضائیں غم و اندوہ سے بوجھل تھیں۔ سید حسن عارفی نے 3 جون 1989ء کے حوالے سے اپنی یادداشت طبیبِ دلھا میں لکھا ہے کہ 3 جون 1989ء (13 خرداد 1368 ہجری شمسی) کی نصف شب سے حضرت امام خمینیؒ کا بلڈ پریشر گرنا شروع ہوگیا اور غنودگی میں اضافہ ہونے لگا۔ صبح 5 بجے، اگرچہ جسم کا درجۂ حرارت 36 ڈگری سینٹی گریڈ تھا، لیکن امام عزیزؒ کو سردی محسوس ہو رہی تھی۔
3 جون 1989ء کی صبح 9 بج کر 14 منٹ پر ہمارے عزیز امام کو دل کی دھڑکن تیز ہونے، کمزوری، نقاہت اور شریانی بلڈ پریشر کے بتدریج کم ہونے کی علامات ظاہر ہوئیں۔ صبح 10 بجے ڈاکٹر سیم فروش نے ضروری طبی اقدامات کیے، اور گردوں کے اخراجی مسئلے کے باعث ڈاکٹر قدس اور ڈاکٹر رہبر کو بھی طلب کیا گیا۔ نس میں دی جانے والی رطوبت (سرم) اور خون کے پروٹین کی تیاری (البیومن) دیے جانے کے باوجود، اور پیشاب کے اخراج میں رکاوٹ کی وجہ سے، بلڈ پریشر مسلسل کم ہوتا جا رہا تھا۔ حضرت امام قدرے غنودگی میں تھے، لیکن مکمل طور پر ہوش و حواس میں تھے۔
حضرت امام کی حالت کی سنگینی سے اہلِ خانہ، قریبی افراد اور ملکی ذمہ داران کو آگاہ کر دیا گیا۔ طبی ٹیم کے تمام ارکان کو طلب کر لیا گیا۔ امام عزیز ملاقاتوں، لوگوں کی آمد و رفت اور اپنی بگڑتی ہوئی حالت سے پوری طرح باخبر تھے اور مسلسل ذکرِ الٰہی میں مشغول تھے۔ وہ برابر سورۂ حمد اور دیگر سورتیں تلاوت کر رہے تھے اور جانتے تھے کہ وہ اپنی بابرکت زندگی کے آخری لمحات گزار رہے ہیں۔ حضرت امام خمینی نے دوپہر کی نماز عین شرعی وقت پر ادا کی اور دوپہر کے کھانے میں صرف مائعات (پانی اور پتلی اشیاء) استعمال کیے۔ دوپہر 2 بج کر 30 منٹ پر انہیں پہلی مرتبہ قے ہوئی، اور انہوں نے فوراً حکم دیا کہ ان کے تمام کپڑے بدل دیے جائیں اور بستر کی چادریں بھی تبدیل کر دی جائیں۔
شام 3 بجے دل کی دھڑکن مزید سست ہوگئی۔ اپنی بابرکت زندگی کے آخری لمحات میں بھی وہ پوری ہوشیاری اور سختی سے اپنی ظاہری صفائی اور پاکیزگی کا خیال رکھتے تھے۔ وہ مسلسل سورۂ حمد اور دیگر سورتیں پڑھتے رہے اور بخوبی جانتے تھے کہ یہ آخری لمحات ہیں۔ تقریباً 3 بجے، بیماری اور شریانی بلڈ پریشر کے شدید زوال کے باعث پیدا ہونے والی کمزوری اور ناتوانی کے عالم میں انہوں نے بلند آواز سے مجھے پکارا۔ میں نے اپنا سر اور کان ان کے لرزتے ہوئے ہونٹوں کے قریب کیے اور عرض کیا: "آقا جان! فرمائیے، میں حاضر ہوں۔" انہوں نے فرمایا: "اگر وضو وقتِ نماز داخل ہونے سے پہلے کیا جائے تو نیت اس طرح ہونی چاہیئے۔"
میں نے فوراً حاج احمد آقا خمینی اور حجت الاسلام و المسلمین جناب آشتیانی کو، جو قریب ہی موجود تھے، ان کی خدمت میں بلا لیا۔ دراصل ان کی آخری درخواست مجھے بلانا تھی اور ان کی آخری گفتگو ایک شرعی اور فقہی مسئلے سے متعلق تھی۔ دوپہر 2 بج کر 59 منٹ پر ان کا دل، سامنے موجود نوارِ قلب (الیکٹرو کارڈیوگرام) کے مطابق دھڑک رہا تھا اور بلڈ پریشر مسلسل گر رہا تھا، لیکن امام عزیز مسلسل سورۂ حمد اور دیگر سورتوں کی تلاوت میں مشغول رہے۔ اگرچہ بلڈ پریشر بہت کم ہو چکا تھا، پھر بھی ان کے ہوش و حواس قائم تھے۔
اب اہلِ خانہ ایک ایک کر کے پروانوں کی طرح ان کے وجود کی شمع کے گرد جمع ہو رہے تھے، لیکن یہ روشن اور عالم تاب چراغ بجھنے کے قریب تھا۔ ہر لمحہ اس کی نورانی روشنی کم ہوتی جا رہی تھی اور ہمارے دلوں کا غم بڑھتا جا رہا تھا۔ اس وقت جب حضرت امام عزیز کو شدید سانس کی تنگی اور شدید دل کی دھڑکن تکلیف دے رہی تھی اور ان کا بلڈ پریشر انتہائی حد تک گر چکا تھا جس کے باعث جسم کے تمام اعضاء کو خون کی فراہمی متاثر ہوگئی تھی، اور ساتھ ہی کینسر کے خلیات پورے جسم میں پھیل چکے تھے، ہم یہ مشاہدہ کر رہے تھے کہ یہ بے مثال ہستی اس شدید بیماری کے باوجود اپنی صفائی، پاکیزگی اور ظاہری آراستگی کا خاص خیال رکھ رہی تھی۔ اگرچہ پچھلے چند دنوں سے امام عزیز شدید غنودگی کا شکار تھے، لیکن وہ نمازوں کے اوقات کی سختی سے پابندی کرتے اور انہیں وقت پر ادا کرنے کے خواہش مند رہتے تھے۔
اس دن بھی صبح 9 بجے کے بعد ان کی حالت تیزی سے بگڑنے لگی اور بلڈ پریشر مسلسل گرنا شروع ہو گیا۔ غنودگی میں اضافہ تھا، لیکن کبھی کبھار وہ آنکھیں کھول کر اردگرد دیکھتے تھے۔ دوپہر 12 بجے سے پہلے کئی بار فرمایا کہ انہیں نمازِ ظہر کا وقت بتایا جائے۔ اس کے بعد وضو اور تیمم کے امتزاج کے ساتھ، شدید کم بلڈ پریشر، تیز دل کی دھڑکن (نوارِ قلب کے مطابق) اور شدید سانس کی تکلیف کے باوجود، محترم جناب حجت الاسلام والمسلمین حاج محمد علی انصاری کے تعاون سے انہوں نے اپنی آخری نمازِ ظہر و عصر ادا فرمائی۔ ان نازک لمحات میں جب امام کی ذات شدید بیماریوں کے خطرے میں تھی، انہوں نے امام حسین علیہ السلام کی سنت پر عمل کرتے ہوئے، جو یومِ عاشورا کے وقت نماز ادا فرماتے ہیں، اس نماز کے ذریعے اپنے مشن کا پیغام عملی طور پر لاکھوں عقیدت مندوں تک پہنچایا۔
ہم انتہائی تکلیف دہ اور مشکل لمحات سے گزر رہے تھے۔ امام عزیز، جن کی کم ہوتی ہوئی بلڈ پریشر نے انہیں شدید کمزوری اور ناتوانی میں مبتلا کر دیا تھا، کبھی کبھار آنکھیں کھول کر اردگرد دیکھتے تھے۔ میں نے یہ احساس دلانے کے لیے کہ آخری لمحات میں بھی طبی ٹیم، خصوصاً میں، ان کی خدمت میں موجود ہے، ان کے دائیں ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ حضرت امام نے محسوس کیا کہ آخری وقت میں محبت، عقیدت اور والد و اولاد جیسے پاک جذبات کا تبادلہ ہو رہا ہے، اور ساتھ ہی مرید و مراد کا رشتہ بھی قائم ہے۔ اس لمحے کے بعد انہوں نے میرا ہاتھ بالکل نہ چھوڑا، اور میں بھی یہ جانتے ہوئے کہ آخری لمحات میں مریض کو اکیلا نہیں چھوڑنا چاہیے، مسلسل مانیٹر پر ان کی دل کی دھڑکن دیکھتا رہا اور ان کا ہاتھ نرمی سے تھامے رکھا۔شام 3 بج کر 46 منٹ پر دل کی دھڑکن تیز اور بے ترتیب ہو گئی، اور یہ روشنی امیدوں کے افق پر مدھم پڑنے لگی۔
بلڈ پریشر کا مسلسل گرنا، دل کی دھڑکن کا بے ترتیب اور تیز ہونا، اور علاج کا مؤثر جواب نہ دینا، حضرت امام کی حالت کی شدید خرابی کو ظاہر کر رہا تھا، اور ہر لمحہ کسی بڑے حادثے کا خدشہ بڑھ رہا تھا۔ اسی لیے طبی ٹیم، سرجنز اور نرسیں جدید ترین طبی آلات کے ساتھ امام کے بستر کے قریب موجود تھیں تاکہ فوری اقدامات کیے جا سکیں۔ اچانک شام 3 بج کر 58 منٹ پر دل کے اوپر والے حصے سے نیچے والے حصے تک برقی ترسیل بند ہوگئی، جس کے نتیجے میں دل میں بے ترتیبی (فبریلیشن) پیدا ہوئی اور بلڈ پریشر صفر ہو گیا۔
شام 3 بج کر 58 منٹ پر نوارِ قلب کے مطابق دل نے حرکت بند کر دی، تاہم مکمل طبی تیاری کے ساتھ بار بار برقی جھٹکے (الیکٹروشاک)، سینے پر بیرونی پیس میکر (بجلی سے چلنے والا آلہ) لگانا، سانس کی نالی میں ٹیوب ڈال کر مصنوعی تنفس سے جوڑنا، عارضی طور پر دل کی دھڑکن اور سانس کو بحال کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن امام عزیز اس وقت بے ہوشی کی حالت میں تھے۔
شام 10 بج کر 22 منٹ پر پیس میکر (بیرونی برقی محرک آلہ) کام کر رہا تھا، لیکن دل کے عضلات اس کی دی گئی تحریکوں کے باوجود سکڑ نہیں رہے تھے۔ شام 10 بج کر 23 منٹ پر حضرت امام عزیز کا دل، جو اپنی پوری زندگی میں ہر منٹ تقریباً 60 سے 70 مرتبہ، ہر گھنٹے تقریباً 3600 مرتبہ، ہر روز 86400 مرتبہ، ہر سال تقریباً 30936000 مرتبہ، اور اپنی 90 سالہ بابرکت عمر میں مجموعی طور پر تقریباً 2784240000 مرتبہ اللہ کی رضا، اسلام کی سربلندی، کلمۂ لا الٰہ الا اللہ کی بلندی، مستضعفین کی آزادی، ایرانی قوم اور دنیا بھر کے مسلمانوں کی عزت و سربلندی کے لیے دھڑکا تھا، اپنی آخری دھڑکن کے ساتھ ہمیشہ کے لیے رک گیا، اور اپنے چاہنے والوں اور عاشقوں کو غم و اندوہ میں ڈبو گیا۔
’’بگذار تا بگریم چون ابر در بہاران ۔۔۔ کز سنگ نالہ خیزد وقتِ وداع یاران‘‘
اور اس آخری دھڑکن کے ساتھ، انسانیت نے علم، تقویٰ، ایمان، استقامت، تسلیم نہ ہونے والے جذبے اور ایثار کے پیکر پر ایک گہرا اور کاری صدمہ محسوس کیا۔ انہوں نے اس دنیا سے آنکھیں بند کر لیں، لیکن اسلام کی اشاعت اور اس رہنما مکتب کے ذریعے لاکھوں سوئے ہوئے دلوں کو بیدار کر دیا:
’’ای خوش آن رہبر کہ بعد از مرگ زاد ۔۔۔ چشمِ خود بست و چشمِ ما گشاد‘‘
بے شک اس کی روشن شمعِ حیات ظاہراً بجھ گئی تھی، لیکن یہ وہ چراغ تھا جو قافلۂ انسانیت کے حسینی کرداروں کے دل میں ہمیشہ روشن رہتا ہے اور روشنی بکھیرتا رہتا ہے۔ ان کی حیات ایک ایسی نورانی روشنی تھی جس نے 90 سال تک ہماری تاریک دنیا کو منور اور گلزار بنایا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے لیے، ان کے چاہنے والوں اور فرزندوں کے لیے، وہ رخصت نہیں ہوئے۔ وہ زندہ ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔ وہ ہمارے راستے کا چراغ ہیں۔ خدا کی قسم، وہ ہمارے وجود کے ذرے ذرے میں، ہمارے خلیوں، حتیٰ کہ ایٹموں (پروٹونز اور نیوٹرانز) تک میں موجود ہیں، اور جب تک ہم زندہ ہیں، ان کی یاد، ان کی تعلیمات اور ان کے انسان ساز اسلامی پیغام کے تابع رہیں گے:
“ہرگز نمیرد آنکہ دلش زنده شد به عشق ۔۔۔ ثبت است بر جریدۂ عالم دوامِ ما”
سید حسن عارفی کی یادادشت کے بعد اب آیئے 4 جون 1989ء (14 خرداد 1368 ہجری شمسی) کی غمگین اور سوگوار صبح پر ایک نگاہ ڈالئے۔ صبح سویرے ریڈیو سے خبرِ ارتحال نشر ہوئی تو لاکھوں دلوں پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ مرد، عورتیں، بوڑھے اور نوجوان سب اپنے محبوب رہبر کی آخری جھلک پانے کے لیے بے تاب تھے۔ جب جسدِ خاکی مصلیٰ تہران میں رکھا گیا تو اشکوں کا ایک سمندر امڈ آیا۔ ہر آنکھ نم تھی اور ہر زبان پر دعا و درود جاری تھا۔
6 جون 1989ء (16 خرداد 1368 ہجری شمسی) کو نمازِ جنازہ کے بعد جب تدفین کے لیے پیکرِ امام کو بہشتِ زہرا کی جانب لے جایا گیا تو جذبات کا طوفان اس قدر شدید تھا کہ لاکھوں سوگوار اپنے آنسوؤں اور عقیدت پر قابو نہ رکھ سکے۔ ہجوم بڑھتا گیا، انتظامات ٹوٹتے گئے، اور ایک ایسا منظر سامنے آیا جس نے ہر دیکھنے والے کو رُلا دیا۔ تابوت مجمع کے دباؤ میں آ گیا، اور تدفین کا عمل وقتی طور پر روکنا پڑا۔
یہ محض ایک جنازہ نہ تھا بلکہ ایک عہد کی رخصتی کا منظر تھا۔ ایک ایسا لمحہ جس میں کروڑوں دل ایک ساتھ دھڑک رہے تھے، ایک ساتھ رو رہے تھے اور ایک ساتھ اپنے قائد کو الوداع کہہ رہے تھے۔ تاریخ نے شاید ہی کبھی ایسا دردناک اور پُرہجوم منظر دیکھا ہو، جہاں عقیدت، محبت، اشک اور جدائی سب ایک ہی منظر میں سمٹ آئے ہوں۔ یوں امام خمینی مٹی کی آغوش میں اتر گئے، مگر ان کی یاد، ان کا پیغام اور ان کا اثر لاکھوں دلوں میں ہمیشہ کے لیے نقش ہوگیا۔