وزیراعظم کا برطانیہ کا 4 روزہ دورہ مکمل،آج لندن سے امریکا روانہ ہوں گے
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
لندن(نیوز ڈیسک) وزیراعظم کا برطانیہ کا چار روزہ دورہ مکمل ہوگا، آج صبح 11 بجے لندن سے امریکا روانہ ہوں گے۔
وزیر اعظم 26 ستمبر تک امریکا میں قیام کریں گے، شہباز شریف کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات ہوگی، خطے سمیت عالمی امن و سلامتی پر تبادلہ خیال کیا جائیگا، وزیر اعظم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہوں گے۔
محمد شہبازشریف اپنے خطاب میں عالمی برادری کی توجہ غزہ کے سنگین بحران کی طرف دلائیں گے، خطاب میں کلائمیٹ چینج، دہشت گردی اور اسلاموفوبیا پر پاکستان کا نقطہ نظر پیش کریں گے۔
واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے لندن میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ معرکہ حق میں بھارت کو جو سبق سکھایا وہ زندگی بھر یاد رکھے گا مگر اب سیز فائر ہوچکا ہے لہٰذا ہم امن اور برابری کی بنیاد پر مسئلہ کشمیر سمیت تمام مسائل کا حل چاہتے ہیں کیونکہ دونوں ہمسایہ ممالک نے ہمیشہ ساتھ رہنا ہے۔
لندن میں اوورسیز پاکستانیز کے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ میرے لئے خوشی کی بات ہے کہ سمندر پار پاکستانیوں کے سامنے کھڑا ہوں، آپ کے پاکستان کے وہ سفیر ہیں جو بیرون ملک دن رات محنت کرتے ہیں۔
اُنہوں نے برطانوی پاکستانی برادری کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا تھا کہ اوورسیز پاکستانیوں کی معیشت میں معاونت ناقابلِ فراموش ہے، اوورسیز پاکستانیوں کو سونے اور جواہرات میں بھی تولا جائے تو کم ہے، اس برس اوورسیز پاکستانیوں نے ساڑھے 48 ارب ڈالر پاکستان بھیجے ہیں۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
ایک بیان میں قائد نون لیگ کا کہنا تھا کہ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے گلگت سے سکردو کا 9 گھنٹے کا سفر 3 گھنٹے میں بدل کر عوام کے 6 گھنٹے بچائے ہیں۔ 70 سال سے لٹکے منصوبے ہم نے اربوں روپے لگا کر مکمل کیے۔ ہمیں یہ منظور نہیں کہ یہاں 20، 22 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو۔ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ ایک بیان میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں شہباز شریف اور مریم کو بھی کہوں گا کہ وہ دونوں یہاں آئیں اور اگر اللہ کے فضل و کرم سے ہماری حکومت آتی ہے، تو میں خود ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آکر شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور نگرانی اپنی دیکھ بھال میں مکمل کرواؤں گا۔ یہاں دیس نکالے کی باتیں کرنے والے یاد رکھیں کہ 2017ء میں این ایف سی کمیٹی نواز شریف نے ہی بنائی تھی تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکل سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت، سکردو، بلتستان اور ہنزہ سمیت پورے خطے کے عوام سے مخاطب ہوں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اور شہباز شریف سے بات کر کے اس شاہراہ کو پورا خنجراب تک پہنچائیں گے۔ پاک چائنا ٹریڈنگ کے اس منصوبے سے یہاں ایسی خوشحالی آئے گی کہ آپ کو گھر بیٹھے روزگار اور اخراجات ملیں گے اور پورا خطہ بدل جائے گا۔ آج گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، وہ گلگت کہاں ہے جسے میں جانتا تھا؟ ہم نے مانسہرہ سے تھاکوٹ تک بہترین سڑک بنائی جسے خنجراب تک جانا تھا مگر اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ ہم کسی کی برائی کرنے نہیں بلکہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔ یہاں کے عوام بے تحاشہ ترقی اور روزگار کے حقدار ہیں۔