data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور:۔ صدر الخدمت فاﺅنڈیشن پاکستان پروفیسر ڈاکٹرحفیظ الرحمن کی زیر صدارت فلڈ ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن کاجائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ سی ای او خبیب بلال نے پاکستان کے 58اضلاع میں سیلاب متاثرین کے لیے الخدمت کی امدادی سرگرمیوں پرشرکا کو بریفنگ دی۔

ڈاکٹرحفیظ الرحمن نے کہاکہ متاثرین کی خدمت پر اب تک ایک ارب 10کروڑ 40 لاکھ روپے خرچ کرچکے ہیں، 15اگست سے سوات، بونیر و دیگر علاقوں میں کلاﺅڈ برسٹ، بارشوں اوردریاﺅں میں سیلابی صورتحال نے خیبر پختونخوا، پنجاب سمیت پورے پاکستان کو متاثر کیا، 15اگست کی رات ہی ہنگامی اجلاس کے فوری بعد الخدمت کے ذمہ داران اور رضا کاروں نے ریسکیوآپریشن شروع کردیا تھا جو 40دنوں سے مسلسل جاری ہے۔

اس دوران ایمرجنسی ریسکیو آپریشنز میں 16 ہزار 421 رضاکاروں نے 31 کشتیاں اور 130 مشینری یونٹس کے ذریعے 2 ہزار 161 آپریشنز مکمل کرکے 38 ہزار 606 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔ 4لاکھ 24ہزار 51فوڈ باکس تقسیم کئے اور 44ہزار 695خاندانوں کو فوڈ پیکجز فراہم کیے گئے۔ متاثرین کے لیے 15خیمہ بستیاں قائم کی گئیں جن میں 16ہزار 327 افراد کو کھانا، صاف پانی، میڈیکل کی سہولیات، بچوں کے لیے اسکول اور پلے ایریاقائم کئے گئے ہیں جبکہ بعض خیمہ بستیوں میں مساجد، لائبریری کی سہولیات بھی فراہم کی جارہی ہیں۔

ڈاکٹر حفیظ الرحمن نے کہاکہ ہیلتھ کے شعبے میں 8موبائل ہیلتھ یونٹس، 767میڈیکل کیمپس، 60 ایمبولینس کے ذریعے متاثرین کو ہیلتھ کی سہولیات فراہم کی گئیں جس میں کم وبیش دولاکھ زخمی اور مریض مستفید ہوئے۔ انھوں نے کہاکہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں صاف پانی، سیوریج سمیت تمام انفراسٹرکچر تباہ ہوگیا، الخدمت کے واش پروگرام نے متاثرین کوصا ف پانی کی فوری فراہمی کیلئے متاثرین کو 3 لاکھ 59ہزار 984پانی کی بوتلیں، 4 ہزار 776ہائی جین کٹس، 4 ہزار 23 ڈگنٹی کٹس، 811واٹر ٹینکس، 3 ہزار 869جیری کین فراہم کئے۔ 12 موبائل فلٹریشن پلانٹس مسلسل متاثر ہ افراد کو صاف پانی کی فراہمی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ڈاکٹر حفیظ الرحمن نے کہاکہ الخدمت فاﺅنڈیشن نے سیلاب سے متاثرہ جانوروں کے چار ے کے لیے بھی انتظام کیا اور 128 ٹرک چارہ متاثرہ علاقوں میں موجود جانورو ں کوفراہم کیا گیا۔

سیکرٹری جنرل سید وقاص جعفری، نائب صدر سید احسان اللہ وقاص، سی ای اوخبیب بلال، ڈائریکٹر پروگرام حماد اختر، سینئر منیجر میڈیا اینڈ مارکیٹنگ شعیب ہاشمی، منیجر ڈیزاسٹرمینجمنٹ آصف جمال، سینئر منیجر احمدقدیر سمیت دیگرشعبوں کے ذمہ داران بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔

Aleem uddin.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: متاثرین کو نے کہاکہ فراہم کی کے لیے

پڑھیں:

نتیجہ خیز آپریشن شعبان!

پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، نہ صرف اندرون وطن بلکہ مشرقی و مغربی سرحدوں پر بھی پاکستان کے استحکام، سلامتی، خودمختاری اور آزادی کو سبوتاژ کرنے اور امن و امان کو تہہ و بالا کرنے کے لیے سازشی عناصر سرگرم عمل ہیں۔

پڑوسی ملک بھارت کی پراکسی جنگ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی بعینہ ہمسایہ ملک افغانستان جس کے ساتھ ہمارے دیرینہ، تاریخی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی رشتے بڑے گہرے اور مضبوط رہے ہیں آج کل وطن عزیز کے خلاف سازشوں اور دہشت گردی میں بھارت کی سہولت کاری کرکے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے میں پیش نظر آ رہا ہے، اگرچہ کراچی سے لے کر خیبر تک دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے اپنی مذموم کارروائی میں مصروف ہیں، تاہم پاکستان کے دو اہم صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے خاص نشانہ بنا رکھا ہے۔

گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں کو بہ طور خاص دہشت گردوں نے نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ دہشت گرد کبھی تھانوں پر حملہ کرتے ہیں، کبھی چیک پوسٹوں پر اور کبھی گشت کرتی موبائل گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ آور ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد باقاعدہ منصوبہ بندی سے نشانہ بنا کر اپنا ہدف حاصل کرتے اور اس کی ذمے داری قبول بھی کرتے ہیں۔

گزشتہ دو ہفتوں کے خون آشام واقعات کے بعد شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے رکھا ہے۔ زیارت شہدا لواحقین کے دھرنا شرکا سے حکومتی مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا اور لاشوں کی نماز جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی، اگرچہ حکومت نے شہدا کے لواحقین کے لیے مالی امداد کے اعلانات کیے ہیں لیکن مالی امداد ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے پیاروں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ، ہرگز نہیں۔ ان کی دائمی جدائی کے زخم کبھی بھر نہیں سکتے۔ شہادت کا یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر ختم ہوگا؟

پاک فوج نے کے پی اور بلوچستان کے حالیہ لہو رنگ واقعات کے بعد ’’آپریشن شعبان‘‘ کا آغاز کیا جس میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج برق رفتاری سے کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس آپریشن میں بلوچستان پولیس اور ایف سی بھی حصہ لے رہی ہے۔ اس آپریشن کا آغاز 5 جولائی کو کیا گیا جو انٹیلی جنس بیسڈ دہشت گردی آپریشن ہے اور تادم تحریر جاری ہے۔ کہا گیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ’’آپریشن شعبان‘‘ جاری رہے گا جس کا مقصد دہشت گردوں کا جڑ سے صفایا کرنا ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی پشت پر پوری یکجہتی اور قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔ بعینہ ملکی دفاع، سلامتی اور قیام امن کے لیے جان قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں، ایف سی اور پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی شہادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

بلوچستان اور کے پی میں ماضی قریب و بعید میں بھی متعدد فوجی آپریشن کیے گئے جن میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کو نمایاں کامیابیاں ملیں۔ 2009 میں آپریشن راہ نجات کا آغاز کیا گیا جس میں سوات اور مالاکنڈ میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ جنوبی وزیر ستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن راہ نجات میں ان کے اہم ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ اسی طرح 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا تھا۔ 2017 میں آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کے خفیہ سلیپر سیلز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس کارروائیاں کی گئیں۔

 بلوچستان اور کے پی کے دو دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود دونوں صوبوں بالخصوص بلوچستان میں آج بھی دہشت گرد عناصر بیرونی آقاؤں اور اندرونی سہولت کاروں کے ذریعے امن کو تہہ و بالا کر رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کی ان جڑوں کو تلاش کرنا ہوگا جو معاشرتی و سماجی سطح پر راسخ ہو چکی ہیں۔

سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی ہے، قومی سلامتی صرف عسکری پہلو تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے سماجی اور معاشی پہلو بھی اہم ہیں۔ یہ باریک نکتہ ہے جسے سمجھنے اور گتھی کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں سیاسی قیادت کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنا قائدانہ کردار ادا کریں۔ بلاول بھٹو سے لے کر وزیر اعظم شہباز شریف تک اور اپوزیشن سے بلوچستان کی سیاسی قیادت تک سب کو سر جوڑ کر اور مل بیٹھ کر بلوچستان کے سیاسی، سماجی و معاشی مسائل اور محرومیوں کا حل تلاش کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • مانچسٹر، پاکستانی قونصل خانہ کے اوقات میں اضافہ
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا