سیلاب سے اوچ شریف میں ہر طرف تباہی، پاکپتن میں ستلج کے کٹاؤ سے پورا گاؤں دریا برد
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
سیلاب سے اوچ شریف میں ہر طرف تباہی، پاکپتن میں ستلج کے کٹاؤ سے پورا گاؤں دریا برد WhatsAppFacebookTwitter 0 23 September, 2025 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس) پنجاب میں سیلاب سے ہر طرف تباہی کے مناظر آ رہے ہیں، ملتان میں کروڑوں روپے کی گندم سیلاب سے برباد ہو گئی، اوچ شریف میں بیوہ خاتون چھ بچوں کے ساتھ کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہو گئی۔
اوچ شریف کی بستی کھوکھراں میں فضیلہ کا شوہر سیلاب میں مویشیوں کو محفوظ مقام پر منتقل کرتے ہوئے ڈوب گیا، مویشی ریلے میں بہہ گئے، سامان اور گھر بھی پانی کی نذر ہو گئے، سر پر چھت ہے نہ کھانے کے لیے کوئی سامان بچنے سے فاقوں کی نوبت آ گئی۔
پاکپتن میں ستلج کے کٹاؤ سے گائوں باقر کے مکمل دریا برد ہو گیا، کٹائو کو روکنے کی تمام تر کوششیں ناکام ہو گئیں، زمینی کٹائو روکنے کیلئے ہیوی مشینری استعمال کی جا رہی ہے۔
متاثرہ گائوں کے لوگ نقل مکانی کر کے محفوظ مقام پر منتقل ہو چکے ہیں۔
ادھر علی پور، سیت میں پاسکو حکام کی مبینہ غفلت سے کروڑوں روپے مالیت کی گندم سیلاب کی نذر ہو گئی، سیت پور میں پاسکو کے2 بڑے مراکز سیلابی پانی کی لپیٹ میں آئے، گندم کی ہزاروں بوریاں خراب ہوگئیں، پی ڈی ایم اے کی جانب سے سیلاب کی پیشگی وارننگ بھی دی گئی تھی، پھر بھی پاسکو حکام بروقت حفاظتی اقدامات نہ کر سکے۔
دوسری طرف دریائے سندھ میں کوٹری بیراج پر پانی کی آمد مزید بڑھ گئی۔
فلڈ فور کاسٹنگ ڈویژن کے مطابق گڈو بیراج پر نچلے درجے کا سیلاب ہے مگر پانی کم ہو کر 2 لاکھ 40 ہزار کیوسک پر آگیا۔
رپورٹ کے مطابق سکھر بیراج پر بہاؤ کم ہو کر معمول پر آ گیا جب کہ کوٹری بیراج پر پانی کی آمد مزید بڑھ گئی ہے اور بہاؤ 3 لاکھ 76 ہزار کیوسک ہوگیا ہے۔
تربیلا کے بعد منگلا ڈیم بھی بھرنے کے قریب ہے اور 98 فیصد تک بھر چکا جس کے بعد منگلا ڈیم میں صرف 2 فٹ مزید پا نی ذخیرہ کرنے کی گنجائش باقی رہ گئی۔
پی ڈی ایم اے پنجاب کے ڈی جی عرفان علی کاٹھیا نے بتایا ہے کہ پنجاب کے دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول پر آ گیا ہے، صرف ستلج میں درمیانے سے نچلے درجے کی سیلابی صورتحال برقرار ہے۔
سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بھی پانی کی سطح میں واضح کمی ہو رہی ہے۔
دریائے ستلج میں درمیانے سے نچلے درجے کی سیلابی صورتحال برقرار ہے، دریائے ستلج گنڈا سنگھ والا کے 83 مقام پر پانی کا بہاؤ ہزار کیوسک ہے، دریائے ستلج سلیمانکی کے مقام پر پانی کا بہاؤ 81 ہزار کیوسک ہے۔
دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 36 ہزار کیوسک ہے، خانکی ہیڈ ورکس کے مقام پر پانی کا بہاؤ 29 ہزار کیوسک ہے، قادر اباد کے مقام پر پانی کا بہاؤ 25 ہزار کیوسک ہے، ہیڈ تریموں کے مقام پر پانی کا بہاؤ 31 ہزار کیوسک ہے۔
پنجند کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 11 ہزار کیوسک ہے۔
دریائے راوی میں جسڑ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 6 ہزار کیوسک ہے، شاہدرہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 5 ہزار کیوسک ہے، بلوکی ہیڈ ورکس کے مقام پر پانی کا بہاؤ 24 ہزار کی کیوسک ہے، ہیڈ سدھنائی کے مقام پر پانی کا بہاؤ 26 ہزار کیوسک ہے۔
ڈیرہ غازی خان ڈویژن کی رود کوئیوں میں بہاؤ نہیں ہے، سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بحالی کے اقدامات جاری ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرگلوبل صمود فلوٹیلا نے عسقلان جانے کی اسرائیلی پیشکش مسترد کردی، غزہ جانے کا اعلان گلوبل صمود فلوٹیلا نے عسقلان جانے کی اسرائیلی پیشکش مسترد کردی، غزہ جانے کا اعلان وزیراعظم اقوام متحدہ اسمبلی اجلاس میں شرکت کے لئے امریکہ پہنچ گئے عرب-اسلامی وزرائے خارجہ کا نیو یارک میں مشاورتی اجلاس، اسحاق ڈار کی شرکت روس کی امریکا کو جوہری معاہدے میں ایک سال کی توسیع کی پیشکش موجودہ آمدن میں گزارا ہورہا ہے، سروے میں اخراجات پورا ہونے کا کہنے والے افراد کی شرح دگنی ہوگئی کانگریس کی مودی پر تنقید، بھارت کی فلسطین پالیسی کو شرمناک اور اخلاقی بزدلی قرار دیدیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
شہدا ء کا مقام اور فضیلت
جے یو آئی کے قصور شہرمیں غیر متوقع طور پر بہت بڑے پاور شو اور عوامی اجتماع نے جہاں پنجاب کی سیاست میں ایک نئی روح پھونکی اور دہائیوں پر محیط روایتی سیاسی و غیر سیاسی مہروں کے متبادل ایک نئی عوامی طاقت کا احساس دلایا، وہاں اس جیتی جاگتی تبدیلی سے خائف حلقوں نے ہمیشہ کی طرح ایک فرسودہ اور ہتک آمیز حربہ اختیار کیا۔
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے ایک بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرتے ہوئے چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنے کی ناکام کوشش کی گئی اور یہ گمراہ کن پروپیگنڈا گھڑا گیا کہ انھوں نے معاذ اللہ فوجی جوانوں کے لیے "شہادت کی تنخواہ" کے الفاظ استعمال کیے، حالانکہ ان کا مدعا و مقصد ہر گز یہ نہیں تھا۔ مولانا نے اپنے خطاب میں ایک انتہائی عقلی اور اصولی نکتہ واضح کیا تھا۔ اصل میں اس گفتگو کا بنیادی محور قبائلی علاقوں میں مقامی لشکروں کی تشکیل تھا۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ اس گفتگو کا درست مفہوم سیاسی مخالفین کو تو سمجھ آگیا لیکن سوشل میڈیا کے کارندوں کو سمجھ نہ آیا کیونکہ جان بوجھ کر منفی مطلب نکالنا ان کا شیوا ہے۔ یہاں ایک بنیادی اور تلخ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شہادت کا رتبہ، جہاد کی فضیلت اور شہید کا مقام کیا ہوتا ہے، یہ دینِ اسلام کے اسرار و رموز سے واقف، پوری زندگی قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں بلند کرنے والا ایک جید عالمِ دین بہتر جانتا ہے یا پھر سوشل میڈیا کے مجاہدین۔ یہ پاکستان کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ ملک کے ممتاز ترین عالمِ دین کو شہادت کی عظمت پر لیکچر دیئے جا رہے ہیں۔
ناقدین کو شاید یہ معلوم ہی نہیں کہ شہادت ایک شرعی اور دینی اصطلاح ہے، جس کا تقدس اور حقیقی مرتبہ علماء ہی جانتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن خود ہزاروں شہداء کے وارث ہیں۔
1857کی جنگ آزادی میں حضرت حافظ محمد ضامن شہیدؒ سمیت کلکتہ سے پشاور تک پھانسیوں پر لٹکائے جانے والے 51 ہزار علماء ان کے ہی اکابر تھے۔ پاکستان میں سیکڑوں کی تعداد میں شہید کیے جانے والے علماء، جن میں شیخ المشائخ مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ، مولانا سید شمس الدین شہیدؒ، مولانا حق نواز شہیدؒ، شیخ الحدیث مولانا حسن جان شہیدؒ، شیخ الحدیث مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ، مفتی جمیل خان شہیدؒ، مولانا ڈاکٹر خالد محمود سومرو شہیدؒ اور دیگر بے شمار شخصیات شامل ہیں، ان کے جماعتی کارکن، دوست اور دست و بازو تھے، جن کو دن دہاڑے اس لیے شہید کیا گیا کہ وہ ریاست و آئین پاکستان کے ساتھ کھڑے تھے اور ان میں سے آج تک کسی ایک کے قاتل کو نہیں پکڑا گیا۔ جو شخص اور جو جماعت خود شہداء کی امین ہو، وہ بھلا شہداء کی توہین کا سوچ بھی کیسے سکتی ہے؟ قصور جلسہ کے ایک لفظ کو مسخ کر کے پہاڑ بنانے والوں کا یہ وقتی ابال بہت جلد بیٹھ جائے گا۔ تمام زندگی بلامعاوضہ ملک و ملت کی خدمت کرنے والے، مدارس و مساجد کی حفاظت کے لیے دن رات ایک کرنے والے، قبائل کے لوگوں کو بغاوت سے بچانے والے اور مسلح دہشت گردوں کے خلاف ریاست کے لیے خود کش حملے، دھمکیاں اور گالیاں برداشت کرنے والے زیرک رہنما کو غدار قرار دینا نا مناسب ہے۔
اسلام میں شہید کا مقام و مرتبہ انتہائی بلند اور منفرد ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے شہیدوں کی عظمت کو اتنے ارفع انداز میں بیان کیا ہے کہ انھیں مردہ کہنے سے بھی منع فرما دیا ہے۔ سورہ البقرہ اور سورہ آل عمران میں واضح فرمایا گیا کہ "جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں، انھیں مردہ نہ کہو اور نہ ہی ایسا گمان کرو، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، انھیں رزق بھی دیا جا رہا ہے اور وہ اللہ کے اس فضل پر جو انھیں عطا کیا گیا ہے، انتہائی خوش اور مسرور ہیں"۔ یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ شہید کی زندگی عام اموات جیسی نہیں ہوتی بلکہ وہ برزخ میں ایک خاص قسم کی حیاتِ طیبہ اور انعاماتِ الٰہی سے سرفراز ہوتے ہیں۔ احادیثِ مبارکہ میں بھی شہید کے بے پناہ فضائل کا ذکر ملتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "اللہ کے نزدیک شہید کی خاص خصوصیات ہیں، خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے، اسے جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھا دیا جاتا ہے، اسے عذابِ قبر اور قیامت کی بڑی گھبراہٹ سے پناہ ملتی ہے، اس کے سر پر وقار کا ایسا تاج رکھا جائے گا جس کا ایک یاقوت دنیا اور مافیہا سے بہتر ہے اور اس کی اپنے اقارب میں سے ستر لوگوں کے لیے شفاعت قبول کی جائے گی"۔ کائنات کی سب سے عظیم ہستی حضرت محمد ﷺ کا شہادت کی بار بار تمنا کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ بارگاہِ الٰہی میں شہادت کا مقام کتنا عظیم ہے۔ شہید کو یہ انفرادیت بھی حاصل ہے کہ جنت میں جانے کے بعد کوئی بھی شخص دنیا میں دوبارہ لوٹنے کی خواہش نہیں کرے گا، سوائے شہید کے، جو وہاں ملنے والے اکرام کو دیکھ کر یہ تمنا کرے گا کہ کاش اسے دنیا میں دس بار واپس بھیجا جائے تاکہ وہ بار بار اللہ کی راہ میں اپنی جان قربان کر سکے۔
احادیث کے مطابق شہید کو موت کی تکلیف اتنی ہی محسوس ہوتی ہے جتنی کسی انسان کو چیونٹی کے کاٹنے سے ہوتی ہے اور قیامت کے دن اس کے زخموں سے بہنے والے خون سے مشک کی خوشبو آئے گی۔قرآن و حدیث کی رو سے شہید کا درجہ انبیاء، صدیقین اور صالحین کے بالکل متصل ہے اور یہ اہل علم ہی جانتے ہیں لہٰذا سیاسی مقاصد کے لیے پاک صاف دامن پر چھینٹیں پھینکنے والے یاد رکھیں کہ مکافاتِ عمل کا نظام عنقریب پلٹا کھائے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ نعروں، الزامات اور مذمتوں کی اس تعفن زدہ سیاست کو اب بند کیا جائے۔