ایمیریٹس پر سفر کرنے والے ہوجائیں خبردار، یکم اکتوبر سے مسافروں کے لیے اہم پابندیوں کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
ایمریٹس ایئرلائن نے مسافروں کو یاد دہانی کرائی ہے کہ یکم اکتوبر 2025 سے جہاز میں پاور بینک کے استعمال اور چارجنگ پر مکمل پابندی عائد کر دی جائے گی۔
ایئرلائن کے مطابق مسافر صرف ایک پاور بینک اپنے کیبن بیگ میں رکھ سکیں گے، تاہم یہ سامان چیک اِن بیگیج میں رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: ایک ویزے پر 6 خلیجی ممالک کا سفر ممکن، اہل کون ہوگا؟
ایمریٹس کی ویب سائٹ پر جاری اپڈیٹ کے مطابق ہر مسافر کو صرف ایک پاور بینک ساتھ رکھنے کی اجازت ہوگی جس کی گنجائش زیادہ سے زیادہ 100 واٹ آور تک ہو۔
Emirates reminds passengers: New rule starts October 1
Flying with Emirates? Major travel rule change in October.
— Gulf News (@gulf_news) September 24, 2025
تاہم دورانِ پرواز پاور بینک کسی ڈیوائس کو چارج کرنے یا خود چارج کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔ اس کے علاوہ پاور بینک پر اس کی گنجائش واضح طور پر درج ہونا لازمی ہے۔
پاور بینک کو صرف سیٹ کے نیچے یا سامنے والی جیب میں رکھا جا سکتا ہے، تاہم اوورہیڈ لاکر میں رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
مزید پڑھیں:ایمریٹس ایئر لائنز شام کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کرے گی
ایئرلائن نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ پاور بینک کو چیک اِن بیگیج میں رکھنا پہلے سے ہی ممنوع ہے۔
ایمریٹس ایئرلائن کے مطابق یہ فیصلہ حفاظتی خدشات کے پیشِ نظر کیا گیا ہے، ماہرین کے مطابق پاور بینک اگر زیادہ چارج ہوجائے یا خراب ہو جائے تو اس میں ’تھرمل رن اَوے‘ کا عمل شروع ہوسکتا ہے، جو تیز حرارت، آگ لگنے، دھماکے یا زہریلی گیس کے اخراج کا باعث بن سکتا ہے۔
دیگر الیکٹرونک ڈیوائسز کے قواعدایئرلائن نے اس سے قبل بھی مسافروں کو یاد دہانی کرائی تھی کہ وہ زیادہ سے زیادہ 15 ذاتی برقی آلات لیپ ٹاپ، موبائل فون، ٹیبلیٹس وغیرہ جہاز میں ساتھ لے جا سکتے ہیں۔ یہ آلات الگ الگ پیک ہونے چاہییں کیونکہ مقررہ تعداد سے زائد یا غلط طریقے سے پیک ہونے کی صورت میں انہیں ضبط بھی کیا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: یو اے ای نے جدید سیکیورٹی خصوصیات کا حامل 100 درہم کا نیا نوٹ جاری کردیا
اسمارٹ بیگ، ہوور بورڈ اور منی سیگ وے جیسے بیٹری سے چلنے والے آلات بھی جہاز میں ساتھ لے جانے یا چیک اِن کرنے کی اجازت نہیں رکھتے۔
اتحاد ایئرویز کی وضاحتدوسری جانب اتحاد ایئر ویز نے سوشل میڈیا پر ایک صارف کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں واضح کیا کہ بلیو ٹوتھ اسپیکر سمیت زیادہ سے زیادہ 15 برقی آلات کی اجازت ہے، البتہ یہ ڈیوائسز اگر چیک اِن بیگیج میں رکھی جائیں تو انہیں مکمل طور پر بند یعنی پاور آف کیا جانا ضروری ہے۔
ایئرلائن نے مزید کہا کہ اضافی بیٹریاں، پاور بینک اور ای سگریٹ کسی صورت چیک اِن بیگیج میں نہیں رکھے جا سکتے، جبکہ قیمتی یا نازک الیکٹرونک ڈیوائس کیبن بیگ میں رکھنا زیادہ محفوظ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اتحاد ایئرویز الیکٹرونک ڈیوائس ای سگریٹ ایمریٹس برقی آلات بلیو ٹوتھ اسپیکر پاور بینک ٹیبلیٹس چارجنگ سوشل میڈیا لیپ ٹاپ موبائل فون
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اتحاد ایئرویز ای سگریٹ ایمریٹس برقی آلات پاور بینک ٹیبلیٹس چارجنگ سوشل میڈیا لیپ ٹاپ موبائل فون ایئرلائن نے پاور بینک کے مطابق کی اجازت کے لیے
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔