امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران پیش آنے والے واقعات پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے ایک ’سازش‘ قرار دیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو خط لکھ کر معاملے کی فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

اپنے خط میں صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ان کی اقوام متحدہ ہیڈکوارٹر آمد کے دوران تین طریقوں سے جان بوجھ کر رکاوٹیں پیدا کی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب وہ اور ان کی اہلیہ میلانیا الیکٹرک سیڑھی پر سوار ہوئے تو وہ اچانک بند ہوگئی، جس کے بعد انہیں سیڑھیاں چڑھنی پڑیں۔ اس کے بعد جب انہوں نے خطاب شروع کیا تو ٹیلی پرامپٹر کام نہیں کر رہا تھا، جس سے ان کا تقریر کرنا مشکل ہوگیا۔

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری خط میں لکھا کہ ’’یہ کوئی اتفاق نہیں بلکہ ایک سازش ہے۔ اقوام متحدہ کو اس پر شرمندہ ہونا چاہیے۔‘‘

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کا خطاب صرف وہی لوگ سن پائے جن کے پاس وہ ہیڈفونز تھے جن پر تقریر ترجمے کے ساتھ پیش کی جا رہی تھی۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ الیکٹرک سیڑھی اچانک اس لیے رک گئی کیونکہ کسی نے حفاظتی میکانزم کو حادثاتی طور پر فعال کر دیا تھا۔ سیکریٹری جنرل کے دفتر نے اس بات کی تصدیق کی ہے اور امکان ظاہر کیا ہے کہ یہ شخص ممکنہ طور پر امریکی وفد میں شامل ہی کوئی آپریٹر تھا جس نے یہ غلطی کی۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب دنیا بھر کے رہنما اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے جمع تھے۔ صدر ٹرمپ کے اس بیان نے بین الاقوامی تعلقات میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ معاملہ دونوں اطراف کے درمیان مزید کشیدگی کا باعث بن سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اقوام متحدہ کے

پڑھیں:

ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر

 ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔ 

پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 

اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔

ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔  

رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت