کینیڈا: عدالت نے سینکڑوں شتر مرغوں کو مارنے سے روک دیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 25 ستمبر 2025ء) کینیڈا کی سپریم کورٹ نے برٹش کولمبیا کے ایک فارم میں فلو پھیلنے پر تقریباً 400 شتر مرغوں کو تلف کرنے کے منصوبے پر عمل درآمد کو فی الوقت کے لیے روک دیا ہے۔
حکام جب ان شترمرغوں کے مارنے کے لیے جمع ہوئے، تو فارم کے مالکان اور بعض مقامی لوگوں کی جانب سے اس پر احتجاج کیا گیا۔
یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس نے بین الاقوامی توجہ مبذول کرائی اور امریکہ میں بھی انہیں بچانے کے لیے مہم شروع کی گئی تھی۔حکام نے شترمرغوں کے مارنے کا حکم گزشتہ برس کے اواخر میں دیا تھا، جس کے خلاف کیس دائر کیا گیا، تاہم نچلی عدالتوں کے بیشتر فیصلے انہیں مارنے کے حق میں آتے رہے۔
تاہم امریکہ میں کچھ طاقتور لابیز نے اس کے خلاف آواز اٹھائی اور پھر بدھ کے روز کینیڈا کی سپریم کورٹ نے شترمرغوں کو تلف کرنے کے فیصلے کو وقتی طور پر روک دیا۔
(جاری ہے)
کینیڈا کی فوڈ انسپیکشن ایجنسی (سی ایف آئی اے) نے پرندوں کو مارنے کا منصوبہ تیار کر لیا تھا، تاہم جب تک اس پر حتمی فیصلہ نہیں آ جاتا اس پر روک برقرار رہے گی۔
رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس (آر سی ایم پی) کا کہنا ہے کہ پولیس نے یونیورسل آسٹرچ فارمز کے مالکان کو فوڈ انسپکشن ایجنٹوں کو "اپنے فرائض کی انجام دہی سے" روکنے کے الزام میں گرفتار کر لیا تھا، جس کے ایک دن بعد یہ فیصلہ آیا ہے۔
شترمرغوں کے فارم کے مالکان کا موقففارم مالکان کے وکیل عمر شیخ نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ بدھ کے روز تاخیر سے شترمرغوں کو تلف کرنے کا شیڈول طے کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ وہ عدالتی حکم سے "ظاہر ہے کہ بہت خوش" ہیں، لیکن اس بات پر زور دیا کہ یہ "ایک بہت ہی مشکل جنگ ہے" اور عدالت کا فیصلہ "ایک بہت ہی مختصر، عارضی وقفہ ہے۔
"سپریم کورٹ میں نچلی عدالتوں کے فیصلوں کو روکنے کے مقصد سے شریک مالکان کیرن ایسپرسن اور ڈیو بلنسکی نے یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا کے ایک پروفیسر کا ایک حلف نامہ داخل کیا، جس میں کہا گیا تھا کہ شتر مرغوں کو ایویئن فلو سے استثنیٰ حاصل ہے۔
فارم کے مالکان کا کہنا ہے کہ وہ شتر مرغ کے اینٹی باڈیز کا مطالعہ کرنے میں مہارت رکھتے ہیں اور انہوں نے دلیل دی تھی کہ پرندوں کو مارنا "ناقابل تلافی نقصان" کا باعث بنے گا اور "مستقل طور پر منفرد جینیات اور تحقیق پر مبنی خصوصی کاروبار کو تباہ کر دے گا۔
" شترمرغوں کی جان بخشی کی مدت مختصر ہو سکتی ہےشتر مرغوں کو تلف نہ کرنے کا یہ فیصلہ قلیل المدتی ہو سکتا ہے، کیونکہ عدالت نے ابھی تک ان کی قسمت کا حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔
فوڈ انسپیکشن ایجنسی پرندوں کی حفاظت کرتی ہے اور اسے سپریم کورٹ میں فارم کی درخواست پر اپنا جواب داخل کرنے کے لیے تین اکتوبر تک کا وقت ہے۔ ادھر عدالت نے کہا کہ وہ اس کیس کو تیزی سے نمٹائے گی۔
24 ستمبر کی شام کو ایک بیان میں، فوڈ انسپکشن ایجنسی نے کہا کہ وہ اسٹے آرڈر کی تعمیل کرے گی۔
اس نے کہا کہ اس کی "اسٹیمپ آؤٹ پالیسی" جانوروں کی بیماریوں پر قابو پانے میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے اور یہ کہ وہ پولیس کے ساتھ "آن سائٹ سکیورٹی اور شتر مرغ فارم کے بظاہر حامیوں کی طرف سے تشدد اور موت کے جاری خطرات کی پیروی کے لیے کام کر رہی ہے۔
"حالیہ برسوں میں برڈ فلو کی شدید وباء کے نتیجے میں امریکہ میں برڈ فلو کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے لاکھوں مرغیاں، ٹرکی اور دیگر پرندے مارے جا چکے ہیں، جو انسانوں کو متاثر کر سکتے ہیں اور پولٹری کے لیے بھی مہلک ہیں۔
اسی عمل نے امریکی گروسری اسٹورز پر انڈے کی قیمتوں کو ریکارڈ بلندی تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
ادارت: جاوید اختر
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے شتر مرغوں کو مرغوں کو تلف سپریم کورٹ کے مالکان نے کہا کہ فارم کے کے لیے
پڑھیں:
سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد:عدالت عظمیٰ نے بڑا فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں ہے۔
سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت سنے گی ۔ نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اختیار سماعت ہی نہیں ہے۔
فیصلے میں قرار دیا گیا کہ نیب کے کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھے جائیں گے۔
واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کی تھی۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی۔