نیویارک(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 25 ستمبر2025ء) وزیراعظم شہبازشریف نے کہاہے کہ ماحولیاتی تباہی کا بوجھ ہم اٹھا رہے ہیں، قصور بڑے ممالک کا ہے ، پاکستان کا عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں حصہ نہ ہونے کے برابر ہے ،ہم اپنے حصے سے کہیں زیادہ نقصانات اٹھا رہے ہیں،امید ہے عالمی برادری آئندہ نسلوں کے تحفظ کیلئے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گی اور ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کیے جائیں گے جبکہ چینی صدر شی جن پنگ نے کہاہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے بڑھتے چیلنجز ایک حقیقت ہیں،ترقی یافتہ ممالک کو کاربن گیسوں کے اخراج میں کمی کے حوالے سے جامع اقدامات کرنے چاہئیں ۔

اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری اور برازیل کے صدر کی جانب سے نیویارک میں منعقدہ اسپیشل کلائمیٹ ایونٹ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کاربن گیسز کے اخراج میں حصہ نہ ہونے کے باوجود موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثرہ ممالک میں شامل ہے، ماحولیاتی تباہی کا بوجھ ہم اٹھا رہے ہیں جبکہ قصور بڑے ممالک کا ہے۔

(جاری ہے)

وزیر اعظم پاکستان شہبازشریف نے کہا کہ وہ ایسے وقت میں یہاں مخاطب ہیں جب پاکستان کو مون سون کی شدید بارشوں، کلاؤڈ برسٹ اور تباہ کن سیلاب کی صورتحال درپیش ہے ،اس موسمیاتی آفت کی وجہ سے 50 لاکھ سے زائد افراد اور 4100 دیہات متاثر ہوئے ہیں جبکہ ایک ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔

انہوںنے کہاکہ 2022ء میں بھی پاکستان کو سیلاب سے 30 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا تھا اور لاکھوں افراد بے گھر ہوئے تھے، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس خود اس صورتحال کا مشاہدہ کر چکے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کا عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں حصہ نہ ہونے کے برابر ہے لیکن ہم اپنے حصے سے کہیں زیادہ نقصانات اٹھا رہے ہیں۔

انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ عالمی برادری آئندہ نسلوں کے تحفظ کیلئے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گی اور ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے ماحولیاتی تحفظ کیلئے پاکستان کے اقدامات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان زہریلی گیسوں کے اخراج کو روکنے اور ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کر رہا ہے ، بڑے پیمانے پر شجر کاری اور جنگلات لگائے جارہے ہیں ، مینگروز کے تحفظ کو یقینی بنایا جارہا ہے ،متبادل اور ماحول دوست پن بجلی ، شمسی اور نیوکلیئر توانائی کو فروغ دیا جارہا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ کہ پاکستان کا ماحولیاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کا عزم پختہ اور غیر متزلزل ہے، پاکستان نے 2030ء تک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں بغیر کسی شرط کے 15 فیصد کمی کا وعدہ کیا تھا،مجموعی 50 فیصد کمی کے ہدف کے تحت پاکستان پہلے ہی اپنے غیر مشروط 15 فیصد کمی کے وعدے کو پورا کر چکا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے انرجی مکس میں قابلِ تجدید توانائی کا حصہ اس وقت 32 فیصد سے زائد ہے، شمسی توانائی کی پیداوار 2021ء کے بعد سات گنا بڑھ چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نیشنل ایڈاپٹیشن پلان پر عمل درآمد ناکافی عالمی ماحولیاتی مالی معاونت کے باعث شدید طور پر متاثر ہو رہا ہے۔وزیراعظم نے اعلان کیا کہ2035ء تک ملک کے انرجی مکس میں قابلِ تجدید اور پن بجلی کا حصہ بڑھا کر 62 فیصد تک کیا جائے گا،2030 تک جوہری توانائی کی صلاحیت میں 1200 میگاواٹ اضافہ کیا جائے گا،2030 ء تک 30 فیصد ٹرانسپورٹ کو صاف توانائی پر منتقل کیا جائے گا،ملک بھر میں 3 ہزار چارجر اسٹیشن قائم کیے جائیں گے،کلائمیٹ سمارٹ زراعت کو فروغ دیا جائے گا،پانی کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا اور ایک ارب درخت لگانے کا منصوبہ آگے بڑھایا جائے گا۔

چین کے صدر شی جن پنگ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے بڑھتے چیلنجز ایک حقیقت ہیں،ترقی یافتہ ممالک کو کاربن گیسوں کے اخراج میں کمی کے حوالے سے جامع اقدامات کرنے چاہئیں ، ماحول تبدیلیوں سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اجتماعی اقدامات کرنا ہوں گے، متبادل توانائی اور گرین انرجی کو فروغ دینا ہوگا،چین 2035ء تک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 7 فیصد سے 10 فیصد تک کمی لائے گا۔

انہوں نے کہا کہ چین عالمی سطح پر اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے،چین نے ماحول دوست متبادل توانائی کو فروغ دیا ہے،پیرس معاہدے کے مطابق تمام فریقین کو اقدامات کرنا ہوں گے۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اپنے خطاب میں کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے چیلنج سے نمٹنے کے لیے کلائمیٹ ایکشن کی ضرورت ہے،عالمی درجہ حرارت میں 1.

5 ڈگری کمی کے لیے فوری اقدامات ضروری ہیں، موسمیاتی تبدیلیوں سے سماجی اور اقتصادی چیلنجز بڑھ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کاربن گیسوں کے اخراج میں کمی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات وقت کی ضرورت ہیں، عالمی ماحولیاتی کانفرنسز میں ہونے والے وعدوں پر عمل درآمد کرنا ہوگا،متبادل توانائی ذرائع کو فروغ دیتے ہوئے گرین انرجی کی پالیسی اپنانا ہوگی،ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے سیلاب سے مختلف خطوں میں لاکھوں لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ماحول دوست ٹیکنالوجی اپناتے ہوئے کاربن گیسوں کا اخراج کم کیا جا سکتا ہے، متاثرہ ممالک کی مدد کے لیے لاس اینڈ ڈیمج فنڈ کو عملی شکل دینا ہوگی،ماحولیاتی انصاف موجودہ دور کا اہم تقاضا ہے،کاربن گیسوں کے اخراج کی ذمہ داری بڑے ممالک کو لینا ہوگی۔

برازیل کے صدرلوئیزانیکیو لولا ڈیسلوا نے کہا کہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کے ذمہ دار ملک صورتحال کے ذمہ دار ہیں، متاثرہ ممالک کی مدد کے لیے اقدامات ناکافی ہیں،ترقی یافتہ ممالک کی طرف سے وعدوں سے انحراف بھی ماحولیاتی مسائل کی ایک اہم وجہ ہے۔ یورپی کمیشن کی صدر نے کہا کہ یورپی یونین نے گرین توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری میں اضافہ کیا ہے،ماحول دوست ٹیکنالوجی کو ترجیح دی جا رہی ہے،یورپی یونین موسمیاتی تبدیلوں کے شعبے میں سب سے زیادہ فنڈز فرام کر رہی ہے۔ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے کرہ ارض پر زندگی کو خطرات درپیش ہیں۔کلائمیٹ سمٹ میں موسمیاتی تبدیلوں کے بڑھتے ہوئے چیلنجز اور اجتماعی اقدامات سے متعلق تجاویز پر غور کیا گیا۔

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کاربن گیسوں کے اخراج ماحولیاتی تبدیلیوں نے کہا کہ پاکستان ماحولیاتی تحفظ انہوں نے کہا کہ تحفظ کو یقینی کہ ماحولیاتی اٹھا رہے ہیں پاکستان کا ماحول دوست اقدامات کر اور ماحول بڑے ممالک کی وجہ سے کہ ماحول کے تحفظ جائے گا کو فروغ کے لیے کے صدر کمی کے

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف