Express News:
2026-07-24@15:11:11 GMT

جہاں کچھ بھی محفوظ نہ ہو

اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT

روزنامہ ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ تین سالوں میں 28 لاکھ 94 ہزار پاکستانی اپنا ملک چھوڑ کر بیرون ملک چلے گئے ہیں۔

امریکا، کینیڈا، یورپ اور عرب ملک جانے والے ان افراد میں بڑی تعداد میں خواتین بھی شامل ہیں اور اپنا ملک چھوڑ کر بیرون ملک جانے والے یہ پاکستانی قانونی طور پر گئے ہیں اور جاتے جاتے پروٹیکٹر کی فیس کی مد میں حکومت کو 26 ارب 62 کروڑ اور 48 لاکھ روپے کی بھاری رقم ادا کرکے گئے ہیں جب کہ غیر قانونی طور پر ملک چھوڑ کر اور اپنی جان خطرے میں ڈال کر پاکستانیوں کا تو پتا ہی نہیں کہ ان میں کتنے اپنی منزلوں پر پہنچ سکے، کتنے سمندروں کی نذر ہوئے اور کتنے بیرون ممالک اپنی غیر قانونی نقل مکانی پر وہاں کی جیلوں میں قید ہیں اور کتنے لاپتا ہیں جن کی کوئی اطلاع ان کے عزیزوں کو بھی نہیں ہے۔

حال ہی میں ایک سینئر صحافی بھی 18 سال کی کوشش کے بعد اپنا ملک چھوڑ کر امریکا چلے گئے ہیں اور پاکستان میں موجود اپنی ساری جائیداد اونے پونے فروخت کر کے ہمیشہ کے لیے واپس نہ آنے کے لیے اپنا ملک ایک نہیں کئی مجبوریوں کے باعث گئے، جنھیں امریکا بلانے کے لیے ان کے ایک عزیز نے 18 سال سے یہ کوشش جاری رکھی ہوئی تھی جو اب کامیاب ہوئی اور ملک چھوڑ کر جانے والے خاندان کے سربراہ صحافی کا کہنا تھا کہ جہاں کچھ بھی محفوظ نہ ہو، وہاں اب کیا رہنا۔انسانی اسمگلروں کو اپنی زندگی کی ساری پونجی اپنی زندگی داؤ پر لگا کر اپنا ملک چھوڑ کر جانے والے بھی باز نہیں آ رہے اور غیر قانونی طور باہر جانے والوں کو پتا ہے کہ ملک چھوڑ کر جانے میں ان پر کیا گزرے گی، وہ باہر جانے میں کامیاب ہوں گے یا راستے میں مارے جائیں گے۔

پھر بھی باہر جانے کے جنون میں مبتلا ہیں۔ انھیں ملک چھوڑنے کا دکھ ہے نہ اپنوں سے بچھڑنے کا خیال ان کے ذہن میں صرف یہ بات سما گئی ہے کہ اب اپنے ملک میں نہیں رہنا۔ انھوں نے ہر قیمت پر اپنا وطن اور اپنے چھوڑنے ہیں اس کی وہ جو بھی قیمت ادا کریں گے وہ ادا کر رہے ہیں مگر اپنا ملک چھوڑنا ان کی ضد بن چکا اور وہ کسی بھی حالت میں اپنی مالی تباہی برداشت کرکے یہ رسک لے رہے ہیں۔ جنھیں اس غیر قانونی نقل مکانی میں اپنی جان کی بھی فکر نہ ہو انھیں کون سمجھا سکتا ہے نہ کوئی روک سکتا ہے۔

غیر قانونی طور باہر جانے والے 22 افراد نے تو نیا طریقہ اختیار کیا اور وہ جعلی فٹبال ٹیم کے نام پر غیر قانونی طور جاپان پہنچ گئے اور پکڑے گئے اور سب کو ڈی پورٹ بھی ہونا پڑا جو انسانی اسمگلرز نے نئے چنگل میں پھنس کر جعلی دستاویزات کے ذریعے جاپان پہنچ بھی گئے تھے جن سے اسمگلرز نے چالیس لاکھ روپے فی کس وصول کیے تھے جن میں صرف ایک انسانی اسمگلر ہی گرفتار ہوا ہے۔

چالیس لاکھ روپے ادا کرکے ملک چھوڑنے کے خواہش مند یہ افراد غریب نہیں ہوں گے وہ اتنی بڑی رقم سے اپنے ملک میں رہ کر کوئی کاروبار بھی کر سکتے تھے مگر انھوں نے ملک سے جانے کو ترجیح دی اور رقم بھی گنوائی اور اپنی اس غیر قانونی حرکت کی سزا بھی بھگتنی ہے۔ 40 لاکھ فی کس دے کر باہر جانے کے خواہش مندوں کو شاید پتا تھا کہ اپنے ملک میں بڑا کاروبار کرنا بھی آسان نہیں ان کے پیچھے پڑ جانے والے سرکاری اداروں نے ان کا جینا حرام کر دینا تھا کہ اتنی بڑی رقم کہاں سے آئی۔حکومت اپنے ملک کے نوجوانوں کا سوچے، انھیں اپنے ملک میں کچھ کرنے کی ترغیب دے اور رہنمائی کرے تو کوئی کیوں اپنا ملک چھوڑنے کا سوچے گا؟

 پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایک سابق وزیر اعظم نے باہر جانے والوں کے لیے کہا تھا کہ وہ جائیں انھیں روکا کس نے ہے؟ ملک میں روزگار فراہم کرنا کیا حکومت کی ذمے داری نہیں۔ حکومت کو صرف یہ فکر ہے کہ ایک عام آدمی ٹیکس کیوں نہیں دے رہا۔ چھوٹے دکاندار کیا کوئی بھی کام سرانجام دینے والوں سے ٹیکس لو۔ کوئی ٹیکس سے محفوظ نہ رہے تاکہ حکمرانوں کے دن پھرتے اور وہ نئے سوٹوں میں خود دنیا گھومتے رہیں۔

اپنا علاج بھی باہر کرائیں، بیرون ملک کاروبار کریں اور اپنے ملک میں خود ٹیکس نہ دیں مگر اپنے ملک کے قلمی مزدور کو بھی نہ چھوڑیں اور اسے بھی فائلر بنا کر ہی رہیں۔ جس ملک میں حکومت کو بے روزگاروں کو روزگار دینے کی فکر ہو نہ عوام کو صحت و تعلیم دینے کا خیال اور صرف ٹیکس بڑھانا اس کا مشن ہو تو لوگ اپنے ملک کو چھوڑنے کا کیوں نہیں سوچیں گے۔

جہاں جان و مال باہر تو کیا گھروں میں بھی محفوظ نہ ہو۔ لاقانونیت عام ہو جائے اور حکومت خاموش تماشائی بنی رہے۔ لوگوں کے ساتھ کھلے عام فراڈ ہوں اور ایف آئی اے مکمل ناکام ہو۔ پولیس عوام کی حفاظت کرنے کی بجائے خود اغوا برائے تاوان میں ملوث ہو۔ سرکاری ادارے سرعام لوگوں کی تذلیل کریں، غیر قانونی گرفتاریوں پر کوئی پرسان حال نہ ہو تو اپنے مستقبل سے مایوس لوگوں کے لیے راستہ کیا رہ جاتا ہے کہ وہ کسی بھی طرح باہر جانے کا کیوں نہ سوچیں؟

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اپنا ملک چھوڑ کر اپنے ملک میں باہر جانے جانے والے محفوظ نہ گئے ہیں ہیں اور تھا کہ

پڑھیں:

نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا

سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔

سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔

اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • چینی چڑیا گھر میں جانور گرمی کی شدید لہر سے کیسے محفوظ رہتے ہیں؟
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس