مٹن،دودھ،دہی،گھی اورآٹےسمیت17اشیاءمزید مہنگی
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور:رواں ہفتے کے دوران ٹماٹر، انڈے، مٹن، دودھ، دہی، گھی اور آٹے سمیت 17 اشیاءمزید مہنگی ہو گئیں ، بیشتر اشیاءکی قیمتوں میں اضافے کے باوجود ادارہ شماریات کا مسلسل تیسرے ہفتے مہنگائی کم ہو جانے کا دعویٰ۔ وفاقی ادارہ شماریات نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں تیسرے ہفتے بھی مہنگائی میں اضافے کی رفتار کی شرح میں کمی کا رجحان جاری ہے اور حالیہ ہفتے مہنگائی کی شرح میں کمی کی رفتار میں 0.
16 فیصد کمی واقع ہوئی جبکہ اس سے پچھلے ہفتے بھی مہنگائی میں اضافے کی رفتار کی شرح میں 1.34 فیصد کمی واقع ہوئی تھی اور حالیہ ہفتے سالانہ بنیاد پر بھی مہنگائی کی شرح 4.17 فیصد سے کم ہوکر 3.95 فیصد ہوگئی ہے۔
اعداد وشمار میں بتایا گیا کہ گزشتہ ہفتے ٹماٹر، انڈے، مٹن، دودھ، دہی، گھی اور آٹے سمیت 17 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ آلو، پیاز، لہسن، دال مونگ اور دال چنا سمیت 11 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی اور23 اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مستحکم رہی ہیں۔وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق حالیہ ایک ہفتے میں ٹماٹر 9.04 فیصد، انڈے 0.88 فیصد، آٹا کی قیمت میں 0.76 فیصد، واشنگ سوپ 0.47 فیصد، مٹن 0.40 فیصد، ویجیٹیببل گھی 0.16 فیصد،گڑ 0.64 فیصد، دودھ کی قیمت میں0.15 فیصد، دہی کی قیمت میں0.11 فیصد اور پاو ¿ڈر ملک 0.58 فیصد مہنگی ہوئی ہے۔
حالیہ ایک ہفتے میں جن اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی آئی ان میں پیاز 1.61 فیصد، آلو 2.44 فیصد، دال ماش 0.39 فیصد، دال مونگ کی قیمت میں0.60 فیصد،کیلے4.22 فیصد، دال مسور 0.14 فیصد، دال چنا0.53 فیصد، لہسن0.61 فیصد اور مرغی کی قیمت میں 12.46 فیصد کمی ہوئی ہے۔ اعدادوشمار میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ ہفتے کے دوران حساس قیمتوں کے اعشاریہ کے لحاظ سے سالانہ بنیادوں پر 17 ہزار 732روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی میں اضافے کی رفتار0.02 فیصداضافے کے ساتھ 3.75فیصد، 17 ہزار 733روپے سے 22 ہزار 888روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی میں اضافے کی رفتار 0.04 فیصد کمی کے ساتھ 3.90فیصد، 22 ہزار 889روپے سے 29 ہزار 517 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی میں اضافے کی رفتار0.09فیصدکمی کے ساتھ4.74فیصد ریکارڈ کی گئی۔
اسی طرح 29 ہزار 518روپے سے 44ہزار 175 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی میں اضافے کی رفتار 0.14 فیصد کمی کے ساتھ4.77 فیصد رہی جبکہ 44 ہزار 176روپے ماہانہ سے زائد آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی میں اضافے کی رفتار0.21 فیصد کمی کے ساتھ 3.21 فیصد رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔