Daily Pakistan:
2026-06-03@08:10:43 GMT
عدالت نے عمران خان کے وکیل نعیم پنجو تھہ کو گرفتار کرنے کا حکم دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
راولپنڈی(ڈیلی پاکستان آن لائن)انسداد دہشت گردی کی عدالت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل نعیم حیدر پنجوتھہ کی عبوری ضمانتیں خارج کرتے ہوئے انہیں گرفتار کرنے کا حکم دےدیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق یہ فیصلہ انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ سنایا۔26 نومبر کے تھانہ اٹک کے 2 مقدمات میں نعیم حیدر نے عبوری ضمانت کرائی تھی، طلبی کے باوجود آج ملزم نعیم حیدر پنجوتھہ اور ان کے وکیل پیش نہیں ہوئے۔عدم پیروی کے باعث عدالت نے عبوری ضمانتیں خارج کر دیں۔ عدالت نے ملزم نعیم حیدر پنجوتھہ ایڈووکیٹ کو گرفتار کرنے کا حکم دے دیا۔
پشاور کا جلسہ ہائبرڈ نظام کے خاتمےاور آزاد عدلیہ کے قیام کا سنگِ میل ثابت ہوگا،اسد قیصر
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: عدالت نے
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔