Jasarat News:
2026-07-24@03:47:54 GMT

مسلم ممالک صرف اعلانات اور بیانات تک محدود

اشاعت کی تاریخ: 28th, September 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

 

او آئی سی رابطہ گروپ نے پہل گام حملے کے بعد بھارت کی جانب سے جموں و کشمیر میں کیے گئے جابرانہ اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر حل کیے بغیر خطے میں امن ناممکن قرار دیا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80 ویں اجلاس کے موقع پر اسلامی تعاون تنظیم کے رابطہ گروپ برائے جموں و کشمیر کے وزرائے خارجہ اور اعلیٰ حکام کا اجلاس نیویارک میں منعقد ہوا جس کی صدارت او آئی سی کے سیکرٹری جنرل نے کی جبکہ آذربائیجان، پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور نائجر کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں کشمیری عوام کے نمائندوں نے بھارتی زیر ِ قبضہ جموں و کشمیر کی تازہ ترین صورت حال پر بریفنگ دی۔ ادھر، فلسطین کو تسلیم کرنے کے حوالے سے بڑھتے ہوئے عالمی فیصلوں کے پس منظر میں سعودی عرب نے فرانس، بلجیم، لکسمبرگ، مالٹا، موناکو، اینڈورا اور سان مارینو کی جانب سے فلسطینی ریاست کے باضابطہ اعتراف کا خیرمقدم کیا ہے۔ یہ اعلان ریاض اور پیرس کی مشترکہ صدارت میں منعقد ہونے والے اعلیٰ سطحی بین الاقوامی کانفرنس کے دوران کیا گیا جس کا مقصد مسئلہ فلسطین کے پرامن حل اور دو ریاستی فارمولے پر عمل درآمد کو آگے بڑھانا تھا۔ علاوہ ازیں، انڈونیشیا نے غزہ میں قیام امن کے لیے 20 ہزار سے زائد امن فوج بھیجنے کا اعلان کر دیا جبکہ غزہ کے لیے امداد لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کے قریب دھماکے اور ڈرون پروازوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، اب تک 11 دھماکے جہازوں کے قریب ہوئے جبکہ 9 کشتیوں کو فلیش بینگز سے نشانہ بنایا گیا۔ فلوٹیلا کے قریب دھماکوں اور فلیش بینگ حملوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

مقبوضہ کشمیر اور فلسطین کی صورت حال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ مسلم ممالک صرف اعلانات اور بیانات پر ہی اکتفا نہ کریں اور آگے بڑھ کر ان مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کریں۔ مسلم ممالک کی نوجوان نسل اپنے حکمرانوں سے اسی لیے بیزار دکھائی دیتی ہے کہ وہ عالمی منظر نامے پر کٹھ پتلیوں سے بڑھ کر کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ اگر یہ حکمران اپنے ملکوں کے اندر استحکام چاہتے ہیں تو انہیں عوامی جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے کشمیر اور فلسطین میں مظالم کا شکار اپنے بہن بھائیوں کی فوری مدد کے لیے مشترکہ حکمت عملی تشکیل دینی چاہیے، بصورتِ دیگر نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے چینی ان کے لیے ناقابل ِ تلافی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ وفاقی حکومت نے پاکستان اور سعودی عرب کے مابین طے پانے والے دفاعی معاہدے پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں قومی اسمبلی کا اجلاس ستمبر کے آخری دنوں میں طلب کیا گیا ہے، جس میں حکومت پاک‘ سعودی دفاعی معاہدے کے بارے میں ایوان کو اعتماد میں لے گی۔ وزیر دفاع خواجہ آصف اس حوالے سے پالیسی بیان دیں گے۔ اب یہ بھی فیصلہ ہوا ہے کہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے جائیں۔

پاک سعودی دفاعی معاہدے کی اہمیت اپنی جگہ فلسطین کی آزادی اور کشمیر کی آزادی کی اپنی اہمیت ہے۔ اس معاہدے کے تحت کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا‘ بھارت پاکستان پر حملہ کرے گا۔ تو معاہدے کس قدر متحرک ہوگا؟ کہا جارہا ہے کہ اس معاہدے میں دیگر عرب ممالک کی شمولیت کے لیے بھی دروازے کھلے ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین اس معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی کوئی آئینی یا قانونی پابندی نہیں ہے۔ تاہم، حکومت اسے زیادہ پائیدار بنانے اور اس کی غیر معمولی اہمیت کے پیش نظر پارلیمنٹ میں لا رہی ہے۔ یہ ان معاہدوں میں شامل ہے جن پر وسیع تر قومی اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ اس معاہدے پر پورے ملک میں کوئی مخالفت سامنے نہیں آئی۔ حتیٰ کہ پاکستان تحریک انصاف، جو عام طور پر حکومتی اقدامات کی مخالفت کرتی ہے، اس کے بانی عمران خان نے بھی جیل سے اپنے پیغام میں اس معاہدے کی ستائش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک‘ سعودی معاہدہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور پاکستان کو عالمی سطح پر رابطے مضبوط اور بحال رکھنے چاہئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حرمین شریفین کی حفاظت ہمارے لیے سعادت کی بات ہے۔ اس قومی اتفاق رائے سے پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔ یہ معاہدہ نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جائے گا بلکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بھی ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔ قومی اتفاق رائے اس معاہدے کی کامیابی اور اس کے دور رس اثرات کی ضمانت ہے۔ یہ اتحاد پاکستانی قوم کی مشترکہ سوچ اور عظیم مقاصد کے حصول کے لیے یکسوئی کی عکاسی کرتا ہے، جو دونوں ممالک کے مابین گہرے تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتوں کو مزید مستحکم کرے گا۔

جاوید الرحمن ترابی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: دفاعی معاہدے اس معاہدے کے لیے

پڑھیں:

پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو

وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔

فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔

ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔

عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔

ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔

ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔

ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔

اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل