شاہ رخ خان گزشتہ 25 سال میں بھارت کے سب سے نمایاں اداکار قرار
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
انٹرنیٹ مووی ڈیٹا بیس (آئی ایم ڈی بی) کی تازہ رپورٹ کے مطابق بالی ووڈ کے بادشاہ شاہ رخ خان گزشتہ پچیس برسوں میں بھارت کے سب سے زیادہ نمایاں اداکار کے طور پر ابھرے ہیں۔
یہ رپورٹ ’بھارتی سینما کے 25 سال‘ کے عنوان سے منگل کو جاری کی گئی، جس میں شاہ رخ خان کی شاندار کارکردگی کو واضح طور پر سراہا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق شاہ رخ خان نے 130 سب سے مقبول بھارتی فلموں میں سے 20 فلموں میں اپنے جلوے بکھیرے ہیں۔ یہ ڈیٹا جنوری 2000 سے اگست 2025 کے درمیان ہر سال ریلیز ہونے والی سب سے زیادہ مقبول پانچ بھارتی فلموں پر مبنی ہے، جنہیں دنیا بھر میں مجموعی طور پر 91 لاکھ سے زائد صارفین کی ریٹنگ حاصل ہوئی۔
شاہ رخ خان نے 2000 کی دہائی کے اوائل میں بھارتی سینما پر اپنی واضح حکمرانی قائم کی، جب انہوں نے 2000 سے 2004 کے درمیان ریلیز ہونے والی 25 سب سے مقبول فلموں میں سے آٹھ میں مرکزی کردار ادا کیا۔ ان کی مسلسل مقبولیت کا یہ عالم رہا کہ ان برسوں میں بھی جب ان کی کوئی فلم ریلیز نہیں ہوئی، وہ آئی ایم ڈی بی کی مقبول سلیبریٹیز فہرست میں شامل رہے۔
اس حوالے سے ایک بیان میں شاہ رخ خان نے کہا کہ یہ ان کے لیے حوصلہ افزا ہے کہ ان کی فلموں نے ناظرین پر جو اثر ڈالا وہ اب ان کے سامنے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’میرا مقصد ہمیشہ لوگوں کو تفریح فراہم کرنا اور کہانی سنانے کے ذریعے ان کے دل جیتنا رہا ہے۔ میں ہمیشہ سے یہ یقین رکھتا ہوں کہ سینما کی طاقت زبان اور ثقافت کی حدوں سے ماورا ہے۔‘‘
یہ رپورٹ اس وقت سامنے آئی ہے جب آئی ایم ڈی بی، جس کے ماہانہ صارفین کی تعداد 25 کروڑ سے زائد ہے، نے بھارتی سنیما کے گزشتہ 25 سالوں کای جامع جائزہ پیش کیا ہے۔ شاہ رخ خان کی مقبولیت کا یہ سلسلہ 2024 میں بھی جاری رہا، جب وہ سال کے ہر ہفتے ٹاپ 10 اداکاروں کی فہرست میں شامل رہے۔
شاہ رخ خان کا یہ اعزاز نہ صرف ان کی اداکاری کی صلاحیتوں بلکہ ان کے مسلسل عوام سے جڑے رہنے کی بھی عکاسی کرتا ہے، جو انہیں بھارتی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار ستارہ ثابت کرتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: شاہ رخ خان
پڑھیں:
غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
غزہ میں انسانی بحران مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور رواں سال دسمبر تک تقریباً 14 لاکھ افراد کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ تعداد اپریل سے جون 2026 کے دوران 12 لاکھ تھی۔ یہ انکشاف انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن (IPC) کی تازہ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق غزہ کی 67 فیصد آبادی شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہو سکتی ہے، جبکہ 2 لاکھ 12 ہزار افراد غذائی بحران کے انتہائی ہنگامی مرحلے میں زندگی گزار رہے ہیں۔
آئی پی سی کے مطابق گزشتہ سال اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد امدادی سرگرمیوں میں اضافے سے حالات میں وقتی بہتری آئی تھی اور مئی کے دوران تقریباً 14 لاکھ 90 ہزار افراد تک غذائی امداد پہنچائی گئی۔ تاہم امداد کی مقدار ضرورت سے کہیں کم ہے، روزگار کے مواقع تقریباً ختم ہو چکے ہیں اور 83 فیصد خاندانوں کے پاس آمدنی کا کوئی مستقل ذریعہ موجود نہیں، جس کے باعث آبادی کی اکثریت مکمل طور پر امدادی سامان پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔
یہ بھی پڑھیے ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اپریل 2027 تک 5 سال سے کم عمر 74 ہزار 200 بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں، جن میں 11 ہزار 432 بچوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہونے کا خدشہ ہے اور انہیں فوری طبی و غذائی امداد درکار ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق اس وقت غزہ میں ہر 5 میں سے صرف ایک بچے کو مناسب خوراک میسر ہے، جبکہ تقریباً نصف خاندانوں کو روزانہ فی فرد 15 لیٹر سے بھی کم پانی دستیاب ہے، جو عالمی انسانی معیار سے کہیں کم ہے۔
اسی طرح 24 ہزار 600 سے زائد حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی مائیں شدید غذائی قلت کا شکار ہیں اور انہیں فوری ہنگامی غذائی امداد کی ضرورت ہے۔
آئی پی سی کے مطابق جاری جنگ کے نتیجے میں غزہ کا بنیادی ڈھانچہ بھی بری طرح تباہ ہو چکا ہے۔ تقریباً 75 فیصد رہائشی مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو گئے ہیں، 70 فیصد سڑکیں ناقابل استعمال ہو چکی ہیں، 95 فیصد زرعی ڈھانچہ متاثر ہوا ہے، جبکہ 92 فیصد سے زائد کاروباری ادارے تباہ یا بند ہو چکے ہیں۔
رپورٹ میں ورلڈ بینک، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے مشترکہ تخمینے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں غزہ میں 35.2 ارب ڈالر مالیت کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے، 22.7 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہو چکا ہے، جبکہ غزہ کی بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے کم از کم 71.4 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔
آئی پی سی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ تک انسانی امداد کی بلا رکاوٹ اور مسلسل رسائی یقینی بنائی جائے، غذائیت سے متعلق ہنگامی پروگراموں میں توسیع کی جائے اور مستقل جنگ بندی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ انسانی بحران مزید سنگین نہ ہو۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود اکتوبر 2025 سے فضائی حملوں، گولہ باری اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ معاہدے کے بعد بھی 900 سے زائد شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
غذائی قلت غزہ فلسطین