لاہور( اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 02 اکتوبر 2025ء ) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ غزہ امن معاہدہ کو نوآبادیاتی نظام کی بحالی کا اعلان قرار دیتے ہوئے حکومت پاکستان پر واضح کیا ہے کہ اس کے اسرائیلی ریاست کو تسلیم کرنے کے کسی مذموم ارادے کی ہرسطح پر اس طرح مزاحمت ہوگی کہ حکمران طبقہ عبرت کا نشان بن جائے گا۔

آزاد کشمیر میں مظاہرین کے  جائز مطالبات کی حمایت کرتے ہیں، حکومت دانش مندی سے معاملہ حل کرے۔منصورہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فی الفور واضح اعلان کرے کہ پاکستان واحد فلسطینی ریاست کا قیام چاہتا ہے۔ ملک میں جو کوئی بھی قائداعظم اور پچیس کروڑ عوام کے اصولی موقف کے خلاف جائے گا وہ مظلوموں کے خون کا سودا کرے گا اور اسرائیل کا ہمدرد تسلیم کیا جائے گا۔

(جاری ہے)

نائب امیر لیاقت بلوچ، سیکرٹری جنرل امیر العظیم اور سیکرٹری اطلاعات شکیل ترابی بھی اس موقع پر موجود تھے۔ امیر جماعت اسلامی نے صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی نیوی کے حملہ اور امدادی کارکنوں کو یرغمال بنانے  کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور فلسطین سے اظہار یکجہتی، ٹرمپ کے غزہ امن معاہدہ اور فلوٹیلا پر اسرائیلی حملہ کے خلاف جمعہ کو ملک بھر میں احتجاج کا اعلان کیا۔

جماعت اسلامی ہفتہ چار اکتوبر کو لاہور اور پانچ اکتوبر کو کراچی میں فلسطین ملین مارچ کا انعقاد کرے گی، سات اکتوبر کو اسلام آباد میں مارچ اور ملک گیر احتجاج ہوگا۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے ٹرمپ منصوبہ پیش کیے جانے سے قبل ہی اس کی حمایت کا اعلان خوشامد اور چاپلوسی کی نئی مثال ہے۔ حکمران ابراہم اکارڈ کی جانب پیش رفت کرنے سے گریز کریں اور قائدین اسلامیان برصغیرعلامہ اقبال، قائداعظم محمد علی جناح اور دیگر کے فلسطین اور اسرائیل سے متعلق سو سالہ موقف کے خلاف جانے کی جرآت نہ کریں۔

انہوں نے کہا شہباز شریف کے اعلان کے بعد نائب وزیراعظم اسحق ڈار وضاحتیں پیش کررہے ہیں، جو ناکافی ہیں، حکومت فوری اعلان کرے کہ پاکستان صرف اور صرف فلسطینی ریاست چاہتا ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی حماس کو جمہوری اور قانونی مزاحمتی تحریک تسلیم کرتی ہے۔ حماس کو غیر مسلح کردیا گیا تو فلسطینیوں کا وہی حال ہوگا جو سربوں نے بوسنیائی مسلمانوں کا کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی امریکی امن معاہدہ پر حماس کے موقف کی تائید کریگی۔  فلسطین پر اصولی موقف سے دستبرداری کا مطلب ہوگا کہ پاکستان کشمیر پر قومی موقف پر بھی سودے بازی کرلے گا، مسئلہ فلسطین و کشمیر  ایک ہی طرح کی صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں، دونوں مسائل پر اقوام متحدہ کی واضح قراردادیں موجود ہیں۔امیر جماعت اسلامی نے آزاد کشمیر میں جاری صورتحال پر افسوس کا اظہار کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ مظاہرین کے جائز مطالبات تسلیم کرے۔

انہوں نے مظاہرین سے بھی اپیل کی کہ اگرچہ سیاسی مزاحمت ان کا حق ہے اور انہیں پرامن طریقہ سے یہ مزاحمت جاری رکھنی چاہیے تاہم تشدد سے گریز کیا جائے، اس سے نہ صرف عوامی تحریک کو نقصان پہنچے گا بلکہ کشمیر کا مقدمہ بھی کمزور ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی مظاہرین کے جائز مطالبات کی حمایت کرتی ہے تاہم انھیں بھی اپنی صفوں کا جائزہ لینا چائیے کہ کوئی ملک دشمن اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لئے گُھس نہ گیا ہو۔

مظاہرین کا کشمیری پناہ گزینوں کی بارہ مخصوص سیٹیں ختم کرنے کا مطالبہ بھی کسی حد تک درست ہے، ہم نے امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر ڈاکٹر مشتاق خان اور حکومتی وزراء سے رابطے کیے ہیں اور مسئلہ کے حل کے لیے کوششیں کررہے ہیں۔ حکومت اور کشمیری عوام ہر ایسے اقدام سے باز رہیں جس سے شکست خوردہ ہندوستان فائدہ اٹھائے۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کرپشن کا گڑھ ہے، پی ڈی ایم جماعتیں اور خاص طور پر ن لیگ اور پیپلز پارٹی نورا کشتی کی سیاست کررہی ہیں جس کی عوام کو مکمل سمجھ ہے۔ .

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ انہوں نے

پڑھیں:

اسلامی اقدار اور جدید دور

آج کی دنیا اپنی رفتار، اپنی چمک اور اپنی پیچیدگی کے باعث پہلے سے کہیں زیادہ متنوع ہو چکی ہے۔ ٹیکنالوجی نے فاصلے سمٹائے ہیں، معلومات کی فراوانی پیدا کی ہے، اور زندگی کے بے شمار شعبوں میں سہولتیں فراہم کی ہیں۔ مگر اسی کے ساتھ انسان کے اندرونی سکون، اخلاقی توازن، خاندانی استحکام اور روحانی وابستگی میں ایک واضح کمی بھی محسوس ہوتی ہے۔ یہ وہ خلا ہے جسے صرف مادی ترقی پر نہیں کر سکتی۔ اس خلا کو وہ اقدار پر کرتی ہیں جو انسان کو اس کی اصل پہچان، اس کے مقصدِ حیات اور اس کی اخلاقی ذمہ داریوں سے جوڑتی ہیں، اور اسلامی اقدار اسی ضرورت کا جواب ہیں۔
اسلام محض چند عبادات یا رسومات کا نام نہیں، بلکہ ایک جامع نظامِ زندگی ہے۔ یہ انسان کے عقیدے کو بھی درست کرتا ہے، اس کے اخلاق کو بھی سنوارتا ہے، اس کے معاملات کو بھی راہ دکھاتا ہے، اور اس کے اجتماعی رویوں کو بھی متوازن بناتا ہے۔ سچائی، امانت، عدل، حیا، رحم، خدمت، صبر، شکر اور ذمہ داری جیسے اصول اسلام کی روح ہیں۔ یہ اصول کسی ایک زمانے، کسی ایک تہذیب یا کسی ایک معاشرے تک محدود نہیں، بلکہ ہر دور کے انسان کے لیے رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ جدید دور میں، جب مفاد پرستی، خود غرضی، دکھاوا، بے صبری اور اخلاقی بے راہ روی عام ہوتی جا رہی ہے، اسلامی اقدار پہلے سے زیادہ اہم ہو گئی ہیں۔
آج انسان بظاہر زیادہ باخبر ہے، مگر اندر سے زیادہ بے چین بھی ہے۔ اس کے پاس ذرائع ابلاغ کی بے پناہ طاقت ہے، مگر سچائی کی کمی ہے۔ اس کے پاس رابطے کے لاتعداد وسیلے ہیں، مگر دلوں میں دوریاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ اس کے پاس سہولتیں ہیں، مگر اطمینان کم ہے۔ اس کے پاس آزادی کے نعرے ہیں، مگر ذمہ داری کا احساس کمزور پڑتا جا رہا ہے۔ ایسے ماحول میں اسلام انسان کو توازن دیتا ہے۔ وہ اسے یہ سکھاتا ہے کہ آزادی ہو مگر اخلاق کے ساتھ، ترقی ہو مگر انصاف کے ساتھ، علم ہو مگر حکمت کے ساتھ، اور طاقت ہو مگر جواب دہی کے ساتھ۔
اسلامی اقدار کی خوبصورتی یہ ہے کہ وہ انسان کو زمانے سے الگ نہیں کرتیں بلکہ زمانے کے اندر رہتے ہوئے بہتر انسان بننے کی تربیت دیتی ہیں۔ اسلام عقل کے استعمال کو سراہتا ہے، علم کے حصول کو عبادت کے درجے تک پہنچاتا ہے، تحقیق کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، اور انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ اس لحاظ سے اسلام جدیدیت کا مخالف نہیں، بلکہ ایسی جدیدیت کا حامی ہے جو انسان کی فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ اگر جدید دور سے مراد سائنس، ٹیکنالوجی، مواصلات، تحقیق اور سہولتوں میں ترقی ہے تو اسلام ان سب سے متصادم نہیں۔ البتہ اگر جدید دور سے مراد اخلاقی نسبیت، خاندانی نظام کی تباہی، مادہ پرستی اور بے مقصد آزادی ہے تو اسلام اس پر خاموش نہیں رہ سکتا۔
مسلمان معاشروں کا اصل مسئلہ یہ نہیں کہ اسلام آج کے تقاضوں کا ساتھ نہیں دے سکتا، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اسلام کو اپنی اجتماعی زندگی میں مکمل طور پر نافذ نہیں کیا۔ ہم نماز کو تو اختیار کرتے ہیں مگر معاملات میں سچائی کمزور رہتی ہے۔ ہم مذہبی شناخت کو تو اہم سمجھتے ہیں مگر سماجی انصاف کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ہم دین کی بات تو کرتے ہیں مگر اس کی اخلاقی روح کو اپنی زندگیوں میں جگہ نہیں دیتے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہماری ظاہری وابستگی تو باقی رہتی ہے، لیکن اجتماعی کردار متاثر ہوتا ہے۔ جدید دنیا میں اصل ضرورت اسی کردار کی ہے جو دیانت، انصاف، نرمی، امانت اور انسان دوستی پر قائم ہو۔
نوجوان نسل اس بحث کا سب سے اہم حصہ ہے۔ آج کا نوجوان ایک ایسے ماحول میں زندگی گزار رہا ہے جہاں ہر طرف مسابقت ہے، دبا ہے، اشتہارات ہیں، فیشن ہے، مواد کی بھرمار ہے، اور شناخت کے بحران ہیں۔ اس صورتحال میں اگر اسے کوئی مضبوط اخلاقی بنیاد نہ دی جائے تو وہ منتشر ہو سکتا ہے۔ اسلامی اقدار نوجوان کو جڑ بھی دیتی ہیں اور سمت بھی۔ وہ اسے بتاتی ہیں کہ کامیابی صرف کیریئر بنانے کا نام نہیں، بلکہ اچھا انسان بننے کا نام بھی ہے۔ وہ اسے یہ شعور دیتی ہیں کہ عزت صرف شہرت میں نہیں، کردار میں بھی ہوتی ہے؛ اور ترقی صرف تنخواہ یا معیارِ زندگی میں نہیں، بلکہ اخلاقی بلندی میں بھی ہوتی ہے۔
خاندانی نظام کے لیے بھی اسلامی اقدار ناگزیر ہیں۔ جدید دنیا میں خاندان تیزی سے کمزور ہو رہا ہے۔ والدین اور بچوں کے درمیان فاصلہ، میاں بیوی کے درمیان عدم برداشت، بزرگوں کی بے توقیری، اور رشتوں میں مفاد پرستی ایک عام مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ اسلام خاندان کو محض ایک سماجی اکائی نہیں سمجھتا بلکہ اسے تربیت، محبت، قربانی اور سکون کا مرکز قرار دیتا ہے۔ اگر گھر کے اندر اسلامی اخلاق زندہ ہوں تو معاشرہ بھی سنورتا ہے۔ کیونکہ معاشرہ گھروں ہی سے بنتا ہے، اور گھروں کی اصلاح کے بغیر کسی بڑی اجتماعی تبدیلی کا خواب ادھورا رہتا ہے۔
میڈیا اور سوشل میڈیا کے اس دور میں بھی اسلامی اقدار کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔ جھوٹی خبروں، بے بنیاد پروپیگنڈے، کردار کشی، سنسنی، اور اخلاقی بے احتیاطی نے ابلاغ کو ایک خطرناک میدان بنا دیا ہے۔ صحافت اگر سچائی، امانت اور ذمہ داری سے خالی ہو جائے تو وہ اصلاح کے بجائے فساد کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اسلامی تعلیمات میڈیا کے لیے بھی ایک واضح ضابطہ فراہم کرتی ہیں: خبر کی تصدیق، زبان کی پاکیزگی، نیت کی درستگی، اور اثرات کی ذمہ داری۔ یہی اصول جدید صحافت کو معتبر بناتے ہیں۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اسلامی اقدار فرد کو صرف اخلاقی ضابطہ نہیں دیتیں بلکہ اسے اندرونی وقار بھی عطا کرتی ہیں۔ جدید انسان بسا اوقات دوسروں کی نظر میں اچھا دکھنے کے لیے جیتا ہے، مگر اپنی روح کے ساتھ سچا نہیں ہوتا۔ اسلام دکھاوے کے بجائے اخلاص سکھاتا ہے۔ یہ انسان کو یاد دلاتا ہے کہ اصل کامیابی لوگوں کی داد نہیں، بلکہ اللہ کی رضا ہے۔ یہی احساس انسان کو منافقت سے بچاتا ہے، اس کی نیت کو صاف کرتا ہے، اور اس کے عمل کو مضبوط بناتا ہے۔
معاشی زندگی میں بھی اسلامی اقدار کی حیثیت غیر معمولی ہے۔ جدید معیشت نے بڑے پیمانے پر ترقی تو کی ہے، مگر ساتھ ہی استحصال، سود، دھوکہ، ذخیرہ اندوزی، ناپ تول میں کمی اور مالی ناانصافی بھی پیدا کی ہے۔ اسلام معاشی سرگرمیوں کو جائز، صاف، شفاف اور انسانی احترام کے دائرے میں رکھتا ہے۔ وہ دولت کے انبار لگانے سے زیادہ جائز کمائی، عدل اور سماجی بھلائی پر زور دیتا ہے۔ اگر اس اصول کو اپنایا جائے تو معیشت محض منافع کا کھیل نہیں رہتی بلکہ اجتماعی فلاح کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
درحقیقت اسلامی اقدار اور جدید دور میں کوئی حقیقی تضاد نہیں۔ تضاد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہم جدیدیت کو اخلاق سے جدا کر دیں یا دین کو عملی زندگی سے الگ سمجھ لیں۔ اسلام نہ زمانے سے فرار سکھاتا ہے، نہ ترقی سے نفرت۔ وہ انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ زمانے میں رہو، مگر زمانے کے غلام نہ بنو؛ ترقی حاصل کرو، مگر اپنی روح نہ کھو؛ دنیا میں کامیاب ہو، مگر آخرت کو نہ بھولو۔ یہی وہ توازن ہے جس کی آج کے انسان کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
آج کے دور میں سب سے بڑی اصلاح فرد کے اندر سے شروع ہوتی ہے۔ اگر نیت درست ہو، کردار مضبوط ہو، اور اقدار زندہ ہوں تو جدید دور ایک خطرہ نہیں رہتا بلکہ ایک موقع بن جاتا ہے، لیکن یہ سب اسی وقت ممکن ہے جب انسان کے اندر اخلاقی شعور اور دینی وابستگی موجود ہو۔ اسلامی اقدار اسی شعور کو بیدار کرتی ہیں۔
لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسلامی اقدار کو محض تقریروں، کتابوں اور نعروں تک محدود نہ رکھیں، بلکہ انہیں اپنی روزمرہ زندگی، تعلیمی اداروں، میڈیا، سیاست، تجارت اور گھریلو نظام میں زندہ کریں۔ اسلام یہی کچھ دیتا ہے۔ اور اگر ہم نے اس حقیقت کو سمجھ لیا تو پھر جدید دنیا میں بھی ہماری شناخت کمزور نہیں پڑے گی، بلکہ اور زیادہ روشن ہو گی۔

متعلقہ مضامین

  • فیس بک صارفین اب مفت ویریفائیڈ بلیو ٹک حاصل کر سکتے ہیں، میٹا کا نیا پروگرام متعارف
  • نفرت اور برادری کی سیاست ختم کر کے ترقی کو آگے بڑھانا ہوگا، وزیراعظم آزاد کشمیر
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم سپرد خاک، نصف صدی پر محیط سیاسی و تنظیمی خدمات کا باب بند
  • کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر ڈی ایس پی صدر رحیم یارخان معطل
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف