صمود فلوٹیلاکے غیر مسلح امدادی کارکنوں کی گرفتاری عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے،ڈاکٹر حمیرا طارق
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (نمائندہ جسارت)حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان کی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر حمیرا طارق نے صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی فوج کے بزدلانہ اور سفاکانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملہ عالمی قوانین اور انسانی ضمیر کے منہ پر طمانچہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر مسلح امدادی کارکنوں کو گرفتار کرنا اور محصور فلسطینیوں تک دوا، غذا اور پانی نہ پہنچنے دینا، اسرائیل کی کھلی ریاستی دہشت گردی ہے۔ڈاکٹر حمیرا طارق نے کہا کہ فلسطینی عوام پچھلے کئی ماہ سے بدترین انسانی المیے سے گزر رہے ہیں۔ ایک طرف زخمی بچوں کا خون اور بھوک و پیاس سے مرنے والے عوام ہیں، دوسری جانب امن پسند افراد دنیا بھر سے امدادی سامان لے کر اہلِ غزہ کی مدد کو بڑھ رہے ہیں لیکن اسرائیل ان پر بھی ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “کیا انسانی حقوق، جمہوریت اور بین الاقوامی قوانین کا مطلب صرف طاقتور کے مفادات کا تحفظ ہے؟ صمود فلوٹیلا پر حملہ عالمی طاقتوں کے دوہرے معیار کو بے نقاب کر رہا ہے۔”انہوں نے امریکی کردار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امن کے علمبردار بننے والے امریکا کا پول کھل گیا ہے۔ اسرائیل آج امدادی قافلوں پر بم برسا رہا ہے اور دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے مسلم دنیا کے حکمرانوں کی بے حسی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ محض زبانی مذمتیں کافی نہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ مسلم حکمران عملی کردار ادا کریں اور غزہ کے مظلوم عوام کو بچانے کے لیے حقیقی اقدامات کریں۔ڈاکٹر حمیرا طارق نے عالمی برادری، اقوامِ متحدہ، او آئی سی اور انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی دہشت گردی کا فوری نوٹس لیں اور صمود فلوٹیلا سمیت امدادی قافلوں کی حفاظت یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کے حق میں آواز بلند کرنا صرف فلسطینیوں کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا فرض ہے۔انہوں نے جماعت اسلامی پاکستان کی جانب سے اہلِ غزہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ اس ہفتے کے دوران لاہور، کراچی اور اسلام آباد میں غزہ ملین مارچ منعقد کیے جائیں گے، جبکہ ملک کے دیگر چھوٹے بڑے شہروں میں پرامن مظاہرے جاری رہیں گے تاکہ دنیا کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ پاکستانی قوم فلسطینی عوام کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔علاوہ ازیں حلقہ خواتین کی ڈپٹی سیکرٹریز ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی، ڈاکٹر زبیدہ جبیں، عفت سجاد، عائشہ سید، عطیہ نثار اور ڈائریکٹر میڈیا سیل ثمینہ سعید نے بھی صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی اداروں سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر حمیرا طارق صمود فلوٹیلا کرتے ہوئے نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔