بھارت میں ’آئی لَو محمد ﷺ‘ مہم میں تیزی، حکومت نے بوکھلاہٹ میں انٹرنیٹ بند کردیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
اتر پردیش کے شہر بڑھائیلی میں گزشتہ ہفتے ‘I Love Muhammad’ پوسٹر تنازعہ کی وجہ سے ہونے والے ہنگاموں کے تناظر میں جمعہ کی نماز سے قبل سیکورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے۔ اس حوالے سے شہر میں انٹرنیٹ سروسز معطل، سڑکیں سنسان اور پولیس کے ساتھ ساتھ صوبائی مسلح کانسٹیبلری (PAC) اور ریپڈ ایکشن فورس (RAF) کے اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔
گزشتہ ہفتے، ‘I Love Muhammad’ مہم کی حمایت میں طے شدہ مظاہرے کی حکام کی جانب سے منسوخی کے بعد مسجد کے باہر تقریباً 2 ہزار افراد اور پولیس کے مابین تصادم ہوا تھا، جس کے نتیجے میں 81 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: انڈیا میں اسلام مخالف تقریر کیخلاف احتجاج کرنیوالے مسلم رہنما کا گھر مسمار
انٹرنیٹ خدمات چار اضلاع میں 4 اکتوبر سہ پہر 3 بجے تک معطل رکھی گئی ہیں۔ یہ معطلی دسےرا کے تہوار کے پیش نظر افواہوں اور فرقہ وارانہ کشیدگی کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے نافذ کی گئی ہے۔ اس دوران موبائل انٹرنیٹ، ایس ایم ایس، براڈ بینڈ اور وائرلیس کنکشن بھی معطل رہیں گے، جس کی اطلاع ہوم سیکرٹری گوراو دیال نے جاری کی ہے۔
اس کے علاوہ، شہر میں ڈرون بھی فضاء میں تعینات کر دیے گئے ہیں تاکہ امن و امان کی صورتحال پر مکمل نظر رکھی جا سکے۔ ڈویژنل کمشنر بھوپندر ایس چودھری نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے انجام دیں اور کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: راہول گاندھی کی ’ووٹ چور؛ گدی چھوڑ‘ مہم، بھارت کا انتخابی بحران بے نقاب
بڑھائیلی کے ساتھ ساتھ شاہجہاں پور، پیلی بھٹ اور بداون اضلاع میں بھی ہائی الرٹ جاری ہے اور حساس مقامات پر مسلح پولیس فورسز تعینات کی گئی ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکا جا سکے۔
یہ پرتشدد واقعات اس وقت جنم لیے جب مذہبی رہنما توقیر رضا خان نے ‘I Love Muhammad’ مہم کی حمایت میں مظاہرہ بلایا تھا لیکن حکام کی جانب سے اجازت نہ ملنے پر مظاہرہ اچانک منسوخ کر دیا گیا۔ اس فیصلے سے مظاہرین میں غم و غصہ پیدا ہوا، جس کے باعث پتھراؤ اور پولیس کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں۔
جمعہ کی نماز سے قبل علہ حضرت درگاہ کے سینئر عالم دین مولانا احسن رضان خان نے مقامی مسلمانوں سے پرامن رویہ اپنانے اور نماز کے بعد گھروں کو جانے کی اپیل کی ہے تاکہ امن و امان کی صورتحال برقرار رکھی جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
'I Love Muhammad' مہم انڈیا مظاہرے انڈیا میں مسلمان مسلمان مہم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انڈیا مظاہرے انڈیا میں مسلمان
پڑھیں:
راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے راس ایکسپو 2026 کے کامیاب انعقاد پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان روبوٹکس، آٹومیشن اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں تیزی سے ترقی کی جانب گامزن ہے اور حکومت جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی جامعات، اساتذہ، طلبہ، صنعت اور مختلف ادارے مل کر ایک ایسا مضبوط ماحولیاتی نظام (ایکو سسٹم) تشکیل دے رہے ہیں، جو پاکستان کو روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کی عالمی صنعت میں نمایاں مقام دلانے میں مدد دے گا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ 2 روز کے دوران منعقد ہونے والی راس ایکسپو میں جدید ٹیکنالوجی کے متعدد نمونے پیش کیے گئے۔ نمائش میں صنعتی آٹومیشن، مکینیکل روبوٹس، خودکار نظام، دفاعی شعبے کے جدید آلات، فوجی ٹیکنالوجی، لاجسٹکس، ریسکیو اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے لیے تیار کیے گئے روبوٹس، نیویگیشن سسٹمز اور جدید سمیولیٹرز نے شرکاء کی توجہ حاصل کی۔
شزا فاطمہ نے کہا کہ حکومت آئندہ بھی اس نوعیت کی نمائشوں کا انعقاد جاری رکھے گی تاکہ نوجوانوں، تعلیمی اداروں اور صنعت کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم میسر آ سکے اور پاکستان میں ٹیکنالوجی پر مبنی صنعت کو مزید فروغ دیا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے ایکسپو کے دوران دو اہم اعلانات بھی کیے، جن میں روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے 20 ملین ڈالر کی معاونت شامل ہے۔ اس کے علاوہ صنعت کے لیے ایسے سمیولیٹرز تیار کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے، جن کی مدد سے کاروباری ادارے اپنی پیداواری سرگرمیوں کا عملی جائزہ لے سکیں اور آٹومیشن کے معاشی فوائد کا اندازہ لگا سکیں۔
وفاقی وزیر نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ جدید مشینیں انسانوں کی ملازمتیں ختم کر دیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی ملازمتیں ختم نہیں کرتی بلکہ ان کی نوعیت تبدیل کرتی ہے۔ مستقبل میں ایسے افراد کی ضرورت ہوگی جو روبوٹس اور جدید مشینوں کو تیار کرنے، چلانے اور ان کی دیکھ بھال کی مہارت رکھتے ہوں۔
انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ ریاضی، الیکٹریکل انجینئرنگ، کمپیوٹر سائنس، مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس جیسے شعبوں کا انتخاب کریں، کیونکہ مستقبل کی معیشت انہی مہارتوں پر استوار ہوگی۔ شزا فاطمہ کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ افرادی قوت نہ صرف نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گی بلکہ پاکستان کی معیشت، صنعت اور قومی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
شزا فاطمہ وفاقی وزیر