ڈسکہ قتل کیس میں شریک ملزم ضمانت
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
سپریم کورٹ نے ڈسکہ قتل کیس میں گرفتار مرکزی ملزمہ صغراں بی بی کے نواسے عبداللہ کی ضمانت منظور کر لی۔ جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کے بعد فیصلہ سنایا۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان اور نیپال میں قتل کی سازش، امریکا میں بھارتی ایجنٹ کو مقدمے کا سامنا
ملزم عبداللہ پر الزام تھا کہ اس نے مقتولہ زہرا کی لاش نالے میں پھینکنے میں سہولت کاری کی، جبکہ مقدمے میں اعانتِ جرم کے تحت کارروائی جاری تھی۔ عدالت نے ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض عبداللہ کی ضمانت منظور کی۔
یہ بھی پڑھیں:ڈیگاری غیرت کے نام پر دوہرا قتل: سردار شیر باز ضمانت پر رہا، مرکزی ملزم اب بھی مفرور
یاد رہے کہ گزشتہ سال نومبر میں ڈسکہ میں ایک لرزہ خیز واقعہ پیش آیا تھا، جب ساس اور بیٹی نے مل کر حاملہ بہو زہرا کو قتل کیا تھا۔
مقدمے میں صغراں بی بی اور اس کی بیٹی مرکزی ملزمہ ہیں، جبکہ عبداللہ پر سہولت کاری اور اعانتِ جرم کے الزامات لگائے گئے تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ڈسکہ سپریم کورٹ ضمانت قتل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ڈسکہ سپریم کورٹ قتل قتل کی
پڑھیں:
سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد:عدالت عظمیٰ نے بڑا فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں ہے۔
سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت سنے گی ۔ نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اختیار سماعت ہی نہیں ہے۔
فیصلے میں قرار دیا گیا کہ نیب کے کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھے جائیں گے۔
واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کی تھی۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی۔