وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ایک بار پھر جارحانہ انداز اپناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ پنجاب کے حق میں آواز بلند کرنے پر کسی سے معافی نہیں مانگیں گی۔ لاہور میں الیکٹرک بسوں کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ “جب آفت آئی تو پنجاب کے زخموں پر نمک چھڑکا گیا، تین تین پریس کانفرنسز کر کے ہمارا مذاق بنایا گیا، کہا گیا کہ مریم نواز معافی مانگے۔ میں کیوں معافی مانگوں؟ معافی تو وہ ترجمان مانگیں جنہوں نے پنجاب کے خلاف زبان استعمال کی۔”

پنجاب کی ترقی: الیکٹرک بسوں کا نیٹ ورک، عوامی ریلیف کی نئی مثال 
 مریم نواز نے کہا کہ لاہور میں مزید 40 الیکٹرک بسیں چلائی جا رہی ہیں، جبکہ 70 مزید جلد شامل ہوں گی۔ دسمبر کے آخر تک شیخوپورہ، ننکانہ، اور قصور سمیت پورے لاہور ڈویژن میں 500 الیکٹرک بسیں سڑکوں پر ہوں گی۔
 ان کا کہنا تھا کہ لاہور میں دوسرے شہروں سے آنے والے سمجھتے ہیں کہ کسی اور ملک میں آ گئے ہیں۔ یہی معیار ہم پورے پنجاب تک پھیلائیں گے۔  انہوں نے خوشی کا اظہار کیا کہ عوام گرین بسوں کو خوش دلی سے قبول کر رہے ہیں، اور صرف 20 روپے کرایہ رکھ کر عام شہری کو بہترین سفری سہولت دی گئی ہے۔ “میانوالی جیسے دور دراز علاقوں میں بھی لوگ پھول نچھاور کر کے ان بسوں کا استقبال کر رہے ہیں، یہ تبدیلی کی علامت ہے۔”
فلاحی منصوبے: عوام کی زندگی بدلنے کا عزم
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ نومبر سے دسمبر تک ایک لاکھ گھروں کی تعمیر مکمل کر لی جائے گی، اور “اپنا گھر، اپنی چھت” اسکیم کے تحت عوام کو باعزت رہائش فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ صاف پانی کی سہولت گھر کی دہلیز تک پہنچائی جائے گی، جبکہ سیوریج اور ڈرینج کے بڑے منصوبے ایک سال میں مکمل کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم پنجاب کے ہر شہر میں ماڈرن انڈر گراؤنڈ واٹر اسٹوریج ٹینک بنا رہے ہیں، جیسا کہ لاہور میں بنے ہیں۔

دیہی و شہری ترقی: سڑکیں، راشن کارڈز اور وظائف
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ  20 ہزار کلومیٹر سڑکیں تعمیر کی جا چکی ہیں۔ مزید دیہی سڑکیں اور انٹرویلج کنکشنز بنائے جائیں گے۔ جنوبی پنجاب سے ماڈل ویلیج منصوبے کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ گوجرانوالہ اور فیصل آباد میں بھی میٹرو بس کا آغاز کیا جائے گا۔ 2 ملین خاندانوں کو راشن کارڈز دیے جا رہے ہیں۔ 50 سے 60 ہزار خصوصی افراد کو سپورٹ کارڈز دیے گئے ہیں، جلد تعداد 1 لاکھ ہو گی۔ 80 ہزار سے زائد بچوں کو اسکالرشپ دی جا رہی ہیں۔
صحت اور ماحولیاتی بہتری پر توجہ 
 انہوں نے بتایا کہ مری اور ساہیوال میں دل کے امراض کے اسپتال، اور پنجاب میں مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے خصوصی ہسپتال تعمیر ہو رہے ہیں۔ اسموگ کے خلاف بھی حکومت عملی اقدامات کر رہی ہے، اسپرے گنز استعمال کی جا رہی ہیں تاکہ عوام کو محفوظ رکھا جا سکے۔
سیلاب، کرائم کنٹرول اور قومی یکجہتی کا پیغام
 مریم نواز نے کہا  کہ جب پنجاب سیلاب سے لڑ رہا تھا، تو کچھ لوگ سیاست کر رہے تھے، جھوٹ بول رہے تھے۔ ہمارا پیسہ موجود تھا، پھر بھی طعنہ دیا گیا کہ ہاتھ پھیلائے جا رہے ہیں۔  انہوں نے یہ بھی کہا کہ پنجاب نے کبھی مدد مانگنے کے بجائے خود مدد دی۔ “کے پی میں بارشوں کے بعد میں نے علی امین گنڈا پور کو خود فون کیا، اور مدد کی پیشکش کی، وہ شکریہ ادا کر رہے تھے۔  ان کا کہنا تھا کہ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ نے 27 اضلاع میں جرائم کی شرح کو صفر کر دیا ہے، اور باقی اضلاع میں بھی سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ “ہم پنجاب کے لوگوں کے مال، جان اور عزت کے محافظ ہیں۔
  

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: مریم نواز لاہور میں انہوں نے پنجاب کے رہے ہیں کر رہے

پڑھیں:

تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا