ایبسولیوٹلی ناٹ والے کہاں ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دنیا کے بڑے بڑے دعوے، پرجوش تقریریں اور خودساختہ غیرت کے نعرے وقت کے امتحان میں اکثر کھوکھلے ثابت ہو جاتے ہیں۔ پاکستان کی سیاست میں ایک ایسا ہی نعرہ ’’ایبسولیوٹلی ناٹ‘‘ کے نام سے مشہور ہوا تھا۔ اس نے عوام کو وقتی طور پر جوش و خروش دیا، حکمران طبقے کے خلاف غصہ نکالا اور خودداری کی ایک لہر پیدا کی۔ لیکن آج جب اصل وقت آیا ہے، جب فلسطین لہو میں نہا رہا ہے اور امت مسلمہ کی غیرت کو آزمایا جا رہا ہے، تو وہی ’’ایبسولیوٹلی ناٹ‘‘ والے کہیں دکھائی نہیں دیتے۔ یہی وہ گھڑی ہے جہاں قائداعظم محمد علی جناح کے اس جملے کو یاد کرنے کی ضرورت ہے کہ: ’’پاکستان کبھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا‘‘۔ یہ محض ایک جملہ نہیں تھا بلکہ ایک اصولی اعلان تھا جس نے پاکستان کے وجود کو ایک نظریے کے ساتھ جوڑ دیا۔ یہی وجہ ہے کہ جب اسرائیل وجود میں آیا تو دنیا کے کئی ممالک نے اسے فوری تسلیم کر لیا، مگر پاکستان نے دوٹوک مؤقف اختیار کیا اور واضح کر دیا کہ یہ ریاست غاصبانہ قبضے اور مظلوموں کے خون پر کھڑی کی گئی ہے، لہٰذا اسے تسلیم کرنا پاکستان کی نظریاتی اساس سے غداری ہوگی۔ پاکستان کی سیاست میں ’’ایبسولیوٹلی ناٹ‘‘ کا حوالہ ایک سابق وزیر ِاعظم نے امریکی دباؤ کو مسترد کرنے کے لیے دیا تھا۔ عوام نے اس نعرے کو عزت دی، غیرت کی علامت سمجھا اور اسے اپنی اجتماعی زبان بنا لیا۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہ نعرہ محض انتخابی جلسوں اور سیاسی نفع نقصان کا حصہ بن کر رہ گیا۔ اصل امتحان تو آج ہے۔ آج جب غزہ کی زمین پر بمباری ہو رہی ہے، بچے اور عورتیں شہید ہو رہی ہیں، اسپتال اور اسکول ملبے میں بدل رہے ہیں، اور دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، تو پاکستان کے حکمرانوں کو حقیقت میں ’’ایبسولیوٹلی ناٹ‘‘ کہنے کی ضرورت ہے۔
فلسطین محض ایک علاقائی تنازع نہیں، یہ انسانیت کا امتحان ہے۔ پچھلے کئی مہینوں میں اسرائیل نے ایسی جارحیت کی ہے جس کی مثال جدید تاریخ میں کم ملتی ہے۔ امریکا اور مغربی طاقتیں کھلم کھلا اسرائیل کی پشت پناہی کر رہی ہیں، اقوامِ متحدہ بے بس نظر آتی ہے، اور امت مسلمہ کی اکثریت صرف زبانی دعووں پر اکتفا کر رہی ہے۔ کچھ حکمران خاموش ہیں، کچھ منافقانہ بیانات دے کر اپنے دامن بچانے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ فلسطین کے مظلوم عوام تنہا کھڑے ہیں۔ یہ وہ وقت ہے جب پاکستان کو قائداعظم کے اصولی موقف پر ڈٹ کر کھڑا ہونا چاہیے۔ فلسطین کا معاملہ پاکستان کے نظریاتی وجود سے جڑا ہوا ہے۔ ہمارے سیاستدان اور حکمران طبقہ جب اپوزیشن میں ہوتا ہے تو بڑے بڑے دعوے کرتا ہے۔ ’’ہم امریکا کی غلامی قبول نہیں کریں گے‘‘، ’’ہم اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے‘‘ اور ’’ہم فلسطین کے ساتھ کھڑے ہیں‘‘ جیسے بیانات دیے جاتے ہیں۔ لیکن جب اقتدار میں آتے ہیں تو خاموشی، مصلحت اور غلامانہ طرزِ عمل ان کا مقدر بن جاتا ہے۔ یہ تضاد ہماری سیاست کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ عوام کو نعرے دے کر جذباتی بنایا جاتا ہے، لیکن عملی اقدامات صفر ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ’’ایبسولیوٹلی ناٹ‘‘ محض ایک تقریری جملہ بن کر رہ گیا، جبکہ دنیا دیکھ رہی ہے کہ پاکستان کا کردار صرف بیانات تک محدود ہے۔
اصل غیرت یہ ہے کہ پاکستان کھل کر اسرائیل کے وجود کو ناجائز قرار دے اور ہر عالمی پلیٹ فارم پر اس کے بائیکاٹ کا اعلان کرے۔ لیکن یہاں تو اسرائیل سے تعلقات کے دروازے کھولنے کی سازشیں وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہتی ہیں۔ کبھی خفیہ ملاقاتوں کی خبریں آتی ہیں، کبھی غیر ملکی دباؤ کا ذکر ہوتا ہے، اور کبھی اقتصادی بحران کو جواز بنا کر یہ کہا جاتا ہے کہ تعلقات قائم کرنے میں فائدہ ہے۔ یہ رویہ نہ صرف قائد کے نظریے کی توہین ہے بلکہ پوری امت مسلمہ کے جذبات سے کھلا مذاق ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح نے صاف اور دوٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے اور پاکستان اسے کبھی تسلیم نہیں کرے گا۔ یہ وہ بنیاد ہے جس پر ہماری خارجہ پالیسی کھڑی ہے۔ لیکن افسوس کہ آج کے حکمران اس اصولی موقف کو محض کاغذی حقیقت بنا کر رکھنا چاہتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ عوام کو وقتی بیانات دے کر بہلایا جا سکتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ عوام کے دل میں فلسطین کا درد زندہ ہے اور وہ ہر حال میں اپنے حکمرانوں سے اصولی موقف کی توقع رکھتے ہیں۔ اگر واقعی ’’ایبسولیوٹلی ناٹ‘‘ کہنا ہے تو یہی وقت ہے۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی ہر کوشش، ہر سازش اور ہر دباؤ کو دوٹوک جواب دینا ہی قائد کے نظریے کے ساتھ وفاداری ہے۔
آج فلسطین لہو لہان ہے مگر امت مسلمہ کے اکثر حکمران اپنے تجارتی معاہدوں، تیل کی دولت اور مغربی مفادات کے اسیر ہیں۔ کچھ ممالک اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کر چکے ہیں، کچھ تعلقات قائم کرنے کے لیے بہانے تلاش کر رہے ہیں۔ یہ امت مسلمہ کے لیے سب سے بڑی شرمندگی ہے۔ اگر مسلمانوں کی ایک ارب سے زائد آبادی کے ہوتے ہوئے ایک چھوٹی سی ناجائز ریاست ظلم اور درندگی کے ذریعے اپنی مرضی چلاتی ہے، تو یہ ہماری اجتماعی بے حسی اور کمزوری کا کھلا ثبوت ہے۔ یہی اصل وقت ہے کہ پاکستان دنیا کو دکھائے کہ ابھی بھی کچھ اصول باقی ہیں، ابھی بھی کچھ قومیں اپنی غیرت پر سودا نہیں کرتیں۔ ورنہ تاریخ ہمیں بھی ان غداروں کی فہرست میں لکھ دے گی جنہوں نے فلسطین کو بیچ دیا۔ ہماری آنے والی نسلیں پوچھیں گی کہ جب غزہ پر بم برس رہے تھے تو تم کہاں تھے؟ جب معصوم بچوں کی لاشیں زمین پر بکھری تھیں تو تم نے کیا کیا؟ اور اس وقت ہمارے پاس کوئی جواب نہیں ہوگا۔
حکمران اپنی مصلحتوں میں الجھے رہتے ہیں، مگر اصل طاقت عوام کے پاس ہے۔ پاکستانی عوام ہمیشہ فلسطین کے ساتھ کھڑی رہی ہے۔ سڑکوں پر نکل کر، اپنی آواز بلند کر کے اور سوشل میڈیا پر فلسطین کی حمایت کر کے ہم دنیا کو بتا سکتے ہیں کہ پاکستان کا دل فلسطین کے ساتھ دھڑکتا ہے۔ اگر حکمران دوغلا پن دکھائیں تو عوام کا فرض ہے کہ انہیں یاد دلائیں: ایبسولیوٹلی ناٹ صرف ایک جملہ نہیں، یہ ایک عہد ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم نعرے اور تقریروں سے آگے بڑھیں۔ اگر واقعی غیرت ہے تو امریکا کے دباؤ کو مسترد کریں، اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرنے سے انکار کریں، اور قائداعظم کے اصولی مؤقف پر ڈٹ جائیں۔ یہ کوئی سیاسی فائدے کا کھیل نہیں بلکہ نظریاتی جنگ ہے۔ اگر پاکستان اس وقت کمزور ہوا تو صرف فلسطین ہی نہیں بلکہ خود ہمارا وجود بھی سوالیہ نشان بن جائے گا۔
فلسطینی عوام کو ہماری پشت پناہی کی ضرورت ہے۔ اگر ہم نے اب بھی خاموشی اختیار کی تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔ پاکستان کو بھی یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ غلامی کے خول میں بند رہنا چاہتا ہے یا عزت کے ساتھ دنیا کے سامنے کھڑا ہونا چاہتا ہے۔ پاکستان کو آج ایک فیصلہ کرنا ہے۔ یا تو ہم تاریخ کے صفحات پر قائداعظم کے وارث کہلائیں گے، یا پھر ان قوموں میں شمار ہوں گے جنہوں نے اپنی غیرت اور ایمان کو دنیاوی مصلحتوں پر قربان کر دیا۔ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔ ایبسولیوٹلی ناٹ — اب صرف نعرہ نہیں، پاکستان کا مستقل اعلان ہونا چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کہ پاکستان فلسطین کے تسلیم کر عوام کو کے ساتھ رہی ہے
پڑھیں:
سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
سٹی 42: گلگت بلتستان انتخابات کے سلسلے میں اسکردو میں پاکستان پیپلز پارٹی کے جلسے سے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کا منصوبہ دنیا کا سب سے بڑا ہاؤسنگ پراجیکٹ ہے، جبکہ حقیقی ترقی امیروں کو مزید مراعات دینے کے بجائے غریبوں کو روزگار اور مواقع فراہم کرنے سے ممکن ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو ان کے آئینی اور جمہوری حقوق دینا ملکی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کو 18ویں ترمیم جیسے اختیارات دینے کی حامی ہے اور اسلام آباد کو یہاں کے عوام کے حقِ ملکیت کو تسلیم کرنا ہوگا۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ تھر کول منصوبے میں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو دی گئیں، جو ان کی جماعت کے عوام دوست وژن کا عملی ثبوت ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گلگت بلتستان کے دوروں کے حوالے سے وہ دیگر تمام سیاسی رہنماؤں سے زیادہ مرتبہ یہاں آ چکے ہیں۔
خطاب کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے ملکی دفاعی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں شروع ہوا جبکہ میزائل پروگرام کو شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے آگے بڑھایا۔ انہوں نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری نے پاکستان میں غیر ملکی فوجی اڈوں کی موجودگی کا خاتمہ کیا تھا۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
سماجی بہبود کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ہر صورت محفوظ رکھا جائے گا اور آئندہ بجٹ میں اس پروگرام کے فنڈز میں اضافے کی کوشش کی جائے گی۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی غریب اور پسماندہ طبقات کی نمائندہ جماعت ہے اور عوامی فلاح کے منصوبوں کو جاری رکھے گی۔
علاقائی اور عالمی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی اور جنگوں کے اثرات پوری مسلم دنیا اور عالمی معیشت پر مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے امن کے قیام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگوں کے خاتمے اور استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں کامیاب ہوں گی۔
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ امن، جمہوریت اور عوامی حقوق کی سیاست پر یقین رکھتی ہے اور آئندہ بھی عوام کے مفادات کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آپ نے فیصلہ کرنا ہے ، عوام دوست یا عوام دشمن حکومت بنانی ہے ،ہماری غریب دوست اور ان کی عوام دشمن سیاست ہے ، میں نے سیلاب متاثرہ عوام کے لیے گھر بنا کر دیکھائے ۔ انھوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو روزگار دیں ،دوسری جماعتوں کی کوشش ہوتی ہے کہ کیسے لوگوں کو بے روز گار کریں ۔
آزاد کشمیر:تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان
گلگت بلتستان میں انتخابی مہم کے سلسلے میں اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کی دفاعی طاقت کی بدولت آج کوئی بھی ملک پاکستان کی جانب میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے قوم کو ایٹمی پروگرام کا تحفہ دیا، جبکہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے میزائل پروگرام کو آگے بڑھایا اور ملکی دفاع کو مزید مضبوط بنایا۔
لاہور بورڈ کا بڑا فیصلہ، داخلہ فارم مکمل طور پر آن لائن کرنے کی تجویز
بلاول بھٹو زرداری نے سابق فوجی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مشرف دور میں غیر ملکی طاقتوں کو پاکستان کی سرزمین پر اڈے قائم کرنے کی اجازت دی گئی تھی، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ایسے تمام اڈوں کو بند کروا کر غیر ملکی افواج کو واپس بھیج دیا۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ان کی جماعت پاکستان کو ہر شعبے میں مضبوط اور خودمختار دیکھنا چاہتی ہے۔ ان کے بقول پاکستان پیپلز پارٹی واحد سیاسی جماعت ہے جو ملک کو مزید مستحکم اور عوامی فلاح کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عوام کو معاشی ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں اور اسی سوچ کے تحت بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) متعارف کرایا گیا، جس کے ذریعے غریب اور مستحق خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بی آئی ایس پی اسلام آباد یا کسی ایک علاقے کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کے عوام کا پروگرام ہے، تاہم بعض سیاسی عناصر اسے ختم کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ چاہے گلگت بلتستان کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے امیدوار کامیاب ہوں یا نہ ہوں، وزیراعظم آئندہ بجٹ میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فنڈز میں اضافے کا اعلان کریں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق افراد کو ریلیف فراہم کیا جا سکے،انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پیپلز پارٹی آئندہ بھی عوامی فلاح، معاشی استحکام اور قومی خودمختاری کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔