کیا ابرار احمد آج دلہن گھر لائیں گے۔۔۔ ؟ سوشل میڈیا پر سبز شلوار قمیض کی تصاویر وائرل
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
قومی کرکٹ ٹیم کے نوجوان اسپنر ابرار احمد سے متعلق افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے کو تیار ہیں۔ مختلف سوشل میڈیا پیجز پر گردش کرنے والی خبروں کے مطابق گزشتہ شب 27 سالہ کھلاڑی کی مہندی کی تقریب منعقد ہوئی۔فوٹوز اینڈ ویڈیوز شیئرنگ پلیٹ فارم انسٹاگرام پر ابرار نے سبز شلوار قمیض میں تصویر بھی شیئر کی۔اس حوالے سے مختلف میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ابرار آج کراچی میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہوں گے، ان کا نکاح ہوچکا ہے، وہ آج دلہن گھر لائیں گے جبکہ ان کا ولیمہ 6 اکتوبر کو ہوگا۔جلد اپنی زندگی کی نئی اننگز شروع کرنے والے ابرار ایشیا کپ 2025 ٹورنامنٹ میں اس وقت توجہ کا مرکز بننے جب انہوں نے اور سری لنکا کے کھلاڑی ونیندو ہسارنگا نے وکٹ لینے کے بعد ایک دوسرے کے جشن منانے کا اسٹائل کاپی کیا۔ میچ کے بعد یہ دونوں کھلاڑی ایک دوسرے کے گلے ملتے، ہنسی مذاق اور مصافحہ کرتے بھی دکھائی دیے۔واضح رہے کہ ابرار احمد 12 اکتوبر سے شروع ہونے والی جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے پاکستان کے اعلان کردہ اسکواڈ میں شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔