Jasarat News:
2026-07-24@05:24:39 GMT

بھیڑیوں کا معاہدہ امن وبقا

اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

بیس نکاتی غزہ امن معاہدے کا پہلا مسودہ ہو یا نیتن یاہو، وٹکوف اور جیرڈ کوشنر کا ترمیم شدہ مسودہ، صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو غزہ امن منصوبے کے نام پر خطے کی جس نئے ڈھب سے منصوبہ بندی کرنا چاہتے ہیں اس کے بعد یہاں صرف بھیڑیوں کا راج ہوگا۔ یہ علاقہ محض ایک وجود کی ملکیت ہوگا۔ یہودی وجود کی۔ ناپاک اسرائیلی یہودی وجود کے نزدیک ہمسایہ اقوام کی زندہ رہنے کی ایک ہی ضمانت ہے۔ غلامی۔ ان کے سیاسی اظہار میں امن، امن کی گردان کے پیچھے ایک ہی معنی چھپے ہوئے ہیں۔ غلامی۔ جب مذاکرات کی میز پر اصل فریق حماس موجود نہ ہو، مسجد اقصیٰ کے کنٹرول کا ذکر نہ ہو، ہاتھ بندھے ہوں، دھمکیاں کھلی ہوں، تب اس میز پر امن کے منصوبے نہیں غلامی کی دستاویز ہی لکھی جاسکتی ہے۔

امن منصوبے میں تجویز کیا گیا ہے کہ حماس اپنے ہتھیارڈال دے، غیر مسلح ہو جائے۔ غزہ کے مستقبل میں اس کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔ اسرائیل کے بجائے یہ حماس ہوگی جسے غزہ خالی کرنا ہوگا۔ ایسا کیسے ممکن ہے؟ حماس اور فلسطینی ناپاک وجود کی مزاحمت ترک کردیں، جہاد سے کنارہ کش ہوجائیں؟ ایسا کیسے ممکن ہے؟ جو قوم مزاحمت ترک کردیتی ہے وہ اپنی سانسیں دشمن کے پاس گروی رکھوا دیتی ہے۔ جو امن آزادی نہ دے، اپنی مرضی نہ دے، عزت نہ دے، فیصلوں کا اختیار نہ دے، اپنی زمین پر اپنا قبضہ اور دسترس نہ دے۔ وہ امن نہیں غلامی ہے۔ جارح طاقتوں کے لکھے ہوئے نکات مظلوموں کی تقدیر نہیں بدلتے۔ مظلوموں کے مقدر تب بدلتے ہیں جب اپنی تقدیر لکھنے کے لیے قلم اور کاغذ بھی ان کا ہو، لکھے گئے نکات بھی ان کے تجویز کردہ ہوں۔

امن منصوبے میں اہل غزہ کے لیے ایک عالمی انتظامیہ کا پیکر تراشا گیا ہے جس کا چارج صدر ٹرمپ اور دنیا کے بدترین جھوٹوں میں سے ایک جھوٹ،Weapons of mass destruction کے خالق ٹونی بلیئر جیسے جھوٹے اور مسلم تباہی پسند کے پاس ہوگا۔ معاہدے میں اسے ’’عبوری انتظام‘‘ باور کرانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس عبوری انتظام میں غزہ کے اصل وارث کہاں ہوں گے؟ فلسطینیوں کے حق خود ارادیت کا کیا ہوگا؟ فلسطین کی داخلی خود مختاری کی نمائش کہاں ہوگی؟ جب کسی قوم اور ملک کے لوگوں کے فیصلے جارح کرتے ہوں، تب غلامی عبوری نہیں، مستقل ہوتی ہے۔

معاہدے میں تجویز کردہ غزہ انٹرنیشنل ٹرانزیشنل اتھارٹی جس میں عالمی کفن چور مالک ومختار ہوں گے کبھی امن نہیں آسکتا۔ امن تب آتا ہے جب زمین کے بیٹے زمین کے مالک ہوں، وہ خود اپنی نسلوں کے مستقبل کے فیصلے کریں، اپنی مسجدوں میں اپنے دل کے خطبے پڑھیں، اپنے کھیتوں میں اپنی مرضی کی فصل کاشت کریں۔ اپنے گھر خود تعمیر کریں۔ امن کی تصویر دکھا کر، اگر ’’پہلے ہتھیار ڈال دو‘‘ کا مطالبہ ہو، اور ٹرمپ، نیتن یاہو اور ٹونی بلیئر جیسے ظالموں اور قاتلوں کی طرف سے ہو، تو وہ ہر گز ہرگز امن نہیں ہوسکتا، امن کا فریب ہوسکتا ہے چاہے اس میں کیسے ہی مہربان الفاظ لکھے ہوں، کیسے ہی وعدے کیے گئے ہوں۔

امن منصوبے میں تعمیر نو کے جس منصوبے کا ذکر ہے وہ قبضہ پکا کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ جو گھر گراتے اور مسمار کرتے ہیں وہ اس کی دوبارہ تعمیر اصل مالکان کو واپسی کے لیے نہیں کرتے۔ خود مالک بننے کے لیے کرتے ہیں۔ تعمیر نو نہیں یہ قبضے کا نیا روپ اور نوآبادیاتی شکل ہے۔ جو گھر تعمیر کیے جائیں گے کیا ضمانت ہے کہ ان میں کس کی رہائش ہوگی، کس کو اندر جانے کی اجازت دی جائے گی، کس کا قبضہ مستقل اور مسلسل ہوگا؟ ظالموں کے ہاتھوں تعمیر نو کبھی اصل مالکان کے لیے نہیں ہوتی اور نہ قابض قوتوں کی واپسی کے لیے ہوتی ہے۔

غزہ کو ساحلی تفریح گاہ بنانے کا عزم ظاہرکرتا ہے کہ دنیا کے تمام ظالم ایک ہی نوع کے ہوتے ہیں مگر یہودی وجود سے کم۔ مظلوموں کے لاشوں پر تعمیر کردہ ریزورٹ، شہیدوں کے خون میں تر بتر ہوٹل اور اجڑی اور تباہ حال بستیوں کے ملبے پر کھڑی کی گئی تفریح گا ہیں، زنا، جوئے اور شراب نوشی کے اڈے۔ ان تعمیرات کو اہل غزہ کی فلاح وبہبود سے کیسے تعبیر کیا جاسکتا ہے جن کی بنیادوں میں سمندر اور اہل غزہ کا خون یکساں طور پر بہہ رہا ہوگا۔ یہ اہل غزہ کی نہیں ان سرمایہ داروں کی جنت ہوگی جن کے لیے منافع ہی سب کچھ ہے خواہ سمندر بیچ کر حاصل کیا جائے یا انسانی لہو بیچ کر۔ امن منصوبہ نہ امن ہے اور نہ ترقی، یہ فلسطینیوں کی قبروں اور ان کے بچوںکی لاشوں پر سامراجی سرمایہ داروں کی باربی کیو پارٹی کا منصوبہ ہے۔

غزہ امن منصوبے پر مسلم سربراہان نے پہلے تالیاں بجائیں اور اب اپنی عوام کے خوف سے وضاحتیں دیتے پھر رہے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ یہ منصوبہ مسلمانوں کے خلاف یہودو نصاریٰ کا مشترکہ شکنجہ ہے لیکن ان مسلم حکمرانوں کے پاس کوئی ایسا تصور نہیں جو امت مسلمہ کے ساتھ مشترک ہو۔ بیس نکاتی منصوبہ ان حکمرانوں کے لیے آرام دہ حل ہوسکتا ہے جن کی زبانیں گنگ ہیں اور ہاتھ بندھے ہوئے ہیں، امت کو ان سے کوئی امید نہیں ہے۔ امت اپنا مستقبل ان کے ہاتھ میں نہیں حماس جیسے مجاہدین کے حوصلوں میں دیکھتی ہے۔

مجاہدین جانتے ہیں کہ اگر وہ منصوبوں کے اس فریب اور الفاظ کے الجھائو میں آگئے تو یہ ناقابل معافی کفر ہوگا جس کا نتیجہ مستقل پسپائی اور ذلت کے سوا کچھ نہیں۔ وہ کل بھی میدان جنگ میں کھڑے تھے، آج بھی کھڑے ہیں اور مستقبل میں بھی کھڑے ہوں گے۔ جہاد اور اللہ کی راہ میں جان دینا ایسا ہی نشہ اور لذت ہے۔ ان کے بچے کل فخر سے کہہ سکیں گے کہ ہم ان کی اولادیں ہیں جنہوں نے اپنی زمین کا سودا کرنے کے بجائے اپنی جانوں کی قربانیاں دیں، جہاد کے پرچم کو سرنگوں نہیں ہونے دیا، اس جہاد کے پرچم کو جو آزادی کے دروازوں پر نصب ہوتا ہے۔

امن۔۔ ٹرمپ جیسے یہود نواز، عیش کوش اور نیتن یاہو جیسے دہشت گردوں کے منصوبوں سے نہیں آسکتا۔ تباہی وبربادی لانے والے بیس نکات سے بھی جن کی سیری نہیں ہوتی اور اہل غزہ کے لیے اس منصوبے کو مزید مہلک اور جان لیوا بنانے کے لیے وہ اس میں خاموشی سے ترامیم کردیتے ہیں۔ ٹرمپ اور نیتن یاہو جیسے بدمعاش ہی ایسا منصوبہ ترتیب دے سکتے تھے جس میں تمام پابندیاں، جبر اور استیصال اہل غزہ اور حماس کے لیے ہو اور یہودی ناپاک وجود کے غزہ سے انخلا کی کوئی تاریخ نہ دی گئی ہو۔

امن کبھی بھیک کی طرح مانگ کر، سر جھکا کر، ظالموں کے امن منصوبے کی تائید کرکے حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ امن جہاد کے ذریعے حاصل کیا جاتا ہے، ظالم کے جبڑوں سے چھینا جاتا ہے۔ جہاد، اتحاد اور خون سے ہی امن کی کھیتیاں سینچی جاتی ہیں تب بیس نکات ہوں یا سو نکات، سب کاغذوں پر لکھے رہ جاتے ہیں اور جذبہ جہاد سے لبریز آزادی کی جدوجہد نئی تاریخ رقم کرتی ہے۔ جہاں ظلم ہو، مظلوموں کا خون بہایا جارہا ہو، بستیاں برباد کی جارہی ہوں وہاں غلامی کے معاہدے نہیں چلتے، جہاد چلتا ہے، وقتی کامیابی اور ناکامی سے ماورا، مسلسل اور مستقل جہاد۔ امن آزادی کی قیمت پر بھی حاصل نہیں کیا جاتا۔ دشمن کے سامنے جھکنا سانس لینے کا ایک وقفہ تو ہوسکتا ہے پائیدار امن کی ضمانت نہیں ہوسکتا۔ امن جنگ کا خاتمے اور اس کے رکنے سے نہیں آتا۔ حقیقی امن تب ہی آتا ہے جب لوگ اپنی تقدیر کے خود مالک ہوں، اپنی زمین پر خود فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہوں، اپنی شناخت اپنی مرضی سے طے کرتے ہوں۔ کسی معاہدے میں اگر زمین کے اصل وارث شامل نہ ہوں، لوگوں کی آزادی محدود کی جارہی ہو، ان کے حقوق غضب کیے جارہے ہوں، ان کی خودارادی کو پابند کیا جارہا ہو اور جارح قوتیں ان پر مسلط اور قابض ہوں تو وہ امن ایک دھوکا ہے، ایک پردہ اور ظلم کی نرم شکل اور تماشا۔

بابا الف.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نیتن یاہو بیس نکات اہل غزہ غزہ کے کے لیے نہیں ا امن کی

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • چیری نے پاکستان میں اپنی گاڑیوں کے تمام ماڈلز کی قیمتیں بڑھا دیں
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا