اٹلی میں غزہ کے حق میں لاکھوں افراد کا مظاہرہ، پولیس سے جھڑپیں
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
اٹلی کے دارالحکومت روم میں غزہ پر اسرائیلی جارحیت اور امدادی بحری بیڑے کی روکے جانے کے خلاف ایک بڑا مظاہرہ کیا گیا، جس میں منتظمین کے مطابق 10 لاکھ سے زائد افراد شریک ہوئے جبکہ پولیس نے شرکا کی تعداد تقریباً ڈھائی لاکھ بتائی۔
مظاہرین ہاتھوں میں بینرز اور جھنڈے تھامے ‘فری فلسطین’ اور دیگر نعرے لگاتے ہوئے کولوسیم کے قریب مرکزی شاہراہوں سے گزرے۔ مظاہرہ پُرامن رہا جس میں طلبا، بزرگ اور بچے بھی شریک ہوئے، تاہم ریلی کے اختتام پر کچھ مظاہرین پولیس سے الجھ پڑے۔
یہ بھی پڑھیے: ’غزہ میں نسل کشی بند کرو‘، یورپ کے مختلف شہروں میں ہزاروں افراد کا احتجاج، لندن میں گرفتاریاں
پولیس کے مطابق تقریباً 200 افراد نے گروپ بنا کر سانتا ماریا ماجور باسیلیکا کے قریب سیکیورٹی اہلکاروں پر حملہ کیا، جس پر پولیس نے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔ اس دوران چند گاڑیوں اور کچرے کے ڈبوں کو آگ لگا دی گئی جبکہ 12 افراد کو حراست میں لیا گیا اور 262 افراد کے کوائف درج کیے گئے۔
یہ احتجاج اُس وقت سے جاری ہیں جب بدھ کے روز اسرائیل نے بین الاقوامی امدادی بیڑے کو غزہ پہنچنے سے روک دیا اور کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔ اٹلی میں اس کے بعد سے روزانہ کئی شہروں میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔ جمعہ کو یونینز کی کال پر ملک گیر ہڑتال اور احتجاجی مارچ ہوا جس میں منتظمین کے مطابق 20 لاکھ افراد شریک ہوئے جبکہ وزارتِ داخلہ نے شرکا کی تعداد 4 لاکھ بتائی۔
یہ بھی پڑھیے: اسلام آباد: سول سوسائٹی کا غزہ اور سمود فلوٹیلا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے احتجاج
اطالوی وزیرِاعظم جارجیا میلونی نے مظاہروں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مظاہرین نے امن کے داعی پوپ جان پال دوم کے مجسمے پر توہین آمیز تحریریں درج کیں، جو کہ ‘شرمناک اور نظریاتی اندھا پن’ کا مظاہرہ ہے۔
یاد رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے میں اسرائیل کے مطابق 1,200 افراد ہلاک اور 251 یرغمال بنائے گئے تھے۔ اس کے بعد اسرائیل کی فوجی کارروائی میں غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اب تک 67 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اٹلی احتجاج روم غزہ فلسطین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اٹلی فلسطین کے مطابق
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔