Express News:
2026-07-24@15:37:24 GMT

ملکی وقار اہم یا سیاست

اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT

پاکستان کی 78 سالہ تاریخ میں پہلا موقعہ ہے کہ عالمی سطح پر ملک کو جتنی اہمیت ملی ہے اور 2025 میں دنیا میں ہمارے ملک کا جو وقار بلند ہوا ہے اس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی جب کہ بدقسمتی سے ملک میں اس کی کوئی قدر نہیں کی جا رہی اور محض اپنے ذاتی مفاد اور سیاست کے لیے حکومت اور اداروں کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔

امریکا، عرب اور مسلم ممالک ہی نہیں بلکہ غیر مسلم بڑے اور اہم ممالک بھی اس وقت پاکستان کو عزت دے رہے ہیں اس کی ایک وجہ ملک کی حکمران سیاسی اور عسکری قیادت کا ایک ہو کر ملک کے لیے کام کرنا بھی ہے مگر ملک کے بعض سیاسی حلقے ملکی وقار کو اہمیت نہیں دے رہے اور انھیں اپنی سیاست اور رہائی کی فکر ہے۔

دنیا بھر میں پاکستان کی فوجی صلاحیت کو سراہا جا رہا ہے جس سے بعض سیاسی جماعتوں کی سیاست متاثر ہو رہی ہے یا انھیں سیاسی نقصان کون سا پہنچ رہا ہے کہ وہ ملکی وقار کو نظرانداز کرکے اپنی سیاست چمکانے کے لیے بے سروپا بیانات دے رہے ہیں جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ انھیں عالمی سطح پر ملنے والی اہمیت کی قدر نہیں جب کہ دنیا بھر میں پاکستان کی قدر ہو رہی ہے مگر بعض عناصر پاکستان کی دنیا میں اس عزت افزائی سے خوش نہیں اور ملک کی دنیا میں بڑھی اس عزت کو اپنی سیاست کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔

اپریل 2022 میں جب ملک معاشی طور پر تباہی کا شکار اور دیوالیہ ہونے کے قریب تھا تو اس بدتر حالات کا ذمے دار پی ٹی آئی کے وزیر اعظم کو سمجھ کر ان کے سر سے ہاتھ ہٹا لیا گیا تھا جس کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے وزیر اعظم کو ہٹانے کے لیے آئینی طور پر تحریک عدم اعتماد پیش کی تھی جو ملک میں کامیاب ہونے والی پہلی تحریک عدم اعتماد تھی۔ اس وقت ملک کے ابتر معاشی حالات نے اپوزیشن کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا تھا۔

ایک گروپ ملک میں نئے انتخابات کے انعقاد کا حامی تھا جب کہ دوسرے گروپ کا خیال تھا کہ بدترین معاشی حالات میں نئے انتخابات مناسب نہیں اس لیے اسمبلیوں کو مدت پوری کرنے کا موقعہ ملنا چاہیے کیونکہ اس سے قبل تین اسمبلیوں نے مدت پوری کی تھی اس لیے شہباز شریف کی قیادت میں تمام جماعتوں کی مخلوط حکومت بنائی گئی مگر سابق وزیر اعظم نے اپنی آئینی برطرفی کو امریکا کی سازش قرار دے کر ملک میں جلسے جلوس شروع کر دیے اور پوری کوشش کی حکومت نہ چلے اور نئے الیکشن ہوں جس میں وہ امریکا مخالف مہم چلا کر قوم کو گمراہ کرکے پھر اقتدار میں آ جائیں اس لیے وہ صرف قومی اسمبلی کے انتخابات چاہتے تھے کیونکہ پنجاب اور کے پی میں پی ٹی آئی کی حکومت تھی جس کی مدد سے وہ دوبارہ اقتدار چاہتے تھے۔

اس وقت آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی پی ٹی آئی کی حکومت تھی اور وہ پنجاب و کے پی کی اپنی حکومتوں کو برقرار رکھ کر آسانی سے قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کو اکثریت دلا سکتے تھے مگر ملک کے حالات نئے انتخابات کے متحمل نہیں ہو سکتے تھے اس لیے وفاقی حکومت نے بقایا مدت پوری کرکے ملکی حالات میں بہتری لا کر انتخابات کرانے سے انکار کیا۔ اس حکومت کو 27 کلو میٹر کی حکومت قرار دے کر پنجاب و کے پی حکومتوں کے ذریعے کوشش کی گئی کہ مخلوط حکومت کو آئی ایم ایف سے قرض نہ ملے۔

آئی ایم ایف کو پی ٹی آئی حکومت پہلے ہی ناراض کر چکی تھی اور آئی ایم ایف اگر راضی نہ ہوتا تو ہمارے دوستوں نے بھی قرضے نہیں دینے تھے جس کی وجہ سے حکومت سخت پریشان تھی اور خود بھی نئے انتخابات کا سوچ رہی تھی مگر سابق وزیر اعظم نے حکومت کو دھمکی دی مگر حکومت نے دباؤ کی کوشش ناکام بنائی جب کہ برطرف وزیر اعظم اپنے صدر مملکت کے ذریعے ذریعے ایوان صدر میں خفیہ ملاقاتیں کرتے رہے مگر مقتدر قوتوں نے ان کی باتوں میں آنے سے انکار کر دیا تو ملک میں چالیس سے زائد جلسے کرنے کے بعد اپنا دباؤ بڑھانے کے لیے راولپنڈی لانگ مارچ شروع کر دیا تاکہ نئے آرمی چیف کی تقرری روکی جائے مگر حکومت نے وقت سے پہلے ہی نئے آرمی چیف کا تقرر کر دیا تھا جب سے اب تک پی ٹی آئی کے بانی مخالفانہ بیانات دے کر دوریاں اور اپنے لیے مسائل پیدا کر چکے ہیں۔

10 مئی کو بھارت کو شکست دے کر پاک فوج نے کامیابی کیا حاصل کی اور دنیا کو پاک فوج کی طاقت دکھائی تو دنیا ہی بدل گئی اور طاقت کا توازن جو پہلے بھارت کی طرف تھا تبدیل ہو گیا اور دنیا بھر میں پاک فوج کی صلاحیت آشکار ہوئی اور پاکستان کا وقار بلند ہوا۔ جو ممالک بھارت کا جواب نہ دینے کے مشورے دے رہے تھے انھوں نے بھارت کو دیے گئے کرارے جواب کے بعد پاکستان سے متعلق اپنی پالیسی بدل لی کیونکہ دس مئی کی فوجی کامیابی نے بھارت کو دنیا اکیلا دیکھ رہی تھی جس کے ساتھ صرف اسرائیل کھڑا رہ گیا تھا اور عرب ممالک دوبارہ اس ملک کی طرف راغب ہو گئے جو یہ سمجھ رہے تھے کہ پاکستان ان سے صرف قرضے اور مدد ہی مانگتا ہے۔

پاکستان کو دنیا میں جو وقار حاصل ہوا اس کا تقاضا بھی یہی تھا کہ اب دنیا کے آگے ہاتھ نہ پھیلایا جائے اور حالیہ تباہ کن سیلاب میں بلاول بھٹو کے کہنے کے باوجود عالمی امداد کی کوئی اپیل نہیں کی اور اپنے وسائل سے ہی متاثرین کی بحالی کا کام شروع کر رکھا ہے۔

دنیا میں حاصل ہونے والے وقار کا بھی تقاضا ہے کہ ملک کی سیاسی جماعتیں حکومت سے اختلافات عارضی طور پر ہی بالائے طاق رکھ کر دنیا کو دکھائیں کہ ہمارے اختلافات ملک کے اندر ہیں جو طے بھی ہو سکتے ہیں۔ ان اختلافات کو آپس میں مل بیٹھ کر ہی حل ہونا ہے جو ہو بھی جائیں گے۔ اس وقت عالمی طور پر حاصل ہونے والا وقار اہم ہے، سیاست نہیں۔ سیاست تو 78 سال سے ہو ہی رہی ہے اس لیے سیاسی اختلافات کے بجائے ملکی وقار کو اہمیت دی جائے کیونکہ ایسا موقعہ بار بار نہیں ملتا اب ہمیں اپنے وقار کا بھی خیال رکھنا ہے اور کشکول بھی توڑنا ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نئے انتخابات پاکستان کی ملکی وقار پی ٹی آئی کی حکومت دنیا میں ملک میں کے لیے دے رہے اس لیے ملک کے کر دیا ملک کی

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • دنیا کی مہنگی ترین طلاق، جنوبی کوریا کی اہم ترین کاروباری شخصیت کو 944 ارب وون سابق اہلیہ کو ادا کرنے کا حکم
  • قدیم انجینیئرنگ سے دنیا حیران، 2 ہزار سال پرانا چینی تالا جسے کھولنے کے لیے محض چابی نہیں بڑا دماغ بھی چاہیے
  • نفرت اور برادری کی سیاست ختم کر کے ترقی کو آگے بڑھانا ہوگا، وزیراعظم آزاد کشمیر
  • میں نے اپنی قبر تیار کروا رکھی ہے، لیجنڈ گلوکار عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کا انکشاف
  • وفاقی آئینی عدالت، سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
  • پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا