آذربائیجان کی منڈی میں برآمدات بڑھنا خوش آئند ہے، کاٹی
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251007-06-21
کراچی(کامرس رپورٹر) کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کے صدر محمد اکرام راجپوت نے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے آذربائیجان کی منڈی میں گوشت کی برآمدات کے لیے رسائی حاصل کرنا ملکی تجارت کے لیے خوش آئند پیشرفت ہے، جس سے پاکستان کے صنعتی اور برآمدی شعبوں کے لیے وسط ایشیائی ممالک میں نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹڈاپ) کی یہ کامیابی نہ صرف گوشت کی صنعت بلکہ دیگر برآمدی شعبوں کے لیے بھی امکانات پیدا کرتی ہے، خصوصاً فوڈ پروسیسنگ، ٹیکسٹائل، فارما اور انجینئرنگ انڈسٹریز کے لیے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کی صنعتیں عالمی معیار کی مصنوعات تیار کر رہی ہیں، مگر نئی منڈیوں تک مؤثر رسائی کے لیے سرکاری سطح پر مربوط تجارتی سفارت کاری ضروری ہے۔ محمد اکرام راجپوت نے کہا کہ آذربائیجان، ازبکستان، قازقستان اور ترکمانستان جیسے ممالک میں پاکستانی مصنوعات کی کھپت کیلئے وسیع مواقع موجود ہیں کیونکہ ان خطوں میں حلال مصنوعات، ٹیکسٹائل، اور صنعتی سامان کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ صدر کاٹی نے مطالبہ کیا کہ پاکستان سے باقاعدگی کے ساتھ بزنس ٹو بزنس (B2B) وفود ان ممالک میں بھیجے جائیں تاکہ براہِ راست تجارتی روابط قائم کیے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ کاٹی، ٹڈاپ اور وزارتِ تجارت کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور کورنگی کی صنعتوں کے لیے ٹارگٹ مارکیٹس، لاجسٹک سہولیات اور تجارتی قوانین سے متعلق رہنمائی کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ پاکستان کی برآمدی پالیسی میں علاقائی تجارت کو ترجیح دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ محمد اکرام راجپوت نے امید ظاہر کی کہ اگر تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے ایک مربوط حکمتِ عملی مرتب کی جائے تو پاکستان آئندہ چند برسوں میں وسط ایشیائی خطے میں نمایاں تجارتی حیثیت حاصل کر سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
پاکستان میں مختلف اقسام کے ایندھن کی فروخت کا ماہانہ ڈیٹا جاری(mothly data) کردیا گیا۔ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں سالانہ بنیادوں پر 23 اور ماہانہ 14 فیصد کمی آئی۔
اعداد وشمار کے مطابق مئی 2026 میں11لاکھ 72ہزارٹن پیٹرولیم مصنوعات فروخت کی گئیں، مئی میں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں سالانہ 23اورماہانہ14فیصد کمی آئی۔
مئی میں آئل ریفائنریز کی پیداوارمیں بھی 7فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، سب سےبڑی کمی فرنس آئل کی فروخت میں سالانہ 64اورماہانہ 79فیصد آئی، فرنس آئل کی فروخت سالانہ بنیادپر80ہزارٹن سےگرکر29ہزارٹن پرآگئی۔
مئی میں سالانہ بنیاد پرڈیزل کی فروخت 32 فیصد کم ہوکر4لاکھ 55 ہزار ٹن جبکہ سالانہ بنیاد پرپیٹرول کی فروخت 12فیصد کم ہوکر6لاکھ 17ہزار ٹن رہی۔
مزید پڑھیں:حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
مئی میں پاکستان اسٹیٹ آئل کی فروخت میں 19اوراٹک پیٹرولیم میں 30فیصد کمی دیکھی گئی جبکہ وافی انرجی کی فروخت 16فیصداورحیسکول پیٹرولیم کی فروخت میں37 فیصد کمی آئی۔