data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

سابق سینیٹر مشتاق احمد نے اسرائیلی قید سے رہائی کے بعد قیدیوں کے ساتھ انسانیت سوز تشدد کی روداد سنادی۔

انہوں نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے ویڈیو پیغام میں بتایا کہ وہ اور ان کے تقریباً 150 ساتھی امن مشن میں شامل تھے اور چند روز کی قید کے بعد اردن پہنچ گئے ہیں۔

مشتاق احمد نے ویڈیو میں بتایا کہ اسرائیلی جیل میں انہیں اور دیگر قیدیوں کو جسمانی و ذہنی طور پر شدید تکالیف کا سامنا کرنا پڑا۔ گرفتار شدگان کو ہاتھوں میں ہتھکڑیاں اور پاؤں میں بیڑیاں باندھ کر اندھے کمرے میں رکھا گیا، آنکھوں پر پٹیاں باندھ دی گئیں اور کتے چھوڑے گئے۔

https://jasarat.

com/wp-content/uploads/2025/10/mushtaq-ahmed.mp4

انہوں نے مزید کہا کہ قیدیوں پر بندوقیں تانی گئیں اور انتظامیہ نے 3 دن تک ان کو بھوک اور بنیادی طبی امداد سے محروم رکھا، حتیٰ کہ پینے کے پانی اور ہوا تک رسائی محدود کر دی گئی۔

سابق سینیٹر نے ویڈیو میں بتایا کہ قیدیوں نے اپنے مطالبات کے حق میں بھوک ہڑتال بھی کی، مگر جیل حکام نے نہ صرف بھوک ہڑتال کو کچلنے کی کوشش کی بلکہ طبی سہولتیں بھی بلا جواز فراہم نہیں کیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تجربہ ذاتی طور پر ناقابلِ فراموش دکھ اور تکلیف کا باعث رہا، مگر اس کے باوجود ان کے عزم میں کوئی کمی نہیں آئی۔

مشتاق احمد نے اعلان کیا کہ وہ اور ان کے ساتھی اس مقصد کے لیے واپس آتے رہیں گے اور غزہ کے عوام تک امداد پہنچانے کی جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ جلد وطن واپس آ کر وہ فلوٹیلا کی کارروائی، گرفتاری کے حالات اور جیل کے اندرونی حالات کی مکمل تفصیل عوام کے سامنے رکھیں گے۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: مشتاق احمد نے

پڑھیں:

چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں

یورپی چیمپئنز لیگ میں پی ایس جی کی کامیابی کے بعد فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جشن پرتشدد ہنگاموں میں تبدیل ہو گیا۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں، جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کے واقعات میں متعدد افراد زخمی ہوئے، جبکہ پولیس نے 400 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا۔

یورپی چیمپئنز لیگ کے فائنل میں پی ایس جی کی فتح کے بعد فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جشن کا ماحول بدامنی اور تشدد میں تبدیل ہو گیا، جہاں مشتعل افراد نے جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں مظاہرین نے بوتل بم پھینکے، متعدد دکانوں پر حملے کیے اور سڑکوں پر موجود کچرے کے ڈبوں سمیت دیگر اشیا کو آگ لگا دی۔ ہنگامہ آرائی کے دوران درجنوں گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔

مظاہرین اور پولیس کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم سات پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ بعض شرپسند عناصر نے آتش بازی کا رخ آسمان کے بجائے پولیس اہلکاروں کی جانب کر دیا، جس کے باعث کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔

فرانسیسی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 400 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا۔ حکام کے مطابق گرفتار افراد کے قبضے سے تیزاب سے بھری بوتلیں اور دیگر خطرناک مواد بھی برآمد کیا گیا ہے۔

حکام کو پہلے ہی ممکنہ ہنگامہ آرائی کا خدشہ تھا، جس کے پیش نظر پیرس میں 22 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ اس کے باوجود شہر کے مختلف حصوں میں جلاؤ گھیراؤ اور پرتشدد واقعات کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہ ہو سکا۔

واضح رہے کہ پیرس سینٹ جرمین (PSG) نے چیمپئنز لیگ کے فائنل میں آرسنل کو شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا، جس کے بعد ہزاروں شائقین جشن منانے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ تاہم بعض مقامات پر یہ جشن بدامنی اور تشدد میں تبدیل ہو گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے؟ امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کے وزیر خارجہ سے سخت سوالات
  • کوٹ عبدالمالک: بیٹی‘ سابق بیوی پر تشدد‘ تیزاب پھینک دیا‘ دونوں جھلس گئیں
  • ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
  • چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں