سابق سینیٹر مشتاق احمد نے اسرائیلی قید میں انسانیت سوز تشدد کی روداد سنادی
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سابق سینیٹر مشتاق احمد نے اسرائیلی قید سے رہائی کے بعد قیدیوں کے ساتھ انسانیت سوز تشدد کی روداد سنادی۔
انہوں نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے ویڈیو پیغام میں بتایا کہ وہ اور ان کے تقریباً 150 ساتھی امن مشن میں شامل تھے اور چند روز کی قید کے بعد اردن پہنچ گئے ہیں۔
مشتاق احمد نے ویڈیو میں بتایا کہ اسرائیلی جیل میں انہیں اور دیگر قیدیوں کو جسمانی و ذہنی طور پر شدید تکالیف کا سامنا کرنا پڑا۔ گرفتار شدگان کو ہاتھوں میں ہتھکڑیاں اور پاؤں میں بیڑیاں باندھ کر اندھے کمرے میں رکھا گیا، آنکھوں پر پٹیاں باندھ دی گئیں اور کتے چھوڑے گئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ قیدیوں پر بندوقیں تانی گئیں اور انتظامیہ نے 3 دن تک ان کو بھوک اور بنیادی طبی امداد سے محروم رکھا، حتیٰ کہ پینے کے پانی اور ہوا تک رسائی محدود کر دی گئی۔
سابق سینیٹر نے ویڈیو میں بتایا کہ قیدیوں نے اپنے مطالبات کے حق میں بھوک ہڑتال بھی کی، مگر جیل حکام نے نہ صرف بھوک ہڑتال کو کچلنے کی کوشش کی بلکہ طبی سہولتیں بھی بلا جواز فراہم نہیں کیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تجربہ ذاتی طور پر ناقابلِ فراموش دکھ اور تکلیف کا باعث رہا، مگر اس کے باوجود ان کے عزم میں کوئی کمی نہیں آئی۔
مشتاق احمد نے اعلان کیا کہ وہ اور ان کے ساتھی اس مقصد کے لیے واپس آتے رہیں گے اور غزہ کے عوام تک امداد پہنچانے کی جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ جلد وطن واپس آ کر وہ فلوٹیلا کی کارروائی، گرفتاری کے حالات اور جیل کے اندرونی حالات کی مکمل تفصیل عوام کے سامنے رکھیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مشتاق احمد نے انہوں نے
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :