پاک سعودیہ تعلقات کو سرمایہ کاری، کاروبار کی بنیاد پر مزید مضبوط بنائینگے: وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
پاک سعودیہ تعلقات کو سرمایہ کاری، کاروبار کی بنیاد پر مزید مضبوط بنائینگے: وزیراعظم WhatsAppFacebookTwitter 0 8 October, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس )وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ سعودی عرب کا پاکستان سے تعلق غیرمتزلزل اور مستقل عزم پر مبنی ہے، پاک سعودیہ تعلقات کو سرمایہ کاری اور کاروبار کی بنیاد پر مزید مضبوط بنائیں گے۔وزیراعظم شہبازشریف نے سعودی عرب سے آئے اعلی سطح وفد کے اعزاز میں ظہرانہ دیا جس کے بعد پاکستان سعودی عرب بزنس کونسل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی معاہدہ بھائی چارے پر مبنی تعلقات کی باقاعدہ شکل ہے، سعودی عرب نے ہر مشکل اور آزمائش میں ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا۔
شہباز شریف نے کہا کہ ہم یہاں ایک خاندان کی طرح بیٹھے ہیں، گزشتہ 40 سال سے سیاست میں ہوں، پہلی بار60 کی دہائی کے آخر میں سعودی عرب گیا تھا، سعودی عرب کے کئی دورے کر چکا ہوں مگرحالیہ دورہ بالکل منفرد تھا، سعودی بہن، بھائیوں نے ہمیشہ پاکستان کیلئے بیمثال محبت دکھائی۔وزیراعظم نے کہا کہ ہر مسلمان مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے اپنی جان قربان کرنے کو تیار ہے، سعودی عرب کا یہ عزم ہمارے تعلقات کی تاریخ میں ہمیشہ نمایاں رہا اور رہے گا، پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی معاہدہ بھائی چارے پر مبنی تعلقات کی باقاعدہ شکل ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ ہم حقیقی بھائی ہیں اور بھائی ہمیشہ دوسرے بھائی کی مدد کو آتا ہے، مقدس مقامات مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے ہمیشہ کے لیے محافظ رہیں گے، کاروبار اور سرمایہ کاری میں بھی تعلقات مزید مضبوط بنائیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب مشترکہ کاروباری خواب حقیقت بنانے کے لیے تعاون سے کام کریں، تجارت، سرمایہ کاری، تحقیق اور ترقی کیشعبوں میں مشترکہ اقدامات کو آگے بڑھائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ آج ہمیں سعودی عرب سے سیکھنے کی ضرورت ہے، ہمیں یہ موقع میسر ہے، سعودی عرب بھی ہمیں ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے، ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی متحرک اور وژنری قیادت نے سعودی معاشرے کو بدل کر رکھ دیا۔شہباز شریف نے کہا کہ مل کرکام کریں تو عالمی برادری میں اپنی جگہ مضبوطی سے بنا سکیں گے، سعودی عرب کے حکام بھی معاہدوں پر دستخط کیلیے پرجوش ہیں۔
شہزادہ منصوربن محمد آل سعود نے بزنس کونسل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سعودی عرب مشترکہ بزنس کونسل اجلاس کے لیے آئے ہیں، پاکستان آنے سے قبل سعودی عرب کے تمام اہم وزرا سے ملاقاتیں کیں۔انہوں نے کہا کہ سعودی وزرا کو پاکستان میں ممکنہ سٹریٹیجک منصوبوں سے آگاہ کیا، سعودی کاروباری طبقے کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔شہزادہ منصور بن محمد آل سعود کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہبازشریف نے جن شعبوں پر زور دیا ہم بھی انہی پر توجہ دے رہے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرعوام کیلئے خوشخبری: 4 سال سے گیس کنکشنز پر عائد پابندی ختم کردی گئی عوام کیلئے خوشخبری: 4 سال سے گیس کنکشنز پر عائد پابندی ختم کردی گئی بنگلادیشی عدالت کا گزشتہ حکومت کے دوران جبری گمشدگیوں پر 24 اعلی فوجی افسران کی گرفتاری کا حکم امن کا سارا بوجھ حماس پر ڈالنا ٹھیک نہیں، اسرائیل کو حملے بندکرنا ہوں گے، اردوان آئی ایم ایف کی ایک اور بڑی شرط پوری،گریڈ17سے 22 کے افسران کے اثاثے ڈکلیئرکیے جائینگے سمجھ نہیں آرہا پی ٹی آئی کے دوست آئینی ترمیم سے پیچھے کیوں ہٹ گئے؟ فضل الرحمان صوبائی وزیر،بزنس مین،عمران خان کے پرانے ساتھی: خیبرپختونخوا کے نئے نامزد کردہ وزیراعلی سہیل آفریدی کون ہیں؟Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سرمایہ کاری
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔