آمنہ ملک اپنے بچوں کو کھونے کا دُکھ بیان کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئیں
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
اداکارہ، ماڈل اور مشہور میزبان آمنہ ملک نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں اپنی ذاتی زندگی کے دردناک تجربات شیئر کیے، جنہوں نے ان کے مداحوں کو افسردہ کر دیا۔
آمنہ ملک جو ڈراموں میرا دل میرا دشمن، مایی ری، دیوارِ شب، خاص، بے باک اور حالیہ مقبول سیریل شیر میں اپنی شاندار اداکاری کیلئے مشہور ہیں، ایک نجی ٹی وی کے مارننگ شو میں شریک ہوئیں۔
گفتگو کے دوران آمنہ ملک جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں اور اپنے تین بچوں کے کھونے کے دکھ کا ذکر کرتے ہوئے رو پڑیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں سات ماہ اور پانچ ماہ کے حمل میں دو بچوں کو کھونا پڑا، جبکہ تیسرا نقصان 2020 میں ہوا۔ آمنہ ملک کے مطابق یہ ان کی زندگی کے سب سے تکلیف دہ لمحات تھے۔
آمنہ ملک نے مزید کہا کہ اس وقت ان کی صرف ایک بیٹی تھی اور دوسری بیٹی تین بچوں کی موت کے بعد پیدا ہوئی۔ آمنہ نے بتایا کہ ان واقعات نے انہیں گہرے صدمے سے دوچار کیا، اور اس کے بعد جب بھی کوئی انہیں مزید بچوں کی صلاح دیتا، وہ جذباتی طور پر برداشت نہیں کر پاتیں۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: آمنہ ملک
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔