لاہور شہر میں جمعرات کو صورتحال مسلسل کشیدہ رہی کیونکہ بدھ کی رات پولیس اور تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے درمیان جھڑپوں میں کئی افراد زخمی ہو گئے تھے، جن میں تقریباً ایک درجن پولیس اہلکار بھی شامل تھے، دوسری جانب جڑواں شہروں میں موبائل انٹرنیٹ سروس معطل کردی گئی ہے۔

ڈان نیوز کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی میں موبائل انٹرنیٹ سروس معطل ہے، موبائل انٹرنیٹ سروس گزشتہ رات 12 بجے سےتاحکم ثانی تک لیے معطل ہوئی۔

وزارت داخلہ نے جڑواں شہروں میں موبائل انٹرنیٹ سروس معطل کرنے کے لیے پی ٹی اے کو مراسلہ ارسال کردیا، جس کے مطابق موبائل انٹرنیٹ سروس معطل کرنے کی منظوری وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے دی۔

نجی اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق تصادم مذہبی جماعت کی جانب سے وفاقی دارالحکومت کی جانب مارچ کی کال دیے جانے کے بعد شروع ہوا، جہاں وہ فلسطینیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے امریکا کے سفارتخانے کے باہر احتجاج کا ارادہ رکھتی تھی۔

حکام نے ٹی ایل پی کو اپنے منصوبے پر عمل درآمد سے روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے، ملتان روڈ پر واقع تنظیم کے مرکز کو کنٹینرز لگا کر بند کر دیا اور شہر کے داخلی و خارجی راستے سیل کر دیے۔

دوسری جانب اسلام آباد میں بھی انتظامیہ نے داخلی راستوں پر کنٹینرز لگا دیے تاکہ مظاہرین کو دارالحکومت میں داخل ہونے سے روکا جا سکے، اسی دوران، اسلام آباد میں 100 سے زائد ٹی ایل پی کارکنوں کو گرفتار بھی کر لیا گیا۔

قبل ازیں، بدھ کی شب پولیس سے جھڑپوں کے بعد ٹی ایل پی نے اپنے کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ جمعے کو (آج) لاہور پہنچیں تاکہ ’حتمی کال‘ دی جا سکے۔

اس صورتحال نے پولیس کو تشویش میں مبتلا کر دیا، کیونکہ خدشہ تھا کہ مظاہرہ پرتشدد ہو سکتا ہے، اس خدشے کے پیش نظر صوبے بھر میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے، جس کے باعث شہریوں، خاص طور پر چوبرجی سے یتیم خانہ چوک تک کے گنجان آباد علاقوں میں رہنے والوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

سخت حفاظتی انتظامات کے باوجود فضا میں کشیدگی برقرار رہی، خاص طور پر ملتان روڈ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند رہی، مشتعل ٹی ایل پی کارکنوں نے سڑک پر عارضی پناہ گاہیں بنا کر پولیس کے خلاف مورچہ بندیاں کر لیں۔

جمعرات کی دوپہر پولیس اور کارکنوں کے درمیان دوبارہ آمنا سامنا ہوا، جس سے صورتحال مزید خراب ہو گئی، تنظیم کے کارکنوں نے اس دوران بعض دکانوں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچایا۔

ہلاکتوں کے بارے میں متضاد اطلاعات سامنے آئیں، ٹی ایل پی نے دعویٰ کیا کہ اس کے کم از کم 2 کارکن جاں بحق ہوئے، تاہم پولیس ذرائع کے مطابق صرف ایک ہلاکت ہوئی، جس کی لاش تنظیم کے حوالے کر دی گئی۔

ٹی ایل پی نے یہ بھی کہا کہ اس کے 50 کارکن زخمی ہوئے، لیکن پولیس نے یہ تعداد صرف 7 بتائی، جب کہ بدھ کی رات سے اب تک درجنوں پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔

ایک سینئر پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ نواں کوٹ تھانے میں درجنوں ٹی ایل پی کارکنوں اور حامیوں کے خلاف انسدادِ دہشت گردی ایکٹ سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جا رہا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی اور دیگر مرکزی رہنماؤں کو بھی نامزد کیا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: میں موبائل انٹرنیٹ سروس معطل ٹی ایل پی کے مطابق کے لیے

پڑھیں:

 230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں  کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع

اسلام آباد (وقائع نگار) انسداد دہشتگردی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین کی عدالت نے 26 نومبر، سنگجانی جلسہ ، سپریم کورٹ کے باہر احتجاج و دیگر مقدمات میں 230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں و کارکنان کی عبوری ضمانت میں توسیع کردی۔

متعلقہ مضامین

  • اسکردو: سیلفی بناتے کچورا جھیل میں گرے موبائل کو نکالتے ہوئے نوجوان گر کر جاں بحق
  •  230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں  کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • آزادکشمیرکے ضلع میرپور میں انٹرنیٹ سروسز مرحلہ وار بحال ہونا شروع
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع