لاہور انڈر ورلڈ کا ڈان طیفی بٹ کون تھا؟
اشاعت کی تاریخ: 11th, October 2025 GMT
خواجہ تعریف گلشن عرف طیفی بٹ لاہور کے علاقے گوالمنڈی سے تعلق رکھنے والا بدنام زمانہ گینگسٹر تھا۔ اس کا نام شہر کی انڈر ورلڈ میں 3 دہائیوں سے جاری خاندانی دشمنیوں، قتل و غارت اور لینڈ گرابنگ کی جنگوں سے جڑا ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:دبئی سے گرفتار گینگسٹر طیفی بٹ پولیس حراست میں ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
طیفی بٹ، خواجہ عقیل عرف گوگی بٹ کا چھوٹا بھائی تھا۔ دونوں بھائی خود کو لاہور کے ’مشہور تاجر‘ قرار دیتے تھے، تاہم ان پر سنگین جرائم کے درجنوں مقدمات درج تھے۔
دشمنی کی جڑیں: بِلا ٹرکاں والا کیسبٹ خاندان کی پرانی دشمنی امیرالدین عرف بِلا ٹرکاں والا کے خاندان سے تھی۔ 1994 میں بِلا کے قتل کے بعد دشمنی نے سنگین رخ اختیار کیا۔
بِلا کے بیٹے امیر عارف عرف ٹیپو ٹرکاں والا نے بدلہ لینے کا اعلان کیا، اور یوں بٹ گروپ اور ٹیپو گروپ کے درمیان ایک طویل گینگ وار شروع ہوئی۔
طیفی اور گوگی بٹ پر 2010 میں ٹیپو کے لاہور ایئرپورٹ پر قتل کا الزام لگا، جو مبینہ طور پر بدلے کی کارروائی تھی۔
انڈر ورلڈ میں عروج اور ’پیسہ کما کر قتل‘ کا ماڈلطیفی بٹ نے دیگر چھوٹے گروپوں جیسے بھولا سنیارا اور ہمایوں گجر گروپ کو اپنے ساتھ ملا کر ایک مضبوط نیٹ ورک بنایا۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق اس نے 2000 کی دہائی میں زمینوں پر قبضے، منشیات کی اسمگلنگ اور سیاسی سرپرستی کے ذریعے اپنی گرفت مضبوط کی۔
یہ بھی پڑھیں:بالاج ٹیپو قتل کیس میں گوگی بٹ ذمہ دار قرار، جے آئی ٹی ذرائع
اس پر 16 قتل کے مقدمات درج تھے جن میں سے 15 میں وہ بری ہوا، جبکہ ایک اہم مقدمہ، امیر بالاج قتل کیس زیرِ سماعت تھا۔
امیر بالاج قتل کیس اور دبئی فرار2024 چمیں احسن شاہ کے ذریعے معلومات حاصل کر کے امیر بالاج ٹیپو کے قتل میں طیفی بٹ مرکزی کردار کے طور پر سامنے آیا۔
قتل کے بعد وہ کراچی سے دبئی فرار ہو گیا۔ انٹرپول کی مدد سے دبئی پولیس نے ایک فلیٹ پر چھاپہ مار کر اسے گرفتار کیا۔
10 اکتوبر 2025 کو طیفی بٹ کو پاکستان لایا گیا اور عدالت نے اسے پولیس کسٹڈی میں دے دیا۔
فائرنگ کا واقعہ اور پراسرار ہلاکتپولیس کے مطابق رحیم یار خان کے نواحی علاقے احمد پور لمہ میں دورانِ تفتیش طیفی بٹ کو لاہور منتقل کیا جا رہا تھا کہ اسی دوران اس کے اپنے ساتھیوں نے پولیس وین پر حملہ کیا۔
حملے میں 2 حملہ آور فائرنگ کے بعد فرار ہو گئے جبکہ طیفی بٹ گولی لگنے سے موقع پر ہلاک ہو گیا۔ پولیس نے لاش تحویل میں لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
خاندانی ردِعمل اور الزاماتطیفی بٹ کے بھائی گوگی بٹ نے تمام الزامات کی تردید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے میں ایک تاجر ہوں، قاتل نہیں۔ یہ جے آئی ٹی رپورٹ جانبدارانہ ہے، بالاج کے خلاف بھی کئی ایف آئی آرز درج تھیں۔
یہ بھی پڑھیں:طیفی بٹ کے بہنوئی کو قتل کرنے والے ملزمان گرفتار، سنسنی خیز انکشافات
گوگی بٹ نے یوٹیوب انٹرویوز میں کہا کہ حکومت اور پولیس نے ان کے خاندان کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا، اور طیفی بٹ کی موت کو ’منصوبہ بند کارروائی‘ قرار دیا۔
پولیس مؤقفپنجاب پولیس کے ترجمان کے مطابق، طیفی بٹ کے خلاف کارروائی مکمل طور پر قانون کے مطابق کی گئی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ملک گیر سرچ، سویپ اور کومبنگ آپریشنز کا حصہ تھا، جس میں کئی خطرناک مجرمان گرفتار کیے جا چکے ہیں۔
ترجمان کے مطابق واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور واقعے میں ملوث حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امیرالدین انٹرپول انڈر ورلڈ بالاج بِلا ٹرکاں والا پنجاب پولیس ٹیپو ٹرکاں والا خواجہ تعریف گلشن دبئی طیفی بٹ گوگی بٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امیرالدین انٹرپول انڈر ورلڈ بالاج ب لا ٹرکاں والا پنجاب پولیس خواجہ تعریف گلشن طیفی بٹ گوگی بٹ ٹرکاں والا انڈر ورلڈ کے مطابق طیفی بٹ گوگی بٹ
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔