نوبیل امن انعام پانے والی ماریا کورینا اسرائیل کی طرف دار نکلیں، بین الاقوامی تنقید کا سامنا
اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT
نوبیل کمیٹی کی جانب سے وینزویلا کی جمہوریت پسند رہنما ماریہ کورینا کو 2025 کا نوبیل امن انعام دینے کے اعلان کے بعد ایک طرف ان کی جمہوری جدوجہد کی ستائش ہوئی تو دوسری طرف سابقہ بیانات اور کارروائیوں کی بنیاد پر سخت تنقید بھی سامنے آئی۔
یہ بھی پڑھیں:ماریا کورینا ماچادو نے نوبیل امن انعام ٹرمپ کے نام منسوب کردیا
نوبیل کمیٹی نے ماریا کو وینزویلا میں جمہوریت کے لیے ان کی مسلسل جدوجہد اور استبداد کے خلاف کردار کے اعتراف میں امن اعزاز دیا۔
کمیٹی کے چیئرمین نے انہیں شہری بہادری کی ایک مرکزی مثال اور ایک متحد کرنے والی شخصیت قرار دیا، جنہوں نے عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ اور آواز بلند کرنے کے لیے نمایاں کردار ادا کیا۔
مخالفت اور تنقید
ماریا کورینا پر سب سے زیادہ تنقید دو بڑے نکات کی بنیاد پر سامنے آئی۔ ایک، سابقہ اسرائیل نواز بیانات اور اسرائیل کی Likud پارٹی کے ساتھ تعلقات، جن میں انہوں نے اسرائیل کی حمایت اور وینزویلا کی جدوجہد کو اسرائیل کے ساتھ جوڑا۔
نقادوں نے ان کے کچھ پوسٹس اور 2020 میں Likud پارٹی کے ساتھ تعاون کے دستاویزات پر دستخط کو بنیاد بنا کر سوال اٹھائے۔
دوسرا، 2018 میں انہوں نے بعض بیرونی رہنماؤں سے، بشمول اسرائیل اور ارجنٹینا کے، مدد مانگی تھی تاکہ وینزویلا کے موجودہ حکومت پر دباؤ ڈال کر تبدیلی لائی جا سکے۔
غزہ اور اسرائیل کے حوالے سے مؤقفنقادوں نے ماریا کورینا کے ان بیانات کی بھی نشاندہی کی جہاں انہوں نے 2023 کے بعد اسرائیل کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں:امن نوبیل انعام 2025: صدر ٹرمپ پر سبقت پانے والی ماریا کورینا کون ہیں؟
کچھ حلقوں نے اسے غزہ میں انسانی نقصان کے ساتھ جوڑ کر تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ ماریا کورینانے کبھی بھی فلسطینی شہریوں کے قتل کی حمایت ظاہر نہیں کی۔
بین الاقوامی ردعمل
امریکی مسلم حقوق کے گروپوں اور یورپی سیاستدانوں نے بھی نوبیل کمیٹی کے فیصلے پر سوال اٹھائے اور کہا کہ ایسے کسی شخص کو انعام دینا نوبیل کے مقصد کے مطابق نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایسے افراد کو سراہا جانا چاہیے جو انسانی حقوق اور انصاف کے لیے مستقل مزاجی سے کام کرتے ہیں، جیسا کہ صحافی، طلبہ اور فعال شہری جنہوں نے غزہ میں ہونے والے انسانی نقصان کے خلاف آواز بلند کی۔
ماریا کورینا کا مؤقف
انعام کے اعلان کے بعد ماریاکورینا نے اپنے نوبیل امن انعام کو وینزویلا کے لوگوں کے نام کیا اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ اپنے تعلقات اور جدوجہد پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے انعام کو ایسے رہنماوں کو بھی مختص کیا جنہوں نے ان کے مؤقف کی حمایت کی، جس پر داخلی اور خارجی سطح پر بحث جاری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا ماریا کورینا نوبیل انعام وینزویلا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل امریکا ماریا کورینا نوبیل انعام وینزویلا
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔