Jasarat News:
2026-07-24@03:14:13 GMT

بوٹس کی فوج: ڈیجیٹل منافقت

اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

دنیا بدل گئی ہے، مگر فریب دینے کا انداز نہیں بدلا۔ پہلے لوگ بازاروں میں جھوٹ بول کر مال بیچا کرتے تھے۔ آج وہی جھوٹ سوشل میڈیا کے بازار میں فروخت ہوتا ہے۔ بس اب سودا زیادہ مہنگا ہے اور گاہک زیادہ جاہل۔ آج پاکستان میں ایک سیاسی گروہ، جس کی قیادت عمران خان کے ہاتھ میں ہے، نے سچ اور جھوٹ کے درمیان فرق مٹا دیا ہے۔ ان کی سوشل میڈیا ٹیم نے بوٹس کی فوج تیار کر رکھی ہے۔ ہزاروں جعلی اکاؤنٹس، خودکار تبصرے، مصنوعی لائکس اور تیار شدہ ٹرینڈز۔ یہ وہ فوج ہے جو میدانِ جنگ میں نہیں، مگر اخلاقیات اور سچائی کے محاذ پر تباہی پھیلا رہی ہے۔ کل کوئی بات ہوتی ہے تو بوٹس کو متحرک کردیا جاتا ہے، پھر وہ شور مچاتے ہیں: سبحان اللہ، کپتان نے قوم بچا لی۔ اور اگلے دن وہی لیڈر اپنی بات سے مکر جائے تو یہی بوٹس نعرہ لگاتے ہیں: قائد نے حکمت دکھائی۔ یہ جھوٹ کی ایسی مشین ہے جو دن رات قوم کے شعور کو گمراہ کرنے میں مصروف ہے۔ یہ ڈیجیٹل منافقت صرف ایک سیاسی حربہ نہیں بلکہ اخلاقی اور ایمانی تباہی کی علامت ہے۔

قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’ہلاکت ہے ہر اْس شخص کے لیے جو جھوٹا اور گناہگار ہو‘‘۔ (الجاثیہ: 7) مگر اس ساری شیطانی مشینری کے پیچھے محض بوٹس نہیں، بلکہ وہ پی ٹی آئی کے رہنما ہیں جو عمران خان کے اشاروں پر یہ زہر اْگلنے والی فیکٹریاں چلاتے رہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہیں سابق وزیراعظم کے حکم پر قومی خزانے سے کروڑوں روپے کے فنڈز دیے گئے تاکہ وہ سوشل میڈیا پر جھوٹ، غلاظت اور کردارکشی کی مہمات چلائیں۔ ان کا کام صرف مخالفین پر وار کرنا نہیں تھا بلکہ فوج کے شہداء، سیاسی مخالفین، صحافیوں، خواتین صحافیوں اور معصوم بچوں تک پر الزام تراشی اور اخلاق سے گری ہوئی پوسٹس پھیلانا تھا، اور یہ کام انہوں نے پوری قوت سے کیا۔ یہی وہ ڈیجیٹل لشکر ہے جو سیاسی اختلاف کو گالی میں بدلنے کا ہنر جان چکا ہے۔ یہ شیطانی نظام، آج بھی قوم کے ذہنوں میں زہر گھول رہا ہے، اور وقت آگیا ہے کہ اس زہر کے ذمے داروں سے باز پرس کی جائے۔ مگر اس ڈیجیٹل منافقت کا سب سے مکروہ چہرہ وہ ہے جب انہی بوٹس کی مدد سے پاکستان کے سپوتوں، اپنے ہی شہداء کے خلاف نفرت پھیلائی۔ مگر پی ٹی آئی کے ڈیجیٹل لشکر نے ان کی قبروں تک کو سیاست کا میدان بنا دیا۔ کبھی کسی شہید کی بیوہ پر ظالمانہ طنز کیا گیا، کبھی فوجی افسران کو گھریلو سازشوں کا کردار بنا کر پیش کیا گیا، اور کبھی غدار کہا گیا۔ سیاست کے میدان میں بھی شرفا کی پگڑیاں اچھالی گئیں۔ یہ صرف سیاسی بدتہذیبی نہیں بلکہ انسانیت کے ضمیر پر حملہ ہے۔ جب ایک قوم اپنے محسنوں، اپنے شہداء، اپنی ماؤں بہنوں اور بچوں کی عزت بھول جائے تو سمجھ لو وہ دشمن کے نہیں بلکہ اپنے ہاتھوں سے زوال کی لکیر کھینچ رہی ہے۔

یہی وہ ڈیجیٹل لشکر ہے جس نے ملک دشمن بیانیے کو فیول دیا۔ جھوٹ کو حب الوطنی کا لبادہ پہنا کر قوم کو ایک دوسرے کے خلاف کر دیا۔ یہ مہمات اس قدر خوفناک تھیں کہ دنیا کے کسی دشمن کو بھی وہ موقع نہ ملا جو ان اپنوں کے بوٹس نے پاکستان کے تانے بانے کو نقصان پہنچا کر دیا۔ سوشل میڈیا کے ان دروغ گو سیاسی کارکنوں کے جھوٹ نے جھوٹ کو سچ اور سچ کو فریب بنا دیا ہے۔

اسی لیے آج سوشل میڈیا پر خبر نہیں، ہائپ چلتی ہے۔ تحقیق نہیں، ٹرینڈ فیصلہ کرتا ہے۔ عقل نہیں، کلکس ایمان بن چکے ہیں۔ اگر کسی پوسٹ پر آپ کو ہزاروں یا لاکھوں لائکس نظر آئیں تو اس سے متاثر ہونے سے پہلے یہ جان لیں کہ یہ اکثر نظر کا دھوکا ہوتا ہے۔ یہ لائکس حق و سچ کا پیمانہ نہیں بلکہ جھوٹ کے کاروبار کا حصہ ہیں۔

پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم نے اس قوم کے نوجوانوں کو علم کے میدان سے نکال کر نعرے، گالیاں اور فحش تبصروں کے گڑھے میں دھکیل دیا ہے۔ اب دلیل کی جگہ میمز ہیں اور کردار کی جگہ کلکس۔ یہی وہ خطرناک ذہنی غلامی ہے جو ایک فرد کی جھوٹی مسیحائی کو وحی سمجھنے لگی ہے۔ اب وہ لیڈر خدا نہیں، مگر ان کے ذہنوں میں نعوذباللہ، خدا کی طرح غیر معصوم سچائی کا درجہ پا چکا ہے۔ اسلام میں جھوٹ کو صرف گناہ نہیں بلکہ منافقت کی بنیاد قرار دیا گیا ہے۔

نبی کریمؐ نے فرمایا:’’منافق کی تین نشانیاں ہیں: جب بات کرے تو جھوٹ بولے، وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے، اور امانت میں خیانت کرے‘‘۔ (بخاری و مسلم) اگر غور کریں تو یہ تینوں نشانیاں عمران خان اور اس کے ڈیجیٹل لشکر پر پوری اُترتی ہیں۔ بات کریں تو جھوٹ، وعدہ کریں تو یوٹرن، اور قوم کے شعور کی امانت میں خیانت۔ یہ بوٹس کی فوج صرف سیاسی حریفوں پر حملہ نہیں کرتی بلکہ سچائی، اخلاق اور اجتماعی ضمیر پر حملہ آور ہے۔ یہ وہ طوفانِ جھوٹ ہے جو حق کی آواز کو شور میں دبانا چاہتا ہے۔ مگر یاد رہے کہ اگر ہزاروں بوٹس بھی دن رات جھوٹ کا شور مچائیں تو اْن کے شور سے سچ کبھی جھوٹ نہیں بن سکتا۔ سچ کی روشنی کبھی مدھم نہیں ہوتی۔ بس کبھی کبھی شور اتنا بڑھ جاتا ہے کہ روشنی نظر نہیں آتی۔ لیکن انجام میں ہمیشہ وہی ہوتا ہے جو تاریخ نے بارہا دکھایا ہے۔ جھوٹ وقتی ہوتا ہے مگر سچ دائمی۔ اور سچ ہمیشہ آخر میں ہنستا ہے۔ جب جھوٹ اپنی ہی بْنت میں دفن ہو جاتا ہے۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں سب سے بڑا جہاد جھوٹ نہ بولنا اور سچ پر قائم رہنا ہے۔ کیونکہ اب فریب الفاظ میں نہیں، لائکس اور ہیش ٹیگز میں چھپا ہوتا ہے۔

ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ

دیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کھلا

عبید مغل.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ڈیجیٹل لشکر سوشل میڈیا نہیں بلکہ ہوتا ہے بوٹس کی اور سچ قوم کے

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف