بوٹس کی فوج: ڈیجیٹل منافقت
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دنیا بدل گئی ہے، مگر فریب دینے کا انداز نہیں بدلا۔ پہلے لوگ بازاروں میں جھوٹ بول کر مال بیچا کرتے تھے۔ آج وہی جھوٹ سوشل میڈیا کے بازار میں فروخت ہوتا ہے۔ بس اب سودا زیادہ مہنگا ہے اور گاہک زیادہ جاہل۔ آج پاکستان میں ایک سیاسی گروہ، جس کی قیادت عمران خان کے ہاتھ میں ہے، نے سچ اور جھوٹ کے درمیان فرق مٹا دیا ہے۔ ان کی سوشل میڈیا ٹیم نے بوٹس کی فوج تیار کر رکھی ہے۔ ہزاروں جعلی اکاؤنٹس، خودکار تبصرے، مصنوعی لائکس اور تیار شدہ ٹرینڈز۔ یہ وہ فوج ہے جو میدانِ جنگ میں نہیں، مگر اخلاقیات اور سچائی کے محاذ پر تباہی پھیلا رہی ہے۔ کل کوئی بات ہوتی ہے تو بوٹس کو متحرک کردیا جاتا ہے، پھر وہ شور مچاتے ہیں: سبحان اللہ، کپتان نے قوم بچا لی۔ اور اگلے دن وہی لیڈر اپنی بات سے مکر جائے تو یہی بوٹس نعرہ لگاتے ہیں: قائد نے حکمت دکھائی۔ یہ جھوٹ کی ایسی مشین ہے جو دن رات قوم کے شعور کو گمراہ کرنے میں مصروف ہے۔ یہ ڈیجیٹل منافقت صرف ایک سیاسی حربہ نہیں بلکہ اخلاقی اور ایمانی تباہی کی علامت ہے۔
قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’ہلاکت ہے ہر اْس شخص کے لیے جو جھوٹا اور گناہگار ہو‘‘۔ (الجاثیہ: 7) مگر اس ساری شیطانی مشینری کے پیچھے محض بوٹس نہیں، بلکہ وہ پی ٹی آئی کے رہنما ہیں جو عمران خان کے اشاروں پر یہ زہر اْگلنے والی فیکٹریاں چلاتے رہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہیں سابق وزیراعظم کے حکم پر قومی خزانے سے کروڑوں روپے کے فنڈز دیے گئے تاکہ وہ سوشل میڈیا پر جھوٹ، غلاظت اور کردارکشی کی مہمات چلائیں۔ ان کا کام صرف مخالفین پر وار کرنا نہیں تھا بلکہ فوج کے شہداء، سیاسی مخالفین، صحافیوں، خواتین صحافیوں اور معصوم بچوں تک پر الزام تراشی اور اخلاق سے گری ہوئی پوسٹس پھیلانا تھا، اور یہ کام انہوں نے پوری قوت سے کیا۔ یہی وہ ڈیجیٹل لشکر ہے جو سیاسی اختلاف کو گالی میں بدلنے کا ہنر جان چکا ہے۔ یہ شیطانی نظام، آج بھی قوم کے ذہنوں میں زہر گھول رہا ہے، اور وقت آگیا ہے کہ اس زہر کے ذمے داروں سے باز پرس کی جائے۔ مگر اس ڈیجیٹل منافقت کا سب سے مکروہ چہرہ وہ ہے جب انہی بوٹس کی مدد سے پاکستان کے سپوتوں، اپنے ہی شہداء کے خلاف نفرت پھیلائی۔ مگر پی ٹی آئی کے ڈیجیٹل لشکر نے ان کی قبروں تک کو سیاست کا میدان بنا دیا۔ کبھی کسی شہید کی بیوہ پر ظالمانہ طنز کیا گیا، کبھی فوجی افسران کو گھریلو سازشوں کا کردار بنا کر پیش کیا گیا، اور کبھی غدار کہا گیا۔ سیاست کے میدان میں بھی شرفا کی پگڑیاں اچھالی گئیں۔ یہ صرف سیاسی بدتہذیبی نہیں بلکہ انسانیت کے ضمیر پر حملہ ہے۔ جب ایک قوم اپنے محسنوں، اپنے شہداء، اپنی ماؤں بہنوں اور بچوں کی عزت بھول جائے تو سمجھ لو وہ دشمن کے نہیں بلکہ اپنے ہاتھوں سے زوال کی لکیر کھینچ رہی ہے۔
یہی وہ ڈیجیٹل لشکر ہے جس نے ملک دشمن بیانیے کو فیول دیا۔ جھوٹ کو حب الوطنی کا لبادہ پہنا کر قوم کو ایک دوسرے کے خلاف کر دیا۔ یہ مہمات اس قدر خوفناک تھیں کہ دنیا کے کسی دشمن کو بھی وہ موقع نہ ملا جو ان اپنوں کے بوٹس نے پاکستان کے تانے بانے کو نقصان پہنچا کر دیا۔ سوشل میڈیا کے ان دروغ گو سیاسی کارکنوں کے جھوٹ نے جھوٹ کو سچ اور سچ کو فریب بنا دیا ہے۔
اسی لیے آج سوشل میڈیا پر خبر نہیں، ہائپ چلتی ہے۔ تحقیق نہیں، ٹرینڈ فیصلہ کرتا ہے۔ عقل نہیں، کلکس ایمان بن چکے ہیں۔ اگر کسی پوسٹ پر آپ کو ہزاروں یا لاکھوں لائکس نظر آئیں تو اس سے متاثر ہونے سے پہلے یہ جان لیں کہ یہ اکثر نظر کا دھوکا ہوتا ہے۔ یہ لائکس حق و سچ کا پیمانہ نہیں بلکہ جھوٹ کے کاروبار کا حصہ ہیں۔
پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم نے اس قوم کے نوجوانوں کو علم کے میدان سے نکال کر نعرے، گالیاں اور فحش تبصروں کے گڑھے میں دھکیل دیا ہے۔ اب دلیل کی جگہ میمز ہیں اور کردار کی جگہ کلکس۔ یہی وہ خطرناک ذہنی غلامی ہے جو ایک فرد کی جھوٹی مسیحائی کو وحی سمجھنے لگی ہے۔ اب وہ لیڈر خدا نہیں، مگر ان کے ذہنوں میں نعوذباللہ، خدا کی طرح غیر معصوم سچائی کا درجہ پا چکا ہے۔ اسلام میں جھوٹ کو صرف گناہ نہیں بلکہ منافقت کی بنیاد قرار دیا گیا ہے۔
نبی کریمؐ نے فرمایا:’’منافق کی تین نشانیاں ہیں: جب بات کرے تو جھوٹ بولے، وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے، اور امانت میں خیانت کرے‘‘۔ (بخاری و مسلم) اگر غور کریں تو یہ تینوں نشانیاں عمران خان اور اس کے ڈیجیٹل لشکر پر پوری اُترتی ہیں۔ بات کریں تو جھوٹ، وعدہ کریں تو یوٹرن، اور قوم کے شعور کی امانت میں خیانت۔ یہ بوٹس کی فوج صرف سیاسی حریفوں پر حملہ نہیں کرتی بلکہ سچائی، اخلاق اور اجتماعی ضمیر پر حملہ آور ہے۔ یہ وہ طوفانِ جھوٹ ہے جو حق کی آواز کو شور میں دبانا چاہتا ہے۔ مگر یاد رہے کہ اگر ہزاروں بوٹس بھی دن رات جھوٹ کا شور مچائیں تو اْن کے شور سے سچ کبھی جھوٹ نہیں بن سکتا۔ سچ کی روشنی کبھی مدھم نہیں ہوتی۔ بس کبھی کبھی شور اتنا بڑھ جاتا ہے کہ روشنی نظر نہیں آتی۔ لیکن انجام میں ہمیشہ وہی ہوتا ہے جو تاریخ نے بارہا دکھایا ہے۔ جھوٹ وقتی ہوتا ہے مگر سچ دائمی۔ اور سچ ہمیشہ آخر میں ہنستا ہے۔ جب جھوٹ اپنی ہی بْنت میں دفن ہو جاتا ہے۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں سب سے بڑا جہاد جھوٹ نہ بولنا اور سچ پر قائم رہنا ہے۔ کیونکہ اب فریب الفاظ میں نہیں، لائکس اور ہیش ٹیگز میں چھپا ہوتا ہے۔
ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کھلا
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈیجیٹل لشکر سوشل میڈیا نہیں بلکہ ہوتا ہے بوٹس کی اور سچ قوم کے
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔