پنجاب اسمبلی کا اجلاس، ٹی ایل پی کے معاملے پر بات نہ کرنے پر پی ٹی آئی ارکان کا احتجاج، واک آوٹ
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
پنجاب اسمبلی کا اجلاس، ٹی ایل پی کے معاملے پر بات نہ کرنے پر پی ٹی آئی ارکان کا احتجاج، واک آوٹ WhatsAppFacebookTwitter 0 13 October, 2025 سب نیوز
لاہور(سب نیوز)پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی نے تحریک لبیک کے معاملے پر بات نہ کرنے پر ہنگامہ کیا اور ارکان واک آوٹ کرگئے، پیپلز پارٹی نے بھی وزیراعلی پنجاب کے ریمارکس کے خلاف واک آوٹ کیا۔
تفصیلات کے مطابق پنجاب اسمبلی کا اجلاس تین گھنٹے بیالیس منٹ کی تاخیر سے ڈپٹی اسپیکر ظہیر اقبال چنہڑ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ آغاز تلاوت کلام پاک، نعت رسول مقبول اور قومی ترانے سے ہوا۔اجلاس میں پاک افغان جنگ میں پاک افواج کے شہدا اور شہید ایس ایچ او ، سردار غضنفر علی لنگا کے بھائی اور میاں مرغوب کی اہلیہ کی روح کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی۔
اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی معین ریاض قریشی نے ایوان میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آپ سب کی توجہ دلانا چاہتا ہوں، آج پنجاب جل رہا ہے، آج پنجاب کے اندر لا اینڈ کی صورتحال خراب ہے، ہر طرف لاشیں بکھری پڑی ہیں، کل مرید کے میں خون کی ہولی کھیلی گئی ہمارے چیئرمین نے سکھایا جہاں ظلم ہو وہاں مظلوم کا ساتھ دیں، ہمارا سیاسی اختلاف ہوسکتا ہے لیکن ہم ظلم کے خلاف کھڑے ہوں گے، خدا کے لیے آپ لوگوں نے جیسے بھی حکومت بنائی آج پنجاب کے عوام آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں، کوئی تو ہو جو ہماری آواز بنے،میں درخواست کرتا ہوں خدارا اس ملک پر رحم کریں۔معین ریاض قریشی نے کہا کہ خیبرپختونخوا بہت حساس صوبہ یے وہاں جس کی اکثریت ہے اسے حکومت بنانے دی جائے، آج تمام حکومتی بزنس معطل کرکے پنجاب میں امن و امان پر بات کی جائے۔
وزیر پارلیمانی امور مجتبی شجاع الرحمان نے ایوان میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تحریک لبیک سے درخواست کرتے ہیں یہ کوئی طریقہ نہیں ہے، ہم تحریک لبیک سے بات کرنے کے لیے تیار ہیں، ایک مذہبی تنظیم کو انتشار پھیلانا زیب نہیں دیتا، پولیس اور سیکیورٹی کے لوگوں پر حملے کیے جا رہے ہیں، ایک انسپکٹر شہید ہو چکا ہے یہ طریقہ کار ٹھیک نہیں ہے، اس واقعے کو اپوزیشن نو مئی سے نہ ملائے نو مئی کو پاکستاں پر حملہ کیا گیا تھا، ہندوستان جو کرنا چاہتا تھا وہ انہوں نے نو مئی کو یہاں کردیا، مذہبی جماعت نے جس طرح پنجاب میں کارروائی شروع کی اس سے لوگ تنگ ہیں، حکومت پنجاب کی جانب سے تحریک لبیک سے درخواست کریں گے کہ یہ کوئی طریقہ کار نہیں کہ آپ امن و امان خراب کررہے ہیں، افہام و تفہیم سے معاملات حل کریں۔
مجتبی شجاع الرحمن نے کہا کہ مذہبی سیاسی جماعت سے بات کرنا چاہتے ہیں تو بات کرنے کے لیے تیار ہیں، جس طرح پولیس اور سیکیورٹی ایجنسی پر حملے کیے جا رہے ہیں اس میں ایس ایچ او شہید ہوا ہے، پنجاب ہمارا ہے آج لوگ اسپتال اسکولوں کالجوں میں جانے سے بیٹھے ہوئے ہیں، پرتشدد طریقوں سے مذہبی تنظیم کو یہ بات زیب نہیں دیتی۔مجتبی شجاع الرحمن نے کہا کہ نو مئی وہ دن تھا جب پاکستان و ریاست پر حملہ کیا گیا، نو مئی پر بھارتی میڈیا نے کہاکہ وہ ایک سیاسی جماعت نے کردیا جو ہم چاہتے تھے، دفاعی و عسکری اداروں جناح ہاس سکیورٹی فورسز پر حملہ کیا گیا، نو مئی والوں کو قرار واقعی سزا ملے گی، پی ٹی آئی دور میں تحریک لبیک نے پاکستان کو بند کیا تھا تب بھی ان کے بارہ لوگوں کو شہید کیاگیا اس کا لہو کہاں تلاش کریں؟ ہم افہام و تفہیم سے معاملات حل کرنا چاہتے ہیں۔
حافظ فرحت عباس نے کہا کہ جس طرح آپ نظام چلا رہے ہیں اس طرح چلے گا نہیں، ہم فوج کے ساتھ کھڑے ہیں مگر ساتھ ہی ساتھ ہم مطالبہ کرتے ہیں ہر ادارہ اپنی حدود میں کام کرے، یہ نہیں ہو سکتا آپ ہر چیز میں ٹانگ اڑائیں، جب آپ روزگار چھین لیں گے انصاف ناپید کر دیں گے اور جب یہ دھند چھٹے گی تو پتا چلے گا تب تعین ہوگا آج جو حالات ہیں اس کا ذمہ دار کون ہے، ہر چیز کی طرح اس واقعے کے ذمہ دار بھی یہی لوگ نکلیں گے۔اپوزیشن نے آج کا ایجنڈا معطل کرکے پنجاب میں تحریک لبیک کے خلاف آپریشن پر بحث کا مطالبہ کیا اور منظور نہ ہونے پر اپوزیشن نے ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے لاٹھی گولی کی سرکار نہیں چلے گی نہیں چلے گی، شرم کرو حیا کرو عمران کو رہا کرو کے نعرے لگائے۔ اپوزیشن ارکان نے اسپیکر کے ڈائس کا گھیراس کرلیا، ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ کر اچھال دیں۔وزیر پارلیمانی امور مجتبی شجاع الرحمان نے تحریک انصاف پر طنز کیا کہ ان کا لیڈر خاتم النبین نہیں بول سکتا یہ ہمیں اسلام کا درس دیتے ہیں، اس پر اپوزیشن ایوان سے واک آٹ کرگئی۔
پیپلز پارٹی کے رہنما ممتاز علی چانگ نے ایوان میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ہم حکومت کا حصہ ہیں لیکن ہمیں حکومت سے تحفظات ہیں، میڈیا کے ذریعے ہمیں پتا لگا چیف منسٹر پنجاب نے کہا پنجاب بھی میرا پیسہ بھی میرا پانی بھی میرا، ہم چیف منسٹر کی بطور خاتون عزت کرتے ہیں لیکن ان کی یہ بات غلط تھی، ہم اسمبلی میں جائز بات کرتے ہیں مگر ہمیں رگڑا لگایا جاتا ہے، ہماری پارلیمانی لیڈر کو طالبان سے خطرہ ہے لیکن ان کی سیکیورٹی واپس لے لی گئی، ہمیں سیدھا انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے حالانکہ ہم ان کے اتحادی ہیں۔ممتاز علی چانگ نے کہا کہ ہمارے لیڈروں نے قربانیاں دی ہیں آپ ان کا مقابلہ کرتے ہیں، 2022 میں ہم نے عدم اعتماد میں آپ کا ساتھ دیا، ہمارے ساتھ انتقامی کارروائی نہ کریں، ہم ڈرنے والوں سے نہیں ہیں ہم اصولوں کی بات کریں گے، ہم چاہتے ہیں بلدیاتی الیکشن ہوں لیکن تمام ممبران کے اس بل سے متعلق تحفظات دور ہونے چاہییں، ہم واک آٹ کر رہے ہیں، جب تک ہمارے تحفظات دور نہیں کیے جاتے ہیں ہم ایوان کا حصہ نہیں بنیں گے۔یہ کہہ کر پیپلز پارٹی بھی پنجاب اسمبلی کے اجلاس سے واک آوٹ کرگئی۔
ایوان میں مجتبی شجاع الرحمن نے حافظ فرحت کے سوال پر زبردست جوابی حملہ کیا، انہوں نے حافظ فرحت کو استعفی کا چیلنج دے دیا اور کہا کہ حافظ قرآن ہوتے ہوئے اسمبلی فلور پر جھوٹ بول رہے تھے، 282 لوگ کہاں شہید ہوئے؟ چیلنج کرتا ہوں اگر ٹی ایل پی کے 282 لوگ شہید ہوئے تو پھر میں استعفی دے دوں گا ورنہ حافظ فرحت استعفی دیں، انیس سو لوگ زخمی ہوئے تو وہ لوگ کہاں گئے اسپتال خالی پڑے ہیں، کوئی طریقہ کار نہیں اسمبلی فلور پر کھڑے ہوکر جھوٹ بولیں۔انہوں نے کہا کہ رانا ثنااللہ نہیں نیازی سانحہ ماڈل ٹان کا ذمہ دار ہے، امن و امان کی صورتحال یہ ہے کہ پنجاب نے پچھلے سال مقابلے میں ستر فیصد جرائم میں کمی آئی، کچھ اضلاع تو زیرو کرائم ریٹ پر چلے گئے ہیں یہ کے پی کا دعوی تو کریں وہاں تو کرپشن کی داستانیں ہیں، کے پی کے لوگوں کو انہوں نے یرغمال بنایا ہوا ہے، یہ جنرل فیض جنرل باجوہ کی باقیات ہیں، کے پی حکومت میں فارم 47 والے بیٹھے ہیں جب کہ ہم سب لوگ الیکشن جیت کر آئے ہیں، تمہارا لیڈر خاتم النبین نہیں بول سکتا وہ ہمیں اسلام کا درس دیتے ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرعلیمہ خان پر 26نومبر احتجاج کیس میں فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی کل تک ملتوی علیمہ خان پر 26نومبر احتجاج کیس میں فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی کل تک ملتوی پی ٹی آئی کا نو منتخب وزیر اعلی خیبرپختونخوا کی حلف برداری کیلئے عدالت سے رجوع کا فیصلہ غزہ معاہدہ، آج صرف جنگ کا نہیں دہشت گردی و انتہا پسندی کا بھی خاتمہ ہوا، ٹرمپ کا اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب وطن عزیز میں مذہب کے نام پر جتھے بنانا اور عوام کو یرغمال بنانا توہین مذہب ہے، خواجہ آصف غزہ امن منصوبہ مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن کی جانب اہم قدم ہے: وزیراعظم چین، پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کی بہتری میں مثبت کردار ادا کرتے رہنے کو تیار ہے،چینی وزارتِ خارجہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پنجاب اسمبلی تحریک لبیک حافظ فرحت کرتے ہوئے ایوان میں پی ٹی آئی نے کہا کہ کرتے ہیں حملہ کیا انہوں نے شہید ہو رہے ہیں واک آوٹ پر بات ہیں اس کے لیے
پڑھیں:
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں میڈیا انڈسٹری، پیکا قوانین اور صحافیوں کے فلاحی امور سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں سینیٹر عبدالشکور، سینیٹر سید وقار مہدی، سینیٹر پرویز رشید اور سینیٹر جان محمد نے شرکت کی۔
کمیٹی کو این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات
کمیٹی نے فلم "بلھا" میں حضرت بابا بلھ شاہ کے امن کے پیغام کی مبینہ غلط ترجمانی کا بھی نوٹس لیا، اور مشاہدہ کیا کہ فلم نے معروف صوفی بزرگ کی پرامن تعلیمات کو مرکزی کردار کے ذریعے تشدد اور بندوقوں سے جوڑ کر مسخ کیا ہے۔ اراکین نے اس بنیاد پر سوال اٹھایا کہ سینٹرل بورڈ آف فلم سنسرز نے اس فلم کی منظوری کس طرح دی۔ اگرچہ سنسر بورڈ کے چیئرمین نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ فلم پنجاب اور سندھ کے سنسر بورڈز سے بھی منظور شدہ ہے، تاہم کمیٹی نے اس توجیہہ کو مسترد کر دیا۔ اراکین نے سنسر بورڈ کے ارکان کی تقرری کے معیار پر بھی سوال اٹھایا اور وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ اس طرح کی تقرریوں کے لیے ایک شفاف اور میرٹ پر مبنی طریقہ کار وضع کرے۔
پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا
تفصیلی غوروخوض کے بعد، کمیٹی نے سفارش کی کہ فلم "بلھا" کے پروڈیوسرز کو کہا جائے کہ وہ اس کا نام تبدیل کریں اور وہ قابلِ اعتراض مکالمہ ہٹائیں جس میں مرکزی کردار نے خود کا موازنہ بابا بلھ شاہ سے کیا ہے، بصورت دیگر فلم کی ریلیز پر پابندی عائد کی جائے جس میں یوٹیوب سے اس کا ممکنہ اخراج بھی شامل ہو۔
کمیٹی کو وفاقی حکومت کے ملازمین ہاؤسنگ اتھارٹی (FGEHA) کی طرف سے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لیے فلیٹس اور پلاٹوں کی الاٹمنٹ کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ میڈیا ورکرز کے کوٹے کے تحت الاٹمنٹ کا کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ صحافیوں کے کوٹے سے متعلق مسائل ابھی تک حل طلب ہیں۔ اس طویل تاخیر پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے، کمیٹی نے اپنی سفارشات پر عمل درآمد کی نگرانی اور مسئلے کے حل کو آسان بنانے کے لیے سینیٹرز پرویز رشید، وقار مہدی اور عبدالشکور پر مشتمل ایک مانیٹرنگ سب کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔
سینیٹر سرمد علی نے وزارت اطلاعات و نشریات کو ہدایت کی کہ معاملے کا جائزہ لینے، موجودہ پالیسی پر نظرثانی کرنے اور ایک ماہ کے اندر الاٹمنٹس کا فیصلہ کرنے کے لیے ایک ہفتے کے اندر صحافیوں کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی کا نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے۔ کمیٹی نے مستقبل کی ہاؤسنگ سکیموں میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے کوٹے میں اضافے کی بھی سفارش کی اور ایک مخصوص ہاؤسنگ لون سکیم متعارف کرانے یا موجودہ وفاقی حکومت کے ہاؤسنگ فنانس کے اقدامات کے تحت صحافیوں کو ترجیح دینے کی تجویز دی۔
پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (PID) نے بھی کمیٹی کو علاقائی اخبارات کے اشتہاری کوٹے کے بارے میں بریفنگ دی۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ موجودہ پالیسی کے تحت سرکاری اشتہارات کا 25 فیصد حصہ علاقائی اخبارات کے لیے مخصوص ہے۔ تاہم، اراکین نے اس پالیسی پر عمل درآمد نہ ہونے کی شکایات کا نوٹس لیا، خاص طور پر سندھ اور بلوچستان سے۔ قائم مقام چیئرمین نے پی آئی ڈی کو ہدایت کی کہ وہ 25 فیصد کوٹے کی سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائے، جس میں عوامی سطح پر معلومات کی ترسیل میں ان کے اہم کردار کے اعتراف میں لسانی اخبارات بھی شامل ہوں۔
کمیٹی نے ریڈیو پاکستان کے پنشنرز کو درپیش مسائل پر بھی مزید تبادلہ خیال کیا۔ یہ بتایا گیا کہ 353 کمیوٹیشن کیسز تحال زیر التوا ہیں اور ریڈیو پاکستان وفاقی حکومت کے گران্ট-اِن-ایڈ کے ذریعے چل رہا ہے۔ حکام نے کمیٹی کو یہ بھی بتایا کہ وزیراعظم پہلے ہی ریڈیو پاکستان، پی ٹی وی اور اے پی پی سے متعلقہ بقایا مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے چکے ہیں۔ قائم مقام چیئرمین نے ہدایت کی کہ ریڈیو پاکستان کے پنشنرز کے مطالبات بھی وزیراعظم کی کمیٹی کے سامنے رکھے جائیں اور اس معاملے کے جلد از جلد حل کا مطالبہ کیا۔
مزید :